پاکستان کا مقدمہ!

پاکستان کا مقدمہ!

وزارت خارجہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے جائیں گے تو وہ اقوام عالم سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت کا سوال اٹھائیں گے اور دنیا کے ممالک کو اعتماد میں لیں گے، پاکستان کے پاس بھارتی ایجنسی را کی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ بلوچستان میں مداخلت زیادہ کی گئی ہے۔ حکومت نے کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی کو بھی بلایا اور ان سے طویل مشاورت بھی کی۔ یوں حکومت، دفترخارجہ اور ملیحہ لودھی ایک نتیجے پر پہنچ گئے تھے، ابتدا میں یہ خیال کیا گیا کہ پاکستان کی سفیر کو یہ ذمہ داری سونپی جائے گی، پھر بوجوہ یہ فیصلہ تبدیل ہوا۔ سفیرموصوفہ نے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو خط بھی لکھا تھا، اب یہ طے ہوا ہے کہ وزیراعظم خود یہ فریضہ انجام دیں گے۔پاکستان میں را کی مداخلت اور دوسرے کئی ثبوتوں کے بعد اب تو بھارتی ڈرون بھی ایک شہادت بن گیا ہے۔ حکومت نے ماہرین سے تحقیق کرا کے یہ ثابت کر دیا کہ یہ ڈرون بھارت ہی کا تھا جسے جاسوسی کے لئے فضا میں بھیجا گیا۔ حکومت کی طرف سے ثبوت کے لئے وہ تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں جو ڈرون نے اتاریں اور ابتدائی تصویروں میں بھارتی پرچم اور مورچوں کے علاوہ پاکستان کے سرحدی علاقوں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔وزیراعظم محمد نوازشریف جب جنرل اسمبلی کے لئے جائیں گے تو مکمل تیاری کے ساتھ ہوں گے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملتا۔ جیسے اب گورداس پورہ تھانے پرحملے کے حوالے سے کیا گیا کہ سوچے سمجھے بغیر پاکستان پر الزام لگا دیا یہ بھارت کادیرینہ طرزعمل ہے۔پاکستانی قوم کی خواہش ہے کہ وزیراعظم ٹھوس دلائل کے ساتھ مقدمہ پیش کریں کہ دنیا کویہ باور ہو جائے کہ بھارت اپنے ارادوں میں ٹھیک نہیں ہے ایسے میں دوستی اور تعلقات میں خرابی کا ذمہ دار بھارت ہی ہے۔

مزید : اداریہ