سیلاب کو روکنے کے لئے بڑے ڈیم کی ضرورت

سیلاب کو روکنے کے لئے بڑے ڈیم کی ضرورت

بالائی علاقوں میں شدید بارشوں اور گلیشیر پگھلنے سے جو سیلابی کیفیت بنی اس نے آدھے سے زیادہ ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ چترال میں زیادہ نقصان ہوا لیکن دریا سندھ اور پنجاب کے دریاؤں نے بھی اپنا جوش دکھایا یوں جہاں سیلابی پانی نے شدید مالی اور جانی نقصان کیا وہاں بہت سا پانی سمندر میں بھی گیا۔ حالانکہ بند باندھے گئے ہوتے تو اسے استعمال میں بھی لایا جا سکتا تھا۔اس صورت حال نے ایک مرتبہ پھر بڑے ڈیم کی ضرورت کو اجاگر کر دیااور ماہرین کے علاوہ عوام الناس نے بھی ڈیم بنانے پر زور دیا کہ نہ صرف سیلابی پانی کو روکا جا سکے یہ ڈیم بنیادی طور پر زرعی ڈیم ہوگا جس سے سندھ اور کے پی کے کو بھی پانی ملے گا جبکہ چار ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی کا حصول ایک تحفہ ہوگا۔ہر سال جب سیلاب آتا ہے تو اس ڈیم کی ضرورت اجاگر ہو جاتی ہے حکومت اس کی تعمیر کے لئے کوشش نہیں کرتی حالانکہ ماہرین اس کے حق میں رائے دے چکے۔بہتر عمل یہ ہے کہ اب موجودہ حکومت حالیہ نقصانات کی روشنی میں بند کمرہ مذاکرات کا آغاز کرے۔ ماہرین کو بلا کر چاروں صوبوں کے نمائندوں اور اہم معترض حضرات کو مطمئن کرکے اتفاق رائے حاصل کیا جائے۔ یہ عمل ملک کی بہتری کے لئے ضروری ہے۔

مزید : اداریہ