پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی

پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی

سوموار کی صبح ساڑھے پانچ بجے بھارتی پنجاب کے شہر گورداسپور کے دینا نگر تھانے پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ تین دہشت گرد جنہوں نے بھارتی فوجی وردی پہن رکھی تھی اورخودکارہتھیاروں سے لیس تھے، تھانے میں داخل ہوئے۔پولیس نے مزاحمت کی تو حملہ آوروں نے تھانے سے ملحقہ کوارٹروں میں پوزیشنیں سنبھال لیں۔پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ بارہ گھنٹوں تک جاری رہی ۔اس جھڑپ میں تینوں حملہ آورتو ہلاک ہو گئے لیکن ساتھ ہی ایک ایس پی ،چار دیگر پولیس اہلکار اورتین شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انتہا پسندوں نے سب سے پہلے ایک بس پر حملہ کیا ، ایک موٹرسائیکل سوار اور دوسکول جانیوالے بچوں کوبھی نشانہ بنایا۔پاکستانی دفتر خارجہ نے اس دہشت گردی کی شدید مذمت کی، بیان کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں ہونے والی کسی بھی طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے ،،دفترخارجہ کا مزیدکہنا تھا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان ،بھارتی قوم سے اظہارافسوس کرتا ہے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کرتا ہے۔

لیکن دوسری طرف بھارتی حکام اور میڈیاتو جیسے موقع کی تاک میں بیٹھے تھے، انہوں نے بغیر کسی چھان بین اور تحقیقات کے، حملہ ہوتے ہی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی،سب نے ایک ہی راگ الاپنا شروع کر دیا کہ یہ کارستانی پاکستان کی ہے،یہی نہیں بلکہ خود ہی انہوں نے حملے کا پورا منصوبہ بھی گھڑ لیا ۔ ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور پاکستان کے علاقے نارووال سے آئے تھے، پولیس حکام نے الزام عائد کیا کہ حملہ آور دو روز قبل پاکستان سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔ پنجاب کاؤنٹر انٹیلی جنس کے آئی جی نے بغیر کسی شناخت کے بیان داغ دیا کہ حملہ آوروں کا تعلق لشکرطیبہ یا جیش محمد سے تھا۔ بھارتی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے، انہوں نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دھمکی دے ڈالی کہ وہ حملے میں پہل نہیں کریں گے، لیکن اگر ان پر حملہ کیا گیا تو مناسب جواب دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن قومی غیرت کا سودانہیں کرسکتے ، وہ یہ نہیں سمجھ پارہے کہ دوبارہ سرحد پارسے حملے کیوں ہورہے ہیں جبکہ بھارت اپنے پڑوسی سے اچھے تعلقات چاہتاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے کارکنوں نے بھی احتجاج کرتے ہوئے پاکستانی پرچم نذر آتش کردیا۔

اس کے برعکس بعض مبصرین ایسے بھی ہیں جن کا کہناتھا کہ ان حملوں کے پیچھے ’خالصتان موومنٹ ‘ کے کرتا دھرتاسکھوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے خالصتانی ایک بار پھر سرگرم ہو رہے ہیں۔اس سے قبل ’خالصتان موومنٹ‘ نے 1980 میں پنجاب میں سر اٹھایا تھا، اس تنظیم کا مطالبہ اپنی آزاد ریاست ’خالصتان ‘کاقیام ہے، اسی وجہ سے اسّی کی دہائی میں پنجاب میں بہت دنگا فساد ہوا تھا۔اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے امرتسر میں ’گولڈن ٹیمپل‘ میں موجود خالصتانیوں کونکالنے کے لئے ’آپریشن بلیو سٹار‘ شروع کرنے کا حکم دیا تھاسکھوں کے متبرک مقام کی اس بے حرمتی کی پاداش ہی میں اندرا گاندھی کے سکھ باڈی گارڈ نے انہیں قتل کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق بھارت کی مرکزی حکومت نے پنجاب کی حکومت کو بارہا خط لکھ کر متوقع خطرے سے آگاہ کر نے کی کوشش کی تھی، لیکن وہاں کی حکومت نے اس کا خاطر خواہ نوٹس نہیں لیا۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل جب اس کی طرف سے بھارتی وزیر داخلہ کو تیرہ سکھ قیدیوں کی رہائی کے لئے سفارشات بھیجی گئیں تواس فہرست میں خالصتانی شدت پسند بھی شامل تھے۔ خالصتانیوں نے اس سال بھارتی یوم جمہوریہ کو ’بلیک ڈے‘ قرار دیا تھا، انہوں نے اپنے سورگباشی رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کی برسی جوش و خروش سے منائی ۔

ان حقائق سے نظریں چراتے ہوئے بھارتی میڈیا نے حسب توفیق پاکستان پر چڑھائی شروع کر دی۔ بھارت جو اس وقت پاکستان کو امن کے راستے میں روڑے اٹکانے کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے ، در حقیقت تو وہ خود یہ کام کررہا ہے۔ روس کے شہر اوفا میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقا ت ہوئی تھی اور دونوں کے درمیان جامع مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنے پر اتفاق رائے ہوا تھا،وزیراعظم نواز شریف نے نریندر مودی کو اگلے سال پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی تھی جسے بھارتی وزیراعظم نے قبول کیا تھا۔لیکن اس کے فوراً بعد بھارت نے پاکستانی حدود میں اپنا جاسوس طیارہ بھیج دیا جسے پاک فوج نے مار گرایا۔بھارت نے تو اس طیارے سے لاتعلقی کا اظہارکر دیا لیکن آئی ایس پی آر کے تازہ بیان کے مطابق اس ڈرون طیارے کا تکنیکی جائزہ مکمل ہونے کے بعد ثابت ہو گیا ہے کہ وہ بھارت سے آیا تھا اور جاسوسی کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔ڈرون سے ملنے والی تصاویر میں بھارتی علاقے میں فوج کی موجودگی صاف نظر آئی، ٹیسٹ فلائٹ سے پہلے کی تصاویر میں بھارتی فوج کے کمپنی ہیڈ کوارٹر سمیت بھارتی چیک پوسٹ پر لگا ہوا جھنڈا واضح تھا، تصاویر میں لائن آف کنٹرول میں بھارتی علاقہ بھی نظر آ رہا تھا۔یہی نہیں بلکہ بھارتی فوج غیر معمولی نقل و حرکت بھی کر رہی ہے اور پاکستانی شہریوں کو تاک تاک کر نشانہ بنا رہی ہے۔9 جون سے اب تک بھارت جنگ بندی معاہدے کی 35 خلاف ورزیاں کر چکا ہے۔

یہ بھارت ہی تھا جس نے خارجہ سیکرٹری کی سطح پر ہونے والے مذاکرات منقطع کئے تھے، بھارت ہی نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پربلا اشتعال گولہ باری شروع کی تھی۔یہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہی تھے جنہوں نے ’ڈنکے کی چوٹ،1971ء کی جنگ میں بنگلہ دیش کے قیام میں اپنے کردار کے بارے میں ’اعتراف جرم‘ کیا تھا۔پاکستان کے پاس دہشت گردی کے متعدد واقعات میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں، بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کے پیچھے بھارتی ہاتھ ہونے کے بھی شواہد سامنے آ چکے ہیں، اس کے باوجود پاکستان کبھی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کا مرتکب نہیں ہوا۔بھارت کے پے در پے حملوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بھارت بین الاقوامی دباؤ پر مذاکرات کے لئے آمادہ تو ہو سکتا ہے لیکن اپنی فطرت سے باز نہیں آسکتا۔وہ حیلے بہانوں سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے،بھارت پر لازم ہے کہ پہلے معاملات کی اچھی طرح چھان بین کرے، پھر زبان کھولے ۔ اگر اس کے پاس اپنی بات ثابت کرنے کے لئے کوئی شواہد موجود ہیں تو دنیا کے سامنے پیش کرے،بے بنیاد الزامات لگاکر پاکستان کو سر جھکانے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی ۔

مزید : اداریہ