ایچی سن کالج میں بااثر شخصیات کے بچوں کو میرٹ کے برعکس داخلہ نہ دینے کی سزا، پرنسپل فارغ

ایچی سن کالج میں بااثر شخصیات کے بچوں کو میرٹ کے برعکس داخلہ نہ دینے کی سزا، ...

لاہور(لیاقت کھرل) ایچی سن کا لج کے بورڈ آف گورنرز نے بڑے گھرانے کے سپوتوں کو میرٹ سے ہٹ کر داخلہ نہ دینے کی پاداش میں کالج کے پرنسپل ڈاکٹر آغا غضنفر کو کنٹریکٹ ختم ہونے سے تین سال قبل ہی عہدے سے ہٹا دیا ہے۔اور ان کی جگہ ایچی سن کالج کے جونیئر سکول کے سئنیر ہیڈماسٹرامیر حسین کو کالج کے پرنسپل کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔اس امر کا فیصلہ گذشتہ روز ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنرز کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا ،جس میں کالج کے پرنسپل ڈاکٹر آغا غضنفر کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔اس حوالے سے ایچی سن کالج کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایچی سن کالج کے پرنسپل ڈاکٹر آغا غضنفر کا بعض اہم سیاسی شخصیات کے پوتوں کو میرٹ سے ہٹ کر داخلہ نہ دینے کے معاملے پر کچھ عرصہ سے تنازعہ چل رہا تھا جو سنگین صوررت حال اختیارکرگیا۔ذرائع کے مطابق ایچی سن کالج کے پرنسپل ڈاکٹر آغا غضنفر پر یہ دباؤ تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے پوتے ایان صادق،میاں منشا کے پوتے حسن مصطفی اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے پوتے میران مصطفےٰ ،ڈاکٹر صفدر عباسی کے پوتے سمیت بزنس مین یاور بیدارجیسی اہم سیاسی و کاروباری شخصیات کے بچوں کو میرٹ سے ہٹ کر کالج میں داخلہ دیا جائے جبکہ پرنسپل آغا غضنفر نے تمام اہم سیاسی شخصیات کو میرٹ سے ہٹ کر داخلہ دینے سے صاف انکار کر دیا تھا کیونکہ داخلہ لسٹ میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے پوتے ایان صادق کا 396ویں نمبر پر رہنے ،میاں منشا کے پوتے حسن منشا کے 398ویں نمبر پر اور اسی طرح سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا پوتا میران مصطفےٰ 196ویں نمبر پر رہا۔جس پر پرنسپل آغا غضنفر نے میرٹ سے ہٹ کر داخلہ دینے سے صاف انکار کر دیا تھا اور داخلہ کیلئے ٹیسٹ دینے والے تمام کے تمام 486امیدواروں کے نام او ر نتائج کی لسٹ ایچی سن کالج کی ویب سائٹ پر ڈال دی ۔جس پر بڑے بڑے گھرانوں کے نام افشاں ہونے پر جاری تنازع سنگین صورت حال میں تبدیل ہونے پر شدت اختیار کر گیا۔ذرائع کے مطابق اہم سیاسی شخصیات کے بچوں کو بورڈ آف گورنرز کے کل 20ممبران میں سے اکثریتی ممبران بھی میرٹ سے ہٹ کر داخلہ دینے کے سفارشی بن گئے۔جس کے بعدکالج کے پرنسپل اوربورڈ آف گورنرزکے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوگئے۔اس دوران کالج کے پرنسپل ڈاکٹر آغا غضنفر ایک ماہ کی چھٹی پر انگلینڈ گئے ہوئے ہیں اور 17اگست کو ان کی وطن واپسی ہے کہ اہم سیاسی شخصیات کے دباؤ پر بورڈ آف گورنرز نے گذشتہ روز ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا اور اس اجلاس میں پرنسپل ڈاکٹر آغا غضنفر کو پرنسپل کے عہدے سے ہٹا نے کی منظوری دے دی ،جس کا بورڈ آف گورنرز نے باقاعدہ نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا ہے اور ان کی جگہ سینئیر ہیڈما سٹر امیر حسین کو قائم مقام پرنسپل کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے اس میں اہم بات یہ ہے کہ بورڈ ٓف گورنرز کے گذشتہ روز ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بارے ڈاکٹر آغا غضنفر کو اطلاع تک نہیں دی گئی۔ڈاکٹر آغا غضنفر نے دسمبر2014میں ایچی سن کالج کے پرنسپل کے طور پر چار سال کے کنٹریکٹ پر عہدہ سنبھالا تھا اوردسمبر 2018 میں ان کا کنٹریکٹ ختم ہونا تھا ۔ڈاکٹر آغا غضنفر کے بارے بتایا گیا ہے کہ وہ سابق فیڈڑل سیکرٹری ،بورڈ آف انویسٹمنٹ کے عہدے سے ریٹائرہوئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر بھی رہ چکے ہیں ۔انہوں نے کالج کے پرنسپل کا عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد شفافیت اور میرٹ کی پالیسی کو اپنا نے کا اعلان کیا تھا ۔اس میں بورڈ آف گورنرز کے ممبران نے بھی ان کی مخالفت شروع کر رکھی تھی اور آخر کار انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

مزید : صفحہ اول