قومی اسمبلی ،تحریک انصاف کے ارکان کی رکنیت ختم کرنے کی تحاریک ایک ہفتے کیلئے موخر

قومی اسمبلی ،تحریک انصاف کے ارکان کی رکنیت ختم کرنے کی تحاریک ایک ہفتے کیلئے ...

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم اور جمعیت علماء اسلام(ف)کی تحریک انصاف کے ارکان کو نااہل قرار دینے سے متعلق تحاریک متفقہ طور پر آئندہ منگل تک موخر تک کردی گئی ہیں جبکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ معاملے کو افہام و تفہیم سے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں ٗ اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لینگے ،ہماری کوشش ہوگی کہ اس پر ووٹنگ نہ ہو۔منگل کو اسپیکرایاز صادق کے زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے پر بحث ہوئی، اس موقع پر اسحاق ڈار نے پی ٹی آئی ارکان کی رکنیت ختم کرنے کی تحاریک کو ایک ہفتے کیلئے موخر کرنے کی تجویز ایوان میں پیش کی جسے متفقہ طورپرمنظورکرلیا گیا ٗ قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی تجویز کی حمایت کی جس کے بعد پی ٹی آئی ارکان کی رکنیت معطل کرنے کی تحاریک کو ایک ہفتے کے لئے موخر کردیا گیا ۔ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ نے کہاکہ میری وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے بات ہوئی ہے ،تحاریک پر آج ہی بات کر لی جائے۔ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں آپ کے رویے کو داد دیتا ہوں ، آپ نے اس ایوان کو چلانے کی کوشش کی ہے، وزیراعظم نے ایشوز میں اپنے آپ کو الجھانے کی بجائے آگے چلنے کی بات کی ہے، حکومت کی بھی خواہش تھی کہ پی ٹی آئی ایوان میںآ کر اپنا کردار ادا کرے۔محمدا سحاق ڈار نے گزشتہ روز احسن طریقے سے بات کی مگر حکومت کے ایک رکن نے ایوان کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم جب چاہیں پی ٹی آئی اراکین کو کان سے پکڑ کر ایوان سے نکال دیں ٗآپ اس قرارداد پر آج ہی فیصلہ کر دیں اس کو لٹکایا نہ جائے، اگر ہمارے خلاف ووٹ آتے ہیں تو ہم گھرچلے جائینگے۔ ایم کیوایم کے سید آصف حسنین نے کہا کہ آج ایوان میں پارلیمنٹ کے کردار کو سراہا گیا اور وزیراعظم اور حکومتی اقدامات کو سراہا گیا تو پھر دھرنے میں کی جانیوالی باتیں کیا درست تھیں؟ درست اور غلط باتوں میں تفریق کی جائے۔جمشید احمد دستی نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے حوالے سے اچھا بیان دیا ہے اس حکومت کو اپنے پانچ سال پورے کرنے چاہئیں، اس سسٹم کو چلنا چاہئے، ایم کیو ایم اور جے یو آئی اپنی قراردادیں واپس لیں ، سیلاب زدگان کی مدد کی طرف توجہ دینی چاہئے آپ (سپیکر) کا بہت اچھا کردار رہا ہے ۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ آپ بہت سلجھی ہوئی باتیں کررہے ہیں آپ میں تبدیلی آ گئی ہے؟۔جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہئے تمام جماعتوں نے اس حوالے سے اپنا اپنا کردارادا کیا ہے، ہمیںآگے بڑھنا ہوگا، وزیراعظم نے بھی بہت اچھا کردارادا کیا ہے، ایم کیو ایم اور جے یوآئی ان تحاریک کو واپس لیں۔نعیمہ کشور خان نے کہا کہ آج اس ایوان کی بالادستی کی جو باتیں ہو رہی ہیں وہ خوش آئند ہیں، جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ بھی ان کو ماننا پڑا ہے، یہ اس ایوان کی فتح ہے ہم پی ٹی آئی اراکین کو ممبرنہیں مانتے وہ استعفے دے چکے ہیں۔ایم کیوایم کے کنور نوید جمیل نے کہاکہ اس ایوان کا تقدس اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب یہ ایوان آئین اور قانون کے مطابق چلے ، مک مکا سے جو فیصلے ہونگے وہ دیرپا نہیں ہونگے، حکومت مصلحتوں کی بجائے قانونی کی پاسداری کرے، پی ٹی آئی اراکین کو اپنے دعوؤں کی پاسداری کرنی چاہئے اور اپنی نشستوں سے مستعفی ہو جائیں اور ضمنی الیکشن میں کامیاب ہو کر اس ایوان میں واپس آئیں۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں کے حوالے سے میری رولنگ آ چکی ہے، اس تحاریک کو قانون اور قاعدے کے مطابق لے آئیں اس میں کسی کو رعایت نہیں دی جارہی۔وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ میری مولانا فضل الرحمن سے بات نہیں ہوسکی ہے اس تحریک کو موخر کردیا جائے ایوان سے باہر بیٹھ کر اس پر بات کر لیں گے۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اس تحریک پر آج فیصلہ کر لیا جائے، میری مولانا فضل الرحمن سے بات ہوئی تھی اس تحریک کو موخر کرنے سے شکوک شبہات میں اضافہ ہوگا، آج نہیں تو اس تحریک کو کل کے ایجنڈے میں شامل کرلیاجائے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس تحریک کو آج ہی ختم کرلیا جائے عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ اس اسمبلی کو جعلی کہا گیا یہ دھاندلی زدہ الیکشن ہیں اس پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا، یہ مک مکا کی سیاست ہے، آئین اور قانون کی پاسداری ہونی چاہئے یہ چالیس روز تک ایوان میں نہیں آئے تھے، یہ ایوان میں اجنبی ہیں ، کل پاکستانی معیشت کو کیوں تباہ کیا ؟، پی ٹی آئی خود اپنے بارے میں فیصلہ کرے ٗپاکستان کو کرپشن فری ملک قرار دینا ہے ، میں نے عام کارکن کو کھانا کھلایا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس ملک میں آئین کی بالادستی ہوگی اس یوان کو طاقت کا سرچشمہ قراردیا جائے اس حوالے سے قرارداد لائی جائے ایم کیو ایم بھی علامہ طاہر القادری کو کھانا کھلانے کی معافی مانگے۔مسلم لیگ (ن)کے شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کھانے کی وجہ سے طاہر القادری کا ہاضمہ خراب ہوا اوروہ واپس چلے گئے۔ غلطیاں سب سے ہوتی ہیں ایک عوام کی منتخب کئے جانیوالے نمائندے کو ہم کیا کہیں گے؟۔ ملک کے مستقبل کی ترقی کیلئے آگے بڑھنے کیلئے تلخیاں کم کرنا ہونگی۔محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پارلیمنٹ کی روایات کو بہتر بنانے اور اپنے اتحادیوں سے مشاورت کیلئے اس کو وقتی طور پر موخر کیا جائے۔ اس تحریک کو اچھے انداز سے حل کرنے دیا جائے ۔سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اس تحریک کو لمبا نہ کیا جائے ورنہ حالات مزید خراب ہونگے یہ حکومت کے حق میں ہے، اس کو منگل سے آگے نہ لے جایا جائے۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ اس تحریک کو مسترد ٗمنظور کرنے کے علاوہ واپس لینا اور دوبارہ ایجنڈے پر لانا شامل ہے ۔محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم اس تحریک کے بارے میں مزید مشاورت کے بعد اس کا حل نکالیں گے اور ہماری کوشش ہوگی کہ اس پر ووٹنگ نہ ہو۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ہم نے دھرنا تین دن میں ختم کروا دیا ہم نے قانون سازی میں اتفاق رائے قائم کیا، ہمارے قدموں پر چلیں گے تو آپ دس سال چلیں گے ورنہ آپ کو تو ایک سال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ہم اس معاملے کو احسن انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں، اس معاملے میں جتنی بھی تاخیر ہو گی ماحول خراب ہو گا، ٹائم فریم مقرر کی جائے، آئندہ منگل کو پرائیویٹ ممبر ڈے پر تحاریک لے آئیں بعد ازاں سپیکر نے تحاریک مشاورت کیلئے موخر کر دیں۔

مزید : صفحہ اول