ملتان

ملتان

گذشتہ عام انتخابات سے پہلے ووٹرز خصوصاً نوجوانوں میں یہ تاثر یقین میں بدل چکا تھا کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے مسلسل اقتدار میں رہنے کیلئے 2008 ء کے انتخابات سے پہلے میثاق جمہوریت کے نام پر گٹھ جوڑ کر لیا تھا جس کے تحت وفاق ، بلوچستان اور سندھ میں پیپلز پارٹی خود صاحب اقتدار ہو گئی خیبر پختونخوا اے این پی کے ہاتھ لگا جبکہ ملک کے 70فیصد وسائل رکھنے والا پنجاب میاں برادران کو سونپ دیا گیا اور پھرعین میثاق جمہوریت کے تحت ’’جمہوریت ‘‘ ’’جمہوریت‘‘ کا کھیل شروع کر لیا گیا یہی وجہ تھی کہ پسے ہوئے عوام نے تیسری قوت کی طرف دیکھنا شروع کردیا جو عمران کی تحریک انصاف کی صورت میں موجود تھی جس کیلئے خاموش ووٹرز کی ایک بڑی تعدادنے مختلف میڈیا کے ذریعے یہ عندیہ دینا شروع کردیا کہ اس کی مرتبہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو اس تعداد میں ووٹ نہیں پڑیں گے ، جس کی وہ توقع کرتے رہیں ہیں۔ عوامی رجحان اور پھر اسٹیبلشمنٹ کے واضح جھکاؤ کو دیکھتے ہوئے سیاست کے بڑے بڑے برج بھی تحریک انصاف کی کشتی میں سوار ہونے لگے اور تاثر یہ قائم ہو رہا ہے تھا کہ اس بار تحریک انصاف شائد پورے ملک میں 1970 ء کی طرح کلین سوئپ کرے گی لیکن سیاست میں نوواردگی اور یہ 1970ء فیصلہ خود کرنے کا عمران خان کو ایک بڑی سیاسی بلندی سے نیچے لے کر آیا لیکن انہوں نے اس شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے ساتھ حکومت کے خاتمے کیلئے دھرنا بھی دے دیا اور پھر خود ہی نادیدہ قوتوں کے کہنے پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے معاہدہ کرکے نہ صرف دھرنا ختم کردیا بلکہ یہ اعلان بھی کردیا کہ اس معاہدے کی رو سے تشکیل پانے والے جوڈیشل کمیشن کے فیصلہ کو ہر صورت میں تسلیم کر لیں گے اس دوران نہ صرف عمران خان خود بلکہ اس کے وکلاء بھی مذکورہ جوڈیشل کمیشن کو دھاندلیوں کے خاطر خواہ ثبوت جمع نہ کراسکے اور یوں جوڈیشل کمیشن نے عام انتخابات میں کسی بڑی منظم دھاندلی کو ماننے سے انکار کردیا اور تحریک انصاف کا حکومت کیخلاف دھاندلی بارے ایک بڑا موقف بالکل ہی ختم ہو گیا جس کے بارے میں عمران خان اور ان کی جماعت کے دوسرے رہنما ء مختلف قسم کے بیانات دیتے پھر رہے ہیں لیکن حقیقت میں اس وقت تحریک انصاف سیاسی طور پر پستی کی طرف رواں ہو چکی ہے اور جنوبی پنجاب کے کئی اہم سیاسی رہنماؤں نے فی الحال تحریک انصاف میں شمولیت کا ارادہ موخر کردیا ہے ، حالانکہ ان رہنماؤں کی بات چیت مکمل اور سیلاب کے اترنے سے پہلے انہوں نے شمولیت کا اعلان کرنا تھا۔

دوسری طرف عین دھرنے کے درمیان بوجوہ تحریک انصاف کوخیرباد کہنے والے لیجینڈ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان پر سخت تنقید کی ہے اور میاں نواز شریف کی حکومت کو سیاسی طور پر مضبوط بنانے کا ذمہ دار بھی قرار دیا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات میں جن بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اس کے ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں کٹہرے میں لایا جائے مخدوم جاوید ہاشمی کا عمران خان کے بارے میں کہناتھا کہ انہیں یعنی عمران خان کو استعمال کیا جارہا ہے اور اب استعمال کرنیوالوں نے مطلب نکالنے کے بعد ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا ہے جبکہ کمیشن کے فیصلے سے میاں نواز شریف سیاسی طور پر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرے ہیں جس سے یہ گمان بھی پیدا ہو رہا ہے کہ شائد وہ اگلے پانچ سال بھی حکومت میں ہی رہیں گے ، تاہم عدالتی کمیشن کے فیصلے سے جمہوریت کے بنیادی تصور کو تقویت ملی ہے کہ جیسا کہ یہ انتخابات کے بعددھاندلی کے شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں اس مرتبہ مخدوم جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کے دھرنے کو بھی ایک بڑی ساز ش قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ عمران خان اس سازش کا ایک چھوٹا سا حصہ تھے جبکہ اصل قوتیں اور محرکات کچھ اور تھے اب یہ محرکات اور قوتیں کون تھیں یہ تو آنیوالے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس سے تحریک انصاف کیلئے سیاسی طور پر منفی تاثر ابھر رہا ہے ۔

خیبرپختونخوا کے حلقوں سے پانی کارخ ہمیشہ جنوبی پنجاب کا رخ کرتا ہے اور ہمیشہ تباہی ہی پھیلاتا ہے اور یہ تباہی اس علاقے کے باسیوں کیلئے قدرت کی طرف سے نہیں بلکہ سیاستدانوں کی طرف سے لکھی جا چکی ہے جو اپنی سیاسی چالوں اور اقتدار میں رہنے کیلئے دراصل میثاق جمہوریت کی طرح یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ کالا باغ ڈیم سمیت ان علاقوں میں کوئی دوسرا ڈیم تعمیر نہیں ہوگا اور اگر ڈیم تعمیر نہیں ہوگا تو اندھا پانی اپنے راستے میں آنیوالی ہر رکاوٹ کو روند ڈالے چاہے معصوم انسان ہی کیوں نہ ہوں تباہی پھیلائے گا قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ غربیوں کی سال بھر کی جمع پونجی اور کچے مکان بھی بہا لے جائے گا اور حکمرانوں کی اس تباہی کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے نظارہ دیکھانے کا سبب بھی بنے گا لانگ شو پہن کر ایک فٹ پانی میں گھس کر تصویریں بنوانے کا مواقع بھی فراہم کرے گا ، ایک وقت کی آدھی روٹی تقسیم کرنے کی تصویر بھی بنوانے کا اور ان تمام باتوں سے زیادہ پولیس ، سول و ڈسٹرکٹ انتظامیہ ، محکمہ انہار اور قدرتی آفات سے نبٹنے والے اداروں سمیت ہزاروں افسران کی دولت میں مزید اضافے کا بھی باعث بنے گا ریلیف اور ریسیکو بھی انہوں نے ہی کرنا ہے ) یعنی یہ سرکار اور سرکاری اداروں کیلئے باعث رحمت بن چکا ہے جبکہ اس سیلاب کے اصل متاثرین کیلئے تو یہ پہلے ہی باعث زحمت اور عذاب تھا۔

مزید : ایڈیشن 1