اسلام آباد

اسلام آباد

اسلام آباد سے ملک الیاس

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد سیاسی ماحول میں جو گرما گرمی پیدا ہوئی تھی وہ اب قومی اسمبلی میں بھی پہنچ چکی ہے،حکومتی وزراء اوراراکین اسمبلی تحریک انصاف کی قیادت کوآڑے ہاتھوں لے رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے قائدین اوررہنما بھی جوڈیشل کمیشن رپورٹ کا ملبہ حکومت پر ڈالنے کیلئے ایڑھی چوٹی کازورلگارہے ہیں،ساتھ ہی ساتھ حکومت کی جانب سے آئندہ انتخابات کو ہرلحاظ سے شفاف اورمنصفانہ بنانے کیلئے انتخابی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنیکی باتیں بھی کی جارہی ہیں،وزیراعظم محمدنوازشریف نے بھی اقتدارکی بجائے اقدارکی سیاست پریقین رکھنے کی بات کی ہے ، قوم کا قیمتی وقت معمولی تنازعات میں ضائع کرنے کی بجائے سیاسی بالغ نظری اور فراخدلی کا مظاہرہ کیا جائے،انکوائری کمیشن کی رپورٹ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مینڈیٹ کی توثیق ہوئی ہے اور وہ آئین، اداروں کے استحکام اور بہتر اسلوب حکمرانی کے لئے کام کرتی رہے گی،اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو فراخدلی اور سیاسی بالغ نظری کامظاہرہ کرنا چاہیے یہ نہایت موزوں وقت کے کہ تمام سیاسی جماعتیں جمہوری عمل کو تقویت دینے پر اپنی توانائیاں صرف کریں لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں کیونکہ حکومت اور تحریک انصاف دونوں میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ،تحریک انصاف کی قیادت نے عمران خان کے معافی مانگنے کامطالبہ یکسر مسترد کرکے وزیراعظم سے قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا ساتھ ہی ساتھ الیکشن کمیشن کے ذمہ داران سے مستعفی ہونیکا مطالبہ بھی کیا اس پر الیکشن کمیشن کا جواب بھی آگیا کہ انکا کوئی ایک افسر بھی مستعفی نہیں ہوگا، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف کاکہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف صبر والے ہیں‘ اس لئے خدا نے انہیں الیکشن میں بھی سرخرو کیا اور اب جوڈیشل کمیشن میں بھی سرخرو ہوئے‘ اب ہمیں سیاسی مفادات کو چھوڑ کر ملکی مفادات کے بارے میں سوچنا ہوگا‘ پاکستان کے عوام ذہنی طور پر بالغ ہیں وہ سیاستدانوں کی غلطیوں پر ان کا محاسبہ کرنا جانتے ہیں۔

جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کی جو پاسداری نہیں کرتا ان کی اپنی مرضی یہ عمران خان کے منفی رویہ کی عکاسی ہے‘ ہم نے نظام کو بچانے کے لئے جوڈیشل کمیشن تحریک انصاف کی ایماء پر بنایا۔ انتخابات میں 200 سیٹیں حاصل نہیں کر سکے اس لئے دھرنا دیا‘ اب پھر جوڈیشل کمیشن کے فیصلے پر بیانات داغ رہے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ کے رہنما رکن اسمبلی دانیال عزیز نے بھی تحریک انصاف پر خوب طنز کے نشتربرسائے انکا کہناتھا کہ تحریک انصاف قوم سے معافی مانگے، عمران خان قلابازی خان نہ بنیں، بات بات پر اپنے موقف سے ہٹ جانے کی روش ترک کر دیں، جوڈیشل کمیشن بناتے وقت معاہدہ ہوا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ کو قبول کیا جائے گا مگر اب عمران خان اور پی ٹی آئی ماننے سے انکار کر رہی ہے، پی ٹی آئی نے اگر منفی سیاست کی تو پارلیمنٹ سے باہر پھینک دیں گے مگر پی ایم ایل این جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، ہماری پارٹی میں جذباتی لوگ بھی ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو پارلیمنٹ سے نکال کر عوام کے پاس بھیج دیا جائے۔فیصلے کو ماننے کی دستاویز پر جہانگیر ترین ، شاہ محمود قریشی، اسحاق ڈار اور پرویز رشید کے دستخط موجود ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے تیار کردہ ڈرافٹ اور دستخطوں سے پی ٹی آئی منحرف ہو رہی ہے، دھرنوں کے دوران پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا، سابق چیف جسٹس، نجم سیٹھی اور نجی ٹی وی پر الزامات لگائے، تحریک انصاف کمیشن میں دھاندلی کے ثبوت پیش نہیں کر سکی، تحریک انصاف کو جہاز گروپ نے ہائی جیک کیا ہوا ہے جو جماعت انصاف کے نام سے جانی جاتی ہے وہ انصاف سے منحرف ہو رہی ہے، ذاتی عناد اور ضد کی وجہ سے عمران خان اکیلے رہ گئے ہیں،اگر عمران خان نے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تو پی ٹی آئی کو اسمبلی سے باہر کر دیا جائے گا، وزیر اعظم نے درگزر کا پیغام دیا ہے ورنہ جذبات ہمارے بھی ہیں۔

تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں حکومتی حملوں کاجواب دیا،شاہ محمود قریشی نے نان سٹاپ تقریر کی اور اس دوران وہ سپیکر کے باربار ٹوکنے پر بھی نہیں رکے انکا کا کہنا تھا کہ معاہدے کا احترام کرنا چاہتے ہیں، ہمارا مستقبل اسی میں مضمر ہے، مستقبل کو اچھا بنانے اور فائدہ اٹھانے کیلئے کمیشن کی رپورٹ کو عوامی دستاویز بنانے پر اتفاق کیا، کمیشن کی رپورٹ پر رد عمل اور مایوسی اور جشن سب پر ایک مثبت پیش رفت ہے، ہمیں ان باتوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف بھی ماضی میں انتخابات کے انعقاد پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے، ماضی میں بھی الیکشن کمیشن پر الزامات لگتے رہے ہیں،2013 کے انتخابات پر صرف پی ٹی آئی نے اعتراضات نہیں اٹھائے بلکہ 21سیاسی جماعتوں نے اعتراضات اٹھائے ، پی ٹی آئی نے باامر مجبوری دھرنے کا اور احتجاج کا راستہ اختیار کیا، دو سال ضائع نہیں ہوئے ہم نے عوام میں شعور پیدا کر کے عوام کی خدمت کی ہے، کمیشن نے پی ٹی آئی کی طرف سے کمیشن کے قیام کو جائز قرار دیا، عدالتی کمیشن کی تشکیل میں اسحاق ڈار کا کردار مثبت اور قابل تحسین تھا، کمیشن کی تشکیل پر دھرنے کے بارے وزیراعظم سے معافی کا مطالبہ عمران خان سے معافی کے مطالبے کا ردعمل تھا، اگر معافی مانگنی ہے تو ہم سب کو پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے، کمیشن کا فیصلہ ہم سمیت پوری قوم نے تسلیم کیا، کمیشن کا فیصلہ ایک تاریخی دستاویز ہے کیونکہ اس میں الیکشن کمیشن کی ناکامی سامنے لائی گئی، عمران خان نے کمیشن کو اور چیف جسٹس کو خراج تحسین پیش کیا، اگرچہ ہماری پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شاید ہم کمیشن کو قائل نہیں کر سکے، انتخابی اصلاحات ہی واحد راستہ ہیں، آئیے مل کر قوانین بہتر بنائیں اور آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن تشکیل دیں، اس مقصد کیلئے حکومت کے ساتھ بیٹھنے اور تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں، چاروں الیکشن کمیشن کے ممبران کو خود اپنے بارے کوئی فیصلہ کرنا چاہیے ، انہیں خود سٹپ ڈاؤن کرنا چاہیے۔تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو اس وقت ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ایک دوسرے سے معافی منگوانے کے بجائے صبر وتحمل سے کام لیتے ہوئے جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اگر جمہوریت ملک میں مضبوط ہوگی تو سیاست اورسیاسی جماعتیں بھی ہوں گی اگر جمہوریت نہ رہی تو پھرسیاسی جماعتیں کہاں کھڑی ہوں گی۔

مزید : ایڈیشن 1