سرینگر‘ نوجوان کی پراسرار گمشدگی کے بعد لاش برآمد

سرینگر‘ نوجوان کی پراسرار گمشدگی کے بعد لاش برآمد

سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس( گ) نے مندرباغ سرینگر کے نوجوان کی پراسرار گمشدگی کے بعد لاش برآمد ہونے پر اپنے گہرے رنج وغم اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے اس وقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے پر زور دیا ہے۔ حریت نے مہلوک نوجوان کے لواحقین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں نوجوانوں کی گمشدگی اور پرسرار اموات پچھلے 25سال سے ایک معمول بن گئی ہیں اور آج تک ان واقعات کی کوئی تحقیقات عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ حریت نے مندرباغ کے 17سالہ نوجوان کی ہلاکت کی نوعیت پر شبہ ظاہر کیا کہ ان کے گھر سے غیر حاضر رہنے کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے اور اس کی لاش جس طریقے سے برآمد ہوئی ہے۔

وہ بھی اس معاملے کو مزید مشکوک بناتی ہے۔ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوجانی چاہیے تاکہ لواحقین کے شکوک وشبہات کو دور کیا جاسکے۔ حریت کانفرنس نے سرینگر میں نوجوانوں کے خلاف جاری کریک ڈاو4160 پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پولیس نے سعدہ پورہ عیدگاہ کے عامر سید اور بٹہ مالو کے منظور احمد خان سمیت تقریبا دو درجن نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے اور پولیس تھانوں میں ان کا تھرڈ ڈگری ٹارچر کیا جارہا ہے۔ بارہمولہ میں بھی عاشق قادر لون سمیت متعدد بچوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں بغیر کسی جواز اور وجہ کے حوالات میں بند رکھا گیا ہے۔ڈی پی ایم جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ محمدشفیع ریشی نے نوجوان کی موت کی تحقیقاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : عالمی منظر