ایف بی آر سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریفنڈز کیس جلد سے جلد نمٹائے

ایف بی آر سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریفنڈز کیس جلد سے جلد نمٹائے

 لاہور ( کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر زور دیا ہے کہ وہ برآمدی شعبوں کے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریفنڈز کیسز جلد سے جلد نمٹائے کیونکہ ریفنڈز میں تاخیر کی وجہ سے تاجروں کو سرمائے کی قلت کا سامنا ہے،یورپین یونین کو ایکسپورٹ کرنے والے برآمد کنندگان کو یورو کی قدر میں کمی کی وجہ سے پہلے ہی بھاری نقصان کا سامنا ہے، ایسے میں ریفنڈز کلیمز میں تاخیر مرے پر سو دْرے کا کام کررہی ہے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر سید محمود غزنوی نے کہا کہ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر سے برآمد کنندگان اور مینوفیکچررز بْری طرح متاثر ہورہے ہیں اور اربوں روپے کے ریفنڈز نہ ملنے کی وجہ سے انہیں سرمائے میں کمی کا سامنا ہے جس کا نتیجہ صنعتی یونٹس کی بندش اور ورکرز کی بے روزگاری کی صورت میں برآمد ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر کاروباری افراد نے بینکوں سے قرضے لے رکھے ہیں جن کی فنانشل کاسٹ وہ بروقت بینکوں کو ادا کررہے ہیں مگر اْن کا سرمایہ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی صورت میں پھنسا ہوا ہے جس سے ان کی پیداواری لاگت میں بھاری اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریفنڈ کا عمل بہت مشکل اور طویل ہے، بعض اوقات تو کاروباری لوگوں کو اپنی ہی رقم واپس لینے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب نے کہا کہ کاروباری شعبہ پہلے ہی اندرونی اور بیرونی چیلنجز کی وجہ سے پریشان ہے جبکہ بھاری سرمایہ پھنس جانے سے اْن کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنا اور معاملات کی بہتری میں حکومت کا ہاتھ بٹانا چاہتی ہے مگر پہلے ضروری ہے کہ اس کی مشکلات ختم کی جائیں اور سہولیات مہیا کی جائیں۔ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر جیسے مسائل کی موجودگی میں کاروباری برادری اپنا کردار ادا نہیں کرسکتی۔ انہوں نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور جلد سے جلد ایکسپورٹرز اور مینوفیکچررز کے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے کے احکامات صادر کریں۔

مزید : کامرس