پشاور

پشاور

بابا گل سے

عیدالفطر کے ساتھ ہی امڈنے والا سیلاب ابھی تک ہرطرف تباہی وبربادی کا سامان بن رہا ہے بالائی علاقوں میں گلیشئر پگھلنے اور مسلسل بارشوں نے چترال کو بری طرح متاثر کیا چترال کا انفراسٹرکچر مکمل طورپر تباہ ہوگیا کئی دیہات مکمل طور پرصفحہ ہستی سے مٹ گئے 50 کے لگ بھگ لوگ سیلابی ریلوں میں بہ کراپنی زندگی سے گئے پشاوراور چارسدہ میں بھی سیلاب نے جی بھر کر تباہی کی اس مرتبہ محکمہ موسمیات کی طرف سے پیشگی اطلاع اوروارننگ جاری ہونے کے بعد صوبائی حکومت اوراضلاع کی انتظامیہ پوری طرح متحرک رہی پاک فوج کو بھی قبل از وقت الرٹ رکھا گیا اس طرح پیش بندی کے نتیجہ میں حکومت اور ریاستی ادارے مشتعل پانی کا غصہ کم یا کنٹرول تو نہ کرسکے لیکن اتنا ضرور ہے کہ انسانی جانوں کا ضیاع کم سے کم سطح پر لانے میں کامیاب رہے یہ ایک بہت بڑی کامیابی اورغیر معمولی بات ہے کہ پیشگی موثر حکومت عملی کے باعث سینکڑوں لوگ موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے اور ان کے اثاثے بھی ضیاع ہونے سے بچا لیئے گئے انفراسٹراکچر کی بحالی اورتباہ شدہ مکانات کی بحالی کیلئے صوبائی حکومت نے خطیر فنڈ مختص کرکے ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کردیا ہے۔ وزیر اعلی پرویز خٹک اپنی کابینہ کے وزراء اور مشیروں سمیت سیلاب سے متاثر علاقوں خصوصاچترال میں ہمہ وقت موجو رہے صوبے کی اہم شخصیات کے متحرک ہونے کے باعث متعلقہ محکموں کے اعلی افسران اوراہلکار بھی ہر جگہ متحرک نظر آئے یہ الگ بات ہے کہ سیلاب کے پانی کی مقدار اور اس کے سفر کا راستہ اسقدر طویل تھا کہ بیوروکریسی حکومتی نمائندوں اور پاک فوج کا ہر جگہ موجود ہونا نا ممکن تھا اس کے باوجود پاک فوج اور صوبائی حکومت ہراس جگہ نظر آئی جہاں انہیں موجود ہونا چاہیے تھا انسانی جانوں کو بچانے اور منقطع راستوں کی بحالی میں پاک فوج کے جوانوں نے ہمیشہ کی طرح قابل قدر اورناقابل فراموش خدمات انجام دیں پاک فوج کے جوان اپنی جان خطرئے میں ڈال کر معصوم لوگوں کی زندگیاں بچاتے رہے پاک فوج جسطرح سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انسانی زندگیا ں بچاتی رہی اسی طرح وزیرستان کے مختلف علاقوں میں ایسے خطر ناک عناصر کیخلاف بھی بہرسرپیکار رہی جو معصوم انسانی زندگیوں کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں میرا اشارہ آپریشن ضرب عضب کی طرف ہے جو سیلابی صورتحال میں بھی پورے عزم اور جوش وولولے کے ساتھ جاری ہے اور پاک فوج کے جوان وافسران اپنی جانوں کانذرانہ دے کر پاکستان کے عوام کی زندگیاں محفوظ بنارہے ہیں۔

صوبائی حکومت ایک طرف سیلاب سے نیر آزما ہونے میں مصروف رہی تو دوسری طرف حکومت کے اندر اعداد وشمار کے اتار چڑھاؤ کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے پرانے اتحادیوں کے ساتھ نئے اتحاد پر بھی اجلاس پراجلاس ہوتے رہے وزیراعلی پرویز خٹک قومی وطن پارٹی کو حکومت میں شامل کرنے کیلئے آفتاب شیر پاؤ کے ساتھ عہد و پیمان کر چکے ہیں مگر نیب کی فہرست میں آفتاب شیر پاؤ کانام آنے کے بعد تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے وزیر اعلی پرویز خٹک کو قومی وطن پارٹی کے ساتھ اتحاد سے روکنے کی ہدایت کردی اور اس بات پر زور دیا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد اورتعلقات کو مستحکم بنایا جائے بعض اطلاعات کے مطابق وزیر اعلی پرویز خٹک بعض اتحادیوں کے غمزوں اورمبینہ بلیک میلنگ سے اسقدر عاجز آچکے ہیں کہ عمران خان کے منع کرنے کے باوجود وہ قومی وطن پارٹی کو اتحاد میں شامل کرنے کیلئے بضد ہیں اس کھینچا تانی کے نتیجے میں تحریک انصاف اورصوبائی حکومت کے اندر اختلافات کی خبریں بھی گردش کرنے لگی ہیں قومی وطن پارٹی کی مخالفت مرکز کے علاوہ صوبائی سطح پر بھی تحریک انصاف کے اہم عہدیدار اورمنتخب اراکین پارلیمنٹ کررہے ہیں۔

تحریک انصاف میں قومی وطن پارٹی کی کھل کر مخالفت سامنے آنے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی بھی غیر معمولی طور پر متحرک ہوگئی ہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اے این پی کے مرکزی قائد اسفند یارولی خان نے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ کے ساتھ رابطہ کیا ہے اوراتحاد بنانے سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال ہوا ہے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اے این پی اور قومی وطن پارٹی پہلے رابطے کے ساتھ ہی بہت زیادہ ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں اس صورتحال نے صوبائی حکومت کیلئے پریشانی پیدا کردی ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلی پرویز خٹک حکومت میں شامل بعض اتحادیوں سے خوش نہیں ہیں اورانہیں خطر ہ ہے کہ یہ اتحادی کسی بھی وقت اپوزیشن بینچوں پر جا کر بیٹھ سکتے ہیں جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پائے جانے والے اعداد و شمار کے ہند سے بھی الٹ سمت اختیار کرجائینگے اور صوبائی حکومت انتہائی نازک پوزیشن پر جاسکتی ہے لہذا وزیر اعلی کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس طرح کی سنگین صورتحال سے بچنے کیلئے پہلے سے نئے اتحاد بنا کر اعداد وشمار کو اپنے کنٹرول میں رکھیں۔ لہذا ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ وزیراعلی پرویز خٹک قومی وطن پارٹی کو حکومت میں شامل کرنے کیلئے اپنی تیاریاں مکمل کرچکے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہوسکے قومی وطن پارٹی حکومت کا حصہ بننے کا باضابطہ اعلان کرئے جس کے تحت قومی وطن پارٹی کو سینئر وزیر سمیت 2 وزرا اور مشیر کے 2 عہدے ملیں گئے یہ بھی شنید ہے ان سطورکی اشاعت سے پہلے کوئی بھی اعلان ہوسکتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اعلان اقتدار کی ایوانوں سے سامنے آتا ہے یا پھر ولی باغ سے کوئی چونکا دینے والی خبر سامنے آسکتی ہے یہ بھی ایک تلخ حیقیت ہے کہ اے این پی نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد اور پیپلز پارٹی نے نواز شریف کے ساتھ مفاہمت کرکے اپنی اپنی پارٹیوں اور سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اے این پی اگر قومی وطن پارٹی کو رام کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کا خاطر خواہ فائدہ اے این پی کو ملے گا۔

مزید : ایڈیشن 1