جائز جدوجہد میں مصروف کشمیری عوام کے جذبہ مزاحمت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا حریت کانفرنس

جائز جدوجہد میں مصروف کشمیری عوام کے جذبہ مزاحمت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا ...

سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس(گ)نے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے ظالمانہ حربوں سے جائز جدوجہد میں مصروف کشمیری عوام کے جذبہ مزاحمت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا اور نہ کشمیری عوام کو ظلم و بربریت کے بل پر اپنی منصفانہ جدوجہد سے دستبردار کیا جا سکتا ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس( گ) کے ترجمان نے کولگام میں کریک ڈان کے دوران فورسز کے ہاتھوں لوگوں کو ہراساں کرنے کی مذمت کی ہے۔ حریت کانفرنس نے جنوبی کشمیر کے علاقہ ریڈونی کولگام میں سرکاری فورسز کی طرف سے علاقے میں کریک ڈاون کے دوران لوگوں کو ہراساں کئے جانے اور فورسز کی زیادتیوں کے رد عمل میں عوامی احتجاج کو طاقت کے بل پر کچلنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں تعینات فورسز خود کو حاصل بے پناہ اختیارات کا بے دریغ استعمال کر کے نہتے عوام کو اپنے مظالم کا نشانہ بناتے ہیں وہ نہ صرف حددرجہ افسوسناک ہے بلکہ کشمیری عوام کو مظالم اور مصائب کا نشانہ بنانے کی حکومتی پالیسی کا تسلسل ہے۔

ترجمان نے سرینگر اور وادی کے دوسرے علاقوں میں آئے روز نوجوانوں ، طالبعلموں اور حریت پسندوں کے گھروں پہ چھاپے ڈالنے اور ان کو گرفتار کرنے کی سرکاری کاروائیوں کو انتقام گیری سے عبارت ہتھکنڈرے قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ حکمرانوں کے ایسے ظالمانہ حربوں سے جائز جدوجہد میں مصروف عوام کے جذبہ مزاحمت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا اور نہ یہاں کے عوام کو ظلم و بربریت کے بل پر اپنی منصفانہ جدوجہد سے دستبردار کرنے کے حربے کامیاب ہو سکتے ہیں۔دریں اثنا حریت ترجمان نے مندرباغ سرینگر کے نوجوان اویس احمد ففو کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی غرقآبی کی صورت میں ہوئی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کئی روز سے لاپتہ مذکورہ نوجوان کی نعش جس طرح مشکوک حالت میں برآمد ہوئی ہے اس لئے اس واقعہ کی غیرجانبدارنہ تحقیقات اس واقعہ کی حقیقت کو منظر عام پر لانے کیلئے ضروری ہے۔ ادھر حریت کانفرنس نے ہاورہ مشی پورہ کولگام میں فوجی کریک ڈاؤن اور عوام پر تشدد ڈھانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی افواج بوکھلاہٹ کی شکار ہیں اور اسی وجہ سے وہ جموں کشمیر کے عوام پر تشدد ڈھاتی ہیں اور طاقت کا بلاجواز استعمال کرتی ہیں۔ عوامی وفود نے حریت کے مرکزی دفتر کو فوجی مظالم کی داستان سنادی کہ آج بھی علی الصبح چنی گام قیموہ کیمپ 1-RRاور9-RRنے ہاورہ ریڈونی کا محاصرہ کرکے جوانوں کو گھر سے باہر نکال کر مارپیٹ کی اور پھر گھروں میں گھس کر مکانوں کی توڑ پھوڑ کی۔ شیشے اور کھڑکیاں توڑ دی گئیں، جبکہ گاؤں کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ بیان میں کہاگیاکہ فوج نے خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، ایک سیفی (Safi)نامی خاتون کو فوجیوں نے گھسیٹا اور تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ عادل احمد ساکن کوجر اور بلال احمد ساکن ہاورہ کو گرفتار کیا گیا اور مشتاق احمد لون اور سبزار احمد لون کو فوجی تشدد میں لہولہان کیا گیا۔ حریت (گ)فورسز کی اسطرح کی ظالمانہ کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے اور اس طرح کے تشدد، ظلم وجبر اور ماردھاڑ سے لوگوں کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے، بلکہ ان مظالم سے بھارتی فورسز کے خلاف نفرت میں اضافہ ہورہا ہے ۔

مزید : عالمی منظر