لاہور

لاہور

لاہورسے چودھری خادم حسین

گورداسپور(بھارت) میں پولیس سٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے کے فوراً بعد کسی تحقیق کے بغیرپاکستان پرالزام لگا دیا گیا، حالانکہ ان سطور کے لکھے جانے تک بھی مقابلے میں مارے جانے والے تینوں دہشت گردوں کی شناخت تک نہیں ہو سکی۔ بہرحال اس دہشت گردی کے نتیجے میں روائتی الزام کے بعد پاکستان کے شہروں میں بھی حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیئے گئے کہ کہیں الزام کے پردے میں بھارت ہی کی طرف سے کوئی شرارت نہ ہو یا پھر دہشت گرد اس کشیدگی کو بہتر جان کر اپنی کوئی کارروائی نہ کر دیں۔ ابتدائی طور پر ناکوں میں اضافہ کر دیا گیا اور جانچ پڑتال پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے، اس سلسلے میں اعلیٰ حکام کی توجہ اس طرف دلانا ضروری ہے کہ اس مقصد کے لئے ڈیوٹی کے فرائض انجام دینے والوں کی بھی پڑتال کر لیا کریں اور چست اہل کاروں کو یہ فرائض سونپیں، یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ جانچ پڑتال کے پردے میں موٹرسائیکل سواروں کی شامت نہ آئے اور ان سے نذرانہ لینے کا سلسلہ بھی شروع نہ کیا جائے۔

لاہور میں عدالتی لڑائی میں کامیابی حاصل کر لینے کے بعد ایل ڈی اے نے قرطبہ چوک سے لبرٹی راؤنڈ اباؤٹ تک سگنل فری منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے درخت لگانے اور پیدل سڑکیں عبور کرنے والوں کی سہولت کا بھی ذکر کرکے ہدایت بھی کی ہے ۔حکام نے یہ منصوبہ چھ ماہ میں مکمل کرنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ہاں کر دی اور کام شروع ہے۔ شادمان چوک انڈر پاس کے لئے سروس روڈ اور دوسرے حصے میں کام جاری ہے اور ٹریفک کے لئے متبادل راستے منتخب کرکے بتا دیئے گئے ہیں، تاہم عبوری طور پر جتنے ٹریفک وارڈنز مانگے گئے اتنے مہیانہیں کئے گئے ۔ بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ زیادہ تعداد میں وارڈنز مقرر کئے جائیں جو ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے آپس میں بھی رابطے رکھیں ان کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کی مشکلات میں زیادہ سے زیادہ کمی ہو، ضروری ہے کہ نہ صرف تعداد زیادہ ہو بلکہ یہ حضرات کناروں پر کھڑے ہونے کی بجائے ٹریفک کو رواں رکھنے کے لئے کنٹرول تو کریں۔

تاجروں کے مطالبے اور ہڑتال کا ذکر پھر کرتے ہیں کہ اس وقت بارش نے توجہ مبذول کرالی ہے، اس مرتبہ ساون کھل کر برسا جل تھل کر دیا اور ساتھ ہی انتظامیہ کی کارکردگی کا پول بھی کھول دیا، واسا کی طرف سے نالوں کی صفائی کے دعوے کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ جمع پانی ماضی کی نسبت کم وقت میں نکال دیا گیا، لیکن حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے ہوا یہ کہ ہر اس مقام پر پانی کھڑا ہوا جہاں پر بارش کے موقع پر ہوتا ہے، اس بار زور سے مینہ برسا تو پانی کی سطح بھی بلند تھی، شہر وینس بن گیا تھا یوں واسا کے دعوے اس پانی نے غلط ثابت کر دیئے۔ ہر سال پانی جمع ہوتا اورہر بارش کے موقع پر یہی کچھ کیا جاتا ہے، لیکن پانی جلد خارج کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ پانی کیوں جمع ہوتا اور اس کے اخراج میں رکاوٹیں کیا اور کیوں دور نہیں ہوتیں اس پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ لاہور کے سٹارم واٹر چینل (تمام برسانی نالے) سیور بنا دیئے گئے اور یہ تجاوزات کی زد میں ہیں۔ تجاوزات ختم نہ کرا سکنے کی سزا شہریوں کو دی جا رہی ہے اوریہ مستقل روگ ہے اس کا مستقل حل تلاش نہیں کیا جاتا۔

حکومت نے تاجروں کو دو دھڑوں میں تو تقسیم کرا لیا اور ایک دھڑے کی پذیرائی بھی کی لیکن ان کی بات نہ مان کر عزت افزائی نہیں کی گئی وزارت خزانہ نے حزب اختلاف کے بائیکاٹ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور فنانس بل کسی بحث کے بغیر منظور کرا لیا، اس بل میں جو ٹیکس تجویز کئے گئے وہ پارلیمنٹ میں زیر غور نہ آئے چنانچہ بعد میں پرت کھلتے رہے جیسے موبائل اور انٹرنیٹ پر اضافی ٹیکس ہے اور جیسے بنک ٹرانزیکشن پر 0.6فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لگایا گیا ہے۔ یہ ٹیکس پچاس ہزار روپے اور اس سے زیادہ کی ہر ٹرانزیکشن پر عائد ہوگا، اکاؤنٹ ہولڈر رقم جمع کرائے تب اور جب نکلوائے تب پھر یہ کٹوتی ہوگی اور دہرا تہرا ٹیکس دینا پڑے گا۔ تاجر حضرات نے اسے تسلیم نہیں کیا کہ پہلے ہی سے انکم ٹیکس موجود ہے تو پھر ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کی آڑ میں بنکوں سے لین دین میں کیوں ایسا کیا جا رہا ہے۔تاجروں کا یہ بھی موقف ہے کہ یہ ود ہولڈنگ ٹیکس تو نہ معلوم کہاں کہاں وصول کیا جاتا ہے حتیٰ کہ بجلی کے بلوں پر بھی لاگو ہوتا ہے اور جہاں کہیں ایڈجسٹمنٹ کی سہولت ہے وہاں محکمہ والے تعاون نہیں کرتے۔ تاجروں نے ہڑتال کا اعلان کیا تو حکومت نے انجمن تاجران پاکستان کے صدر اور سیکرٹری جنرل کے اختلاف کا فائدہ اٹھایا اور سیکرٹری جنرل والے دھڑے سے مذاکرات کرکے عبوری طور پر 30ستمبر تک یہ شرح 0.3کر دی لیکن انہی تاجروں نے جب کنونشن بلایا تو سب نے ٹیکس کو مسترد کر دیا اور مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں یکم مارچ کو ہڑتال کا اعلان کیا۔ دوسرے دھڑے (صدر خالد پرویز والا) نے پہلے ہی 5اگست کی ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے اور ان کو حمایت بھی زیادہ حاصل ہے۔ توقع کے مطابق پھر مذاکرات کئے گئے فیصلہ نہ ہوا، فیڈرل بورڈ والوں نے ٹیکس واپس لینے سے انکار کر دیا کہ یہ بہت آسان ذریعہ آمدنی ہے۔ چنانچہ حکومتی دھڑے کو بھی شٹر ڈاؤن ہی کا اعلان کرنا پڑا، اب یکم اگست کو سیکرٹری جنرل والے اور پانچ اگست کو صدر کے دھڑے والے ہڑتال کر رہے ہیں۔ محترم اسحاق ڈار کو یہ ٹیکس واپس لے لینا چاہیے کہ یہ بنکوں کے لئے بھی مفید نہیں کاروبار ہنڈی کی طرف منتقل ہو جائے گا ہم نے عرض کیا تھا کہ مذاکرات میں ہر نمائندہ تنظیم کو بلایا جائے۔

مزید : ایڈیشن 1