ڈکیتی کی واردات ۔۔۔تفتیش کے 13سال

ڈکیتی کی واردات ۔۔۔تفتیش کے 13سال

کسی بھی ملک کی پولیس کافر ض ہوتا ہے کہ وہ شہریوں کو جان ‘مال اور آ برو کا تحفظ فراہم کرے ۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے ریاست اسے بھاری تنخواہیں اور بے شمار مراعات سے نوازتی ہے مگر جب اسی محکمہ کے ہاتھوں شہری لٹ رہے ہوں تو اسے استعارتی انداز میں کہا جاتا ہے باڑ ہی کھیت کو کھاتی جارہی ہے اس کہاوت کا آ ج کی دنیا میں ٹھیک اطلاق پنجاب پولیس پر ہوتا ہے عدالتوں کا عمل تو خیر طویل ہو تا ہی ہے لیکن ہماری پولیس تو اکثر اوقات وہاں تک نوبت پہنچنے ہی نہیں دیتی ‘مصیبت زدہ شہریوں کو سالوں تک تھانوں اور چو کیوں کے چکر لگوا لگوا کر اتنا تھکا دیتی ہے کہ وہ بالآخر مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ خاص طور سے جب کسی واردات میں اس کے اپنے ہی بھائی بندوں کا ہاتھ ہو اور افسران بھی اپنی ’’ پتیاں ‘‘ ڈکار چکے ہوں ۔اس سلسلے میں ہم یہاں ایک دردناک مثال پیش کیے دیتے ہیں۔

22اگست 2002کو رات نو بجے لاہور سے ایک ویگن (نمبرLOK 2965) مسافروں کو لے کر گوجرانوالہ روانہ ہو ئی ۔برکت ٹاؤن شاہدرہ سے تین آدمی سوار ہو ئے اور ڈرائیورکے عین عقب میں بیٹھ گئے جب ویگن مریدکے سے آ گے گجر ٹاؤن سٹاپ کے قریب پہنچی تو ان تینوں افراد نے گن پوائٹ پر ڈرائیور کو ویگن جی ٹی روڈ کے مغرب کی جانب موڑنے پر مجبور کیا سڑک سے کوئی ایک فرلانگ کے فاصلے پر جا کر ان ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر تمام مسافروں کو لوٹ لیا ۔عورتوں سے زیورات اور نقدی چھینتے ہوئے انہیں تھپڑ تک مار نے سے گریز نہ کیا ایک مسافر جو سعودی عرب میں محنت مزدور ی کر نے کے بعد پاکستان لوٹ رہا تھا اس سے25ہزار سعودی ریال چھین لیے ۔

اس واقعہ کی تفصیل سے آ پ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ خود پولیس جب ڈاکوؤں کے ساتھ مل کر واردات کر تی ہے تو وہ کن کن حربوں سے واردات کر نے والوں کو پورا پورا تحفظ فراہم کر تی ہے کیا اسے محض اتفاق سمجھا جائے کہ مذکورہ واردات کے وقت سب انسپکٹر ممتاز وڑائچ تھا نہ صدر مریدکے گشتی پولیس اوراپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ جائے وقوعہ سے چند گز کے فاصلے پر اپنی گاڑی لے کر پہنچتا ہے اور ہوائی فائرنگ شروع کر دیتا ہے ؟ صاف نظر آتا ہے کہ اس فائرنگ سے در اصل واردات کر نے والوں کو اشارہ دینا مقصود تھا کہ تم بڑی تسلی کے ساتھ واردات کر لو، تمہاری حفاظت کے لئے ہم موجود ہیں۔

اب رات کے دس بج رہے تھے ۔پولیس کی کارروائی آ گے اس طرح بڑھتی ہے کہ ممتاز وڑائچ (سب انسپکٹر ) لٹے پٹے مسافروں کو اسی ویگن میں سوار کر کے کھوڑی ناکہ پولیس کے پاس لے آ تا ہے جہاں تمام مسافروں کے نا م پتے اور لوٹی ہوئی رقم کی تفصیلی فہرست بنائی جاتی ہے۔ اس کے بعد مسافروں سے کہاجاتا ہے کہ آ پ لوگ اپنے گھروں کو چلے جاؤہم نے وائرلیس کر دی ہے ،ڈاکو کل تک گرفتار ہو جائیں گے۔

سب مسافروں سے زیادہ سعودی عرب پلٹ مسافر مصیبت زدہ تھا اسے پولیس کی ساری کارروائی بناوٹی نظر آ رہی تھی وہ احتجاج کئے بغیر نہ رہ سکا اس پر سب انسپکٹر نے تمام مسافروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے انہیں زبر دستی ویگن پر سوار کروایا ‘ساتھ دو مسلح پولیس ملازمین محمد ستار اور ارشد علی کو بھی بٹھا یا انہیں ہدایت کی کہ گوجرانوالہ پہنچ کر تمام مسافروں کو تتر بتر کر دو۔

جب ویگن کامونکے پہنچی تو مسافروں نے ڈرائیور سے کہا ہمیں تھانہ کامونکے لے چلو ۔وہاں پہنچ کر مسافروں نے اپنے نام پتے اور نقصان کی تفصیل لکھوائی۔ ڈی ایس پی کا مونکے نے مسافروں کی فہرست ویگن کے ہمراہ آ نے والے پولیس ملازمین محمد ستار اور ارشد علی کو بھی دی اور ہدایت کی کہ یہ فہرست ڈی ایس پی مریدکے کو دے دینا۔

واردات کے اگلے روز کامونکے کے دو مسافر محمد اسلم ولد محمد منشی اور محمد شفیع روزنامہ پاکستان کے نامہ نگار رانا جعفر کو ساتھ لے کر تھانہ مریدکے گئے وہاں پہنچتے ہی انہوں نے ڈکیتی کے مرتکبین میں سے ایک کو فوراً پہچان لیا وہ محمد اسلم پہلوان تھا جو ڈی ایس پی مریدکے چوہدری خالد جاوید کا گن مین تھا مسافروں نے ڈی ایس پی مذکور سے ملاقات کی اور گزشتہ رات ہو نے والی ڈکیتی کی تفصیل بیان کی۔ ڈی ایس پی نے سب انسپکٹر ممتاز وڑائچ سے پوچھا کہ رات جو ڈکیتی ہوئی ہے، اس کے بارے میں تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ سب انسپکٹر نے بے ساختہ جواب دیا: میں نے آپ کو بتایا تو تھا۔ ڈی ایس پی نے ریاکاری سے کام لیتے ہوئے اسے ہدایت کی کہ اس معاملے کو دیکھو! اس کے بعدسب انسپکٹر ہدایت نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات والا تھا۔مسافروں کو پیش کش ایسی کر نے لگے کہ جو سنے اور جو پڑھے وہ ورطہء حیرت میں پڑجائے فرمانے لگے اپنا نقصان مجھ سے پورا کر لو اور قانونی کارروائی دفع کر دو یعنی پولیس پہلے ڈاکہ ڈلوائے پھر قانونی کارروائی سے ڈ ر کر صرف دو مسافروں کا نقصان پور ا کر نے پر تیار ہو جائے۔ بہت انوکھی پیش کش تھی۔ ایک ڈاکو کو پہچاننے والے دونوں سائلین نے سب انسپکٹر سے مسافروں کی فہرست فراہم کر نے کی استدعا کی تو اس نے ایک پولیس ملازم ڈرائیور کو بلایا اور کہاان لوگوں کو گاڑی میں ڈالو اور شیخو پورہ جیل چھوڑ آؤ ۔

مذکورہ ڈکیتی کی اطلاع ایس ایس پی شیخوپورہ کو بھی دی گئی انہوں نے باز پرس کر نے کی بجائے ڈی ایس پی مریدکے کے پاس بھجوادیا ڈی آ ئی جی شیخو پورہ طارق سلیم ڈو گر تک بھی معاملہ جا پہنچا انہوں نے ایس پی انویسٹی گیشن مرزا مقبول بیگ کو انکوائری کرنے کے بعد رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔ باقاعدہ انکوائری کے بعد مرزا مقبول بیگ نے درخواست گزار کا موقف درست قرار دیا جس پر ڈی آ ئی جی طارق سلیم ڈوگر نے ایف آ ئی آر درج کر نے کا حکم دیا چنانچہ ایک سال دو ماہ کی خواری کے بعد 6اکتوبر 2003کو ایف آ ئی آر تو در ج ہو گئی مگر نہ ملزمان قانون کی گرفت میں آ ئے اور نہ کوئی نتیجہ خیز تفتیش ہو پائی ۔ایف آ ئی آر میں واردات کی جزئیات تک بیان کر دی گئیں لیکن نامزد ڈاکو اور اس کے ہمراہیوں کو بچانے کے لیے ڈی ایس پی نے نامزد ڈاکو کو سر ٹیفکیٹ عطا کر دیا کہ نامز د ڈاکو وقوعہ کی شب اس کے ساتھ ڈیو ٹی پر تھا ۔غالباً ڈی ایس پی خالد جاوید نے اس پولیس ڈکیت گینگ کو ڈکیتی کی ڈیوٹی تفویض کی تھی جو مذکورہ گینگ نے احسن طریقے سے انجام دی اور ڈکیتی کا مال فہرست کے عین مطابق ڈی ایس پی کی خدمت میں پیش کر دیا۔ مزید چھ ماہ تک بھاگ دوڑ ہوتی رہی ،جب کہیں شنوائی نہ ہوئی تو ڈی آ ئی جی شیخو پورہ کو ایک بار پھر 17اپریل کو درخواست دی گئی اور ان سے ایس پی کی سطح کے افسر سے تفتیش کرانے کی دراخواست کی گئی انہوں نے ایس پی شیخو پورہ کو رپورٹ کر نے کی ہدایت کی۔ ایس پی صاحب نے تفتیش سی آ ئی اے شیخوپورہ کو بھجوا دی جہاں منظور ایس آئی کو مار ک ہوئی مگر قانون کے ہاتھ ملزمان کے گریبانوں تک پہنچنے سے پھر بھی قاصر ہی رہے

کتنے ہی چھو ٹے بڑے دروازوں پر دھکے کھا تے کھاتے جب پورا سال گزر گیا تو 14مار چ 2015کو ایک بار پھر ڈی آ ئی جی شیخو پورہ کو درخواست دی گئی جس میں گزارش کی گئی کہ مقدمہ مذکورہ کی وہ اپنے ہاں تفتیش کرانے کا بندو بست کریں کیونکہ سائل کو شیخوپورہ جانے میں سخت دشواری تھی ‘جان کا خطرہ اس پر مستزاد !مگر اس درخواست کا بھی حسب سابق والا ہی حشر ہوا یعنی درخواست ایس پی (انوسٹی گیشن ) شیخوپورہ کو مارک کی گئی کہ وہ قانونی ایکشن لے کر 15دن کے اندر اندر رپورٹ پیش کریں ،نتیجہ صفر تھا ۔

سات ماہ مزید بیت گئے ‘درخواستیں دینے کا عمل برابر جاری رہا ۔موہوم سی امید سائلین کو دوڑاتی رہی کہ شاید ۔۔۔۔۔۔31!اکتوبر 2005 ء کو آ ئی جی پنجاب کے دروازے پر دستک دی گئی ۔بتایا گیا کہ پرچہ درج کر نے سے پہلے جو انکوائری ہوئی تھی اس میں کھل گیا تھا کہ ملزما ن پولیس ملازمین ہیں۔ یہ بھی لکھا گیا کہ پولیس ملازمین بااثر لوگ ہیں اس لیے کو ئی ملزم قانون کی گرفت میں نہیں آیا ۔الٹا سائلین کو دھمکیاں دی گئیں کہ پیروی مقدمہ سے باز آ جاؤ ورنہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے اس درخواست کا انجام بھی مختلف نہ تھا !

سائلین کے حوصلے کی داد دینی چاہیے کہ تین سال بعد بالآ خر وہ وزیر اعلیٰ کے دروازے پر بھی جا پہنچے ۔19اگست 2008کو درخواست پیش کی کہ ملزموں کی گرفتاری کا حکم صادر فرمائیں کیونکہ سائل کو اپنی جان خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے پولیٹکل سیکرٹری جناب قمر الزمان نے اپنے طویل ریمارکس کے ساتھ ڈی پی او شیخوپورہ کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر کارروائی یقینی بنائیں اور غفلت شعار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کریں۔ سائل نے ذاتی طور پر مذکورہ احکامات ڈی پی او صاحب کے دفتر میں پہنچائے کچھ دن بعد پوچھا گیا کہ درخواست کا کیا بنا ہے ؟ تو جواب ملا درخواست کا سراغ نہیں مل رہا اس کے بعد ڈی پی او شیخو پورہ نے انویسٹی گیشن ایس پی عثمان اکرم گوندل کے سپرد کر دی انہوں نے فائل ڈی ایس پی فیروز والہ کو بھیج دی چار ماہ گزر گئے نا چار 20دسمبر 2008 کو دوبارہ وزیر اعلیٰ کو درخواست دی گئی جس میں وضاحت کی گئی کہ ان کے پولیٹیکل سیکرٹری کے احکامات کا بھی مذاق اڑا یا گیا ہے کو ئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اس درخواست پر چیف منسٹر سیکرٹری کے اعلیٰ افسروں اور جناب عرفان یوسف ڈائریکٹر (پبلک افیئر ز ) نے ڈی پی او شیخو پورہ کو احکامات صادر کیے مگر کارروائی پھر بھی نہ ہو سکی ۔

سالوں تک پولیس افسروں اور صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے احکام کے پرزے اڑتے دیکھنے کے بعد صوبائی محتسب اعلیٰ پنجاب کی خدمت میں درخواست پیش کی گئی اس کے جواب میں پولیس نے موقف یہ اختیار کیا کہ اس کیس کی تفتیش دس پولیس افسروں نے کی ہے اور ملزمان کو بے گناہ قرار دیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ تفتیشی افسروں کا موقف بد نیتی پر مبنی ہے کیو نکہ کسی تفتیشی افسر نے نہ تو مسافروں کو تفتیش کے دوران بلایا اور نہ ویگن ڈرائیور کو بلا کر ملزمان کی شناخت کروائی کیونکہ و ہ بخو بی جانتے تھے کہ مسافر اور ڈرائیور ڈاکوؤں کی شناخت کر لیں گے نامزد ملزم محمد اسلم پہلوان نے جائے وقوعہ پر ویگن ڈرائیور پر وحشیانہ تشدد کیا تھا ڈکیتی کی اس واردات کے دوران ڈرائیور نے اپنی جیب میں موجو د رقم کو اپنے پاؤں تلے چھپانے کی کوشش کی تھی جسے محمد اسلم پہلوان نے دیکھ لیا اور ڈرائیور کو گاڑی سے باہر نکال کر رقم پر قبضہ کر لیا اس تشدد سے ویگن کے تمام مسافر دہشت زہ ہو گئے ۔

صوبائی محتسب نے بد نیتی پر مبنی تفتیش کر نے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا کیونکہ انہوں نے کیس کو خراب کیا تھا پولیس رپورٹ کے مطابق ان تفتیشی افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے گئے اور ممتاز وڑائچ کو جبر ی ریٹائر کر دیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ممتاز وڑائچ کو اس کیس کی بنا پر جبر ی ریٹائر نہیں کیا گیا بلکہ کرپشن ثابت ہو نے پر کارروائی کی گئی ہے ۔

صوبائی محتسب اعلیٰ نے تمام حقائق جاننے کے بعد ڈی پی ا و شیخوپورہ کو حکم دیا کہ مقدمہ کی منصفانہ تفتیش کروائی جائے تا کہ سو سائٹی کا اعتماد بحال ہو انہوں نے یہ تفتیش امتیاز بھلی ڈی ایس پی کے سپر د کی انہوں نے مدعی مقدمہ محمد اسلم کو بلایا۔ مدعی مقدمہ نے مریدکے تھانہ صدر رابطہ کیا تو اسے بتایا گیا کہ تفتیش سی آ ئی اے شیخو پورہ کر یگی وہاں رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ تفتیشی افسر کی مریدکے ٹرانسفر ہو گئی ہے مریدکے رابطہ کر نے پر معلوم ہوا کہ تفتیشی افسر دوبارہ شیخوپورہ ٹرانسفر ہو گئے ہیں۔اس طویل خجل خواری کے بعد مدعی کے بھائی نذیر انور نے ایڈوائزر پولیس ضیاء الرحمان صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر گزارش کی کہ مدعی مقدمہ محمد اسلم مظفر آباد میں دکانداری کر تا ہے اس کے لیے روزانہ تفتیشی افسر کی تلاش میں آ نا محال ہے تو ان کی ہدایت پر نذیر انور شیخوپورہ میں ڈی پی او صاحب اور تفتیشی امتیاز بھلی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا مگر تفتیشی افسر نے فرمایا کہ میں نے تفتیش فائنل کر کے مریدکے بھجوا دی ہے اب آ پ وہاں جا کر پڑھ لیں میں نے آ پ کے حق میں لکھ دیا کہ مدعی مقدمہ اگر واردات کے مزید ثبوت پیش کر دے تو انہیں بھی consider کیا جائے۔

مدعی مقدمہ کی طرف سے ایف آ ئی آ ر سے لے کر دیگر سعی میں واردات کی جزئیات تک بیان کر دی گئی ہیں لیکن بد نیت پولیس انصا ف فراہم کر نے سے گریزاں ہے جس کے لیے صوبائی محتسب کو ایک مزید درخواست دی گئی ہے جس میں ان سے انصاف کی استدعا کی گئی ہے ۔کیا صوبائی محتسب اعلیٰ پولیس ڈکیت گینگ اور اس کے سرپرستوں کا محاسبہ کر سکیں گے؟ یہ سوال وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف سے بھی ہے۔

***

مزید : ایڈیشن 2