معمولی تلخ کلامی پر تھانیدار نے سابق رضا کار کو پٹرول پھینک کر جلا دیا ،نوجوان کی ماں کا الزام

معمولی تلخ کلامی پر تھانیدار نے سابق رضا کار کو پٹرول پھینک کر جلا دیا ...

لاہور(ملک خیام رفیق) نشتر کالونی کے علاقہ میں موٹر سائیکل کے کا غذات نہ ہونے کی وجہ سے معمولی تلخ کلامی پر تھانیدار نے مبینہ طور پر سابق رضاکار پر پٹرول پھینک کراسے جلا ڈالا،بعد ازاں 50ہزار رشوت لے کر لو احقین کے حوالے کرنے کاالزام ۔متاثرہ نوجوان کی ماں انصاف کے حصول کے لیے پولیس افسران کے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہو گئی ۔پولیس کے مطابق نو جوان پر تشدد نہیں کیا گیا الزامات درست نہیں ہیں۔ تفصیلا ت کے مطابق نشتر کالونی کی رہائشی الفت بی بی نے رو زنامہ ’’پاکستان‘‘سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ اس کا بیٹا شہزاد21جو لائی کو نشتر بازار سے کھانا لینے گیا وہاں پر اے ایس آئی زوہیب ،سپاہی عمران ڈوگر اور دیگر 4پولیس ملازمین نے اسے رو ک کر مو ٹر سائیکل کے کا غذات طلب کئے۔ شہزاد نے کہا کہ ساتھ والی گلی میں میرا گھر ہے اور میں ابھی جا کر کا غذات لا دیتا ہو ں جس پر میرے بیٹے کی پولیس ملازمین سے معمولی تلخ کلامی ہو گئی ۔جس کے بعد اے ایس آئی زوہیب میرے بیٹے کو دیگر ملازمین کے ہمراہ پر ائیویٹ ٹارچر سیل میں لے گیا اور اس پر پٹرول پھینک کر جلاتے رہے۔ اس سلسلے میں الفت بی بی نے تھانے میں رابطہ کیا تو تھانے والوں نے کہا کہ وہ تھانے میں نہیں ہے ، خاتو ن نے الزا م لگا یا کہ بعد ازاں زوہیب اے ایس آئی نے 50ہزار رشوت لے کر میر ے بیٹے کو جانے دیالیکن میرا بیٹے کا 50فیصد جسم جل چکا ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے معذور ہو گیا ہے ۔پولیس ملازمین نے میرے بے گناہ بیٹے کو جلا کر سخت زیادتی کی ہے ، اعلی حکام سے اپیل ہے کہ ذمہ داران کے خلاف کار روائی کر کے مجھے انصاف فراہم کیا جا ئے۔ اس بارے میں ایس ایچ او احسان اللہ کا کہنا تھا شہزاد ریکارڈ یا فتہ مجرم ہے اوراس نے چند دن قبل پولیس مقابلہ کیا تھا جس کے دوران ایک سپاہی بھی زخمی ہو ا ۔پولیس مقابلے کا مقدمہ تھانے میں درج ہے۔ ملزم پولیس پر پریشر ڈالنے کے لیے پولیس پر الزام لگا رہا ہے جبکہ شہزاد کو مبینہ طور پر جلانے والے زوہیب اے ایس آئی کا کہنا تھا کہ شہزاد سابق رضاکار ہے اور منشیات فروشی کرتا ہے، شہزاد کے 2رشتہ دار ڈکیت ہیں جس کی وجہ سے پولیس اس کے گھر چھاپے مارتی ہے اور اس وجہ سے پولیس پر دباؤ ڈالنے کے لیے شہزاد پولیس پر اس طرح کے الزامات لگا رہا ہے۔

مزید : علاقائی