کراچی

کراچی

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں شدید بارشوں کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ البتہ گدو اور سکھر بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ تاہم کراچی میں ہلکی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس نے بارشوں سے نمٹنے کے تمام محکموں اور ترقیاتی کاموں کا بھرم کھول کر رکھ دیا ہے کمشنر کراچی جناب شعیب احمد صدیقی نے کراچی کے تمام برساتی نالوں پر قائم تجاوزات کی لیز منسوخ کر کے تجاوزات کو ہر صورت خالی کروانے کا حکم دیا ہے اگر وہ یہ کام کروانے میں کامیاب ہو گئے تو تاریخ میں نام لکھوا لیں گے۔

ملک بھر کی طرح سندھ خصوصاً کراچی میں بھی سب سے زیادہ زیر بحث موضوع تو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے فیصلہ کا وہ حصہ ہے جس میں کمیشن نے جناب عمران خان کے 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور مینڈیٹ چرانے کی منظم سازش کے تین متعین الزامات کو مسترد کر کے انتخابات کے مینڈیٹ کو قانون کے مطابق جائز ہونے کی توثیق کی ہے۔ معاہدے کے مطابق کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کرنے کے نہ صرف جناب عمران خان اور جناب میاں نوازشریف پابند تھے بلکہ سندھ اور بلوچستان میں برسر اقتدار جماعتوں کے قائدین نے بھی تسلیم کرنے کی ضمانت دے کر ’’دھاندلی، منظم سازش، اور مینڈیٹ چرانے کے الزامات‘‘ ثابت ہونے کی صورت میں اپنی اپنی صوبائی حکومتیں توڑنے اور نئے انتخابات میں جانے کے فیصلے کی پابندی کرنے کی حامی بھری ہوئی تھی۔ اس لئے ملک کی کسی سیاسی جماعت کے لئے اس فیصلہ سے انحراف کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ زمینی حقائق سے نابلد خواہشوں اور اپنے اپنے تعصبات کے اسیر رہنے والوں کی بات الگ ہے۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ جناب عمران خان نے کمیشن کی رپورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کر کے ہی تو اسمبلیوں میں جانے کا اور دھرنا نہ دینے کا اعلان کیا تھا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف جناب سید خورشید شاہ کی تجویز پر کمیشن کی رپورٹ اور وہ معاہدہ جس کے بعد کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والی دونوں جماعتوں مسلم لیگ (ن) کے نمائندے جناب اسحاق ڈار اور تحریک انصاف کے نمائندے جناب شاہ محمود قریشی نے اسمبلی کے معزز فلور پر کھڑے ہو کر فیصلہ کو من و عن تسلیم کرنے اور جلد از جلد انتخابی اصلاحات کے پیکج کو مکمل کرنے کا عہد کیا ہے تاکہ آنے والے بلدیاتی انتخابات ہوں یا 2018ء کے عام انتخابات یا درمیان میں کسی ضمنی انتخاب کا مرحلہ ہو وہ ایسے خود مختار اور با اختیار الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی ہو سکیں۔ جس پر کوئی فریق بھی شکوک و شبہات کی گرد اُڑانے کی ہمت و جرأت نہ کر سکے۔ اب وقت آ گیا ہے، انتخابی اصلاحات کے پیکج میں وہ تمام سقم دور کر دیئے جائیں۔ کہ اٹھاوریں آئینی ترمیم کرتے وقت وقتی سیاسی مصلحتوں اور گروہی مفادات کی خاطر چیف الیکشن کمشنر کے پاس وہ اختیارات بھی نہیں رہنے دیئے گئے تھے جو قبل ازیں پاکستان کے ہر چیف الیکشن کمشنر کے پاس ہوا کرتے تھے۔ انتخاباتی اصلاحات کے پیکج میں بھارت کی طرح چیف الیکشن کمشنر بھی انتظامی صلاحیت کا حامل ایسا شخص ہو۔ جو وزیر اعظم کو بھی انتخابی قوانین اور قاعدے قانون کے منافی کام سے روکنے کی اس طرح کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہو جیسی صلاحیت کا مظاہرہ ایک بار بھارت کے چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد وزیر اعظم نرسیما راؤ کو سرکاری جہاز سے انتخابی مہم میں جانے سے یہ کہہ کر اتار لیا تھا۔ اب آپ پرائیویٹ جہاز کرایہ پر لے کر جائیں اور انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم کسی پروجیکٹ کا افتتاح یا سنگ بنیاد رکھنے کا بھی مجاز نہیں ہے۔

وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد قوم کے نام نشری خطاب میں ماضی کو فراموش کر کے آگے بڑھنے کی جو بات کی ہے۔ اس سے ان کے سیاسی قد اور نیک نامی میں اضافہ ہوا ہے۔ جناب عمران خان بھی کمیشن کی رپورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتے وقت اگر مگر کی بات نہ کرتے تو مستقبل کے سیاسی منظر نامہ کے لئے بڑا سنگ میل ثابت ہوتا۔ تاہم یہ بھی غنیمت ہے کہ انہوں نے رپورٹ کو مسترد نہ کرنے کا اعلان کر کے سیاسی بساط لپیٹنے کے خواہش مندوں کی امیدوں کو چکنا چور کر کے تبدیلی کے لئے سیاسی عمل کا حصہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے اثرات ہماری سیاست کے لئے نہایت صحت مند رجحان کے فروغ کا سبب بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے دونوں طرف کے قائدین اپنے اپنے ’’زبان درازوں‘‘ کو سیاسی بیان بازی میں مناسب الفاظ کے چناؤ کا سلیقہ سیکھنے کی ہدایت کر دیں۔ تاکہ ٹاک شوز میں ہمہ وقت جنگ و جدل کا ماحول ختم ہو سکے۔ تب ہی اس صورت حال سے نکلنے کے لئے مل جل کر آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہو سکے گی جس کی طرف جناب وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں اشارہ کیا ہے۔ اس کے بعد ہی ہم بہ حیثیت قوم ان داخلی اور خارجی خطرات سے باہر نکلنے کی توقع کر سکتے ہیں جن سے وطن عزیز دو چار ہے۔ پاکستان سیاسی عمل کے ذریعہ وجود میں آیا تھا اور اس کے استحکام اور بقا کا راز بھی صحت مند سیاسی عمل کے فروغ میں ہی مضمر ہے۔ اس بنیادی حقیقت کا ادراک ایوان اقتدار میں متمکن شخصیات کو بھی ہونا از بس ضروری ہے اور ان ساری سیاسی قوتوں کو جو ایوان اقتدار میں متمکن ہونے کی خواہش مند ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات یہ طے کر دیں گے کہ آیا ہماری سیاسی جماعتیں اور حکومتیں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے اس حصہ پر عمل درآمد کرنے کی اہل ہیں یا نہیں؟ جو صاف شفاف آزادانہ غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی کمزوریوں کو دور کرنے کے حوالے سے نشان دہی کی گئی ہے، یہ درست ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات میں ریاستی مشینری کے ذریعے منظم دھاندلی کی سازش اور کسی کا مینڈیٹ چرانے کا الزام ثابت نہیں ہوا ہے اور حقیقت میں ایسا تھا بھی نہیں۔ تاہم 1970ء کے عام انتخابات سے لے کر 2013ء تک کے تمام انتخابات کے بارے میں یہ کہنا کسی کے لئے آسان نہیں ہے کہ وہ بالکل مکمل صاف شفاف آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تھے۔ پاکستان کی مقتدر قوتوں نے ماضی میں پری پول رگنگ اقتدار پر متمکن لوگوں کے لئے بھی ہے۔ اور ان کی جگہ مسند اقتدار پر لانے کے لئے اپنی تخلیق کردہ نئی سیاسی جماعت اور نئے قائد کے لئے بھی کی جاتی رہی ہے۔

بزرگ سیاست دان سردار شیر باز خان مزاری نے بھی اپنی کتاب میں ان شخصیات کا ذکر کیا ہے اور اب بہت سے دیگر شواہد بھی ایسے سامنے آ چکے ہیں جو طاقت وروں کے سارے ادوار کے کھیلوں کو طشت ازبام کرتے ہیں۔ البتہ پری پول رگنگ کے بعد ڈے آف پول رگنگ کے ذریعے ریاستی مشینری کے استعمال کے ذریعے کھیل کھیلا تو عوام کا مینڈیٹ چرانے پر عوام نے تاریخ ساز تحریک چلائی ہے۔ 1965ء کے صدارتی انتخابات میں مشرقی پاکستان میں فوجی حکمران جنرل ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ مادر ملت فاطمہ جناح کو قریب قریب ایسی ہی کامیابی ملی تھی جیسی 1970ء کے عام انتخاب میں عوامی لیگ کے شیخ مجیب اللہ الرحمن کو، ایوب خان نے بانع رائے دہی کا نظام جو 1956ء کے دستور میں طے کر دیا گیا تھا ختم کر کے بی ڈی سسٹم کا نظام رائج کیا۔ جس میں چالیس ہزار بی ڈی ممبر مشرقی پاکستان سے اور چالیس ہزار بی ڈی ممبر مغربی پاکستان کے صدر اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو منتخب کیا کرتے تھے۔ مشرقی پاکستان میں 1965ء کے صدارتی انتخابات میں مادر ملت کو 30 ہزار سے زائد بی ڈی ممبران نے ووٹ ڈالے تھے اور مغربی پاکستان میں سندھ کے تمام بڑے شہروں میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ، ایوب خان کے مقابلے میں جیت گئی تھیں۔ مگر ریاستی مشینری کے ذریعہ ایوب خان کی جیت پر سید ضمیر جعفری (مرحوم) نے 65 کی اپنی ڈائری جو پہچان کا لمحہ کے نام سے شائع شدہ ہے۔ جنوری 1965ء کی ڈائری میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا۔

’’ایوب خان جیت گیا اور ملک ہار گیا۔‘‘

اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو نے 1977ء کے عام انتخابات میں پر ی پول رگنگ کے بعد ڈے آف پول رگینگ کے ذریعے فتح حاصل کی تو قوم اس کو ہضم نہیں کر پائی تھی۔ یہ وہ سبق ہے جس سے سب کو سیکھنا چاہئے کہ منظم دھاندلی اور مینڈیٹ جب چرایا جاتا ہے تو قوم کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ عوام کو پری پول رگینگ سے بھی ڈے آف پول رگنگ اور پوسٹ آف پول رگنگ سے بھی آزاد ، پاک صاف الیکشن کی ضرورت ہے ۔

مزید : ایڈیشن 1