نیب کا پنجاب میں لینڈ مافیا اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنیوالوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

نیب کا پنجاب میں لینڈ مافیا اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنیوالوں کیخلاف ...

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی محتسب ادارے (نیب) نے کراچی اور اسلام آباد کے بعد پنجاب میں بھی کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے پنجاب میں لینڈ مافیا اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرمین نیب آج رات ہی لاہور کیلئے روانہ ہوں گے اور کل ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کرنے اور کارروائیوں کو عملی شکل دینے سے متعلق غور کیا جائے گا۔

لاہور( خبرنگار) ڈی جی نیب پنجاب میجر ( ر) برھان علی کے حکم پر ڈبل شاہ کی تفتیش کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے اور پہلے مرحلہ میں ڈبل شاہ سیکنڈل میں ملوث ڈبل شاہ کے تین ایجنٹوں جمیل راہی وغیرہ کے خلاف تفتیش کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں نیب پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر فراش حمید نے ڈبل شاہ سیکنڈل کے ایک سو سے زائد متاثرین کے بیان ریکارڈ کرنے کے لئے نوٹس جاری کر دئیے ہیں اور اگلے ہفتہ میں گواہی کے لئے لاہور طلب کر لیا ہے۔نیب کے ترجمان کے مطابق ڈبل شاہ سیکنڈل میں تفتیش کا کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے اور ڈبل شاہ سیکنڈل میں متاثرین کی ڈوبی ہوئی رقم کی ریکوری کے لئے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں اس سلسلہ میں سیکنڈل کے ایجنٹوں جمیل راہی، افتخار احمد اور عدنان کرامت کے خلاف پہلے مرحلہ میں تفتیش شروع کر دی گئی ہے ۔ ڈبل شاہ سیکنڈل کے ایجنٹوں جمیل راہی، افتخار احمد اور عدنان کرامت کے سلسلہ میں عوامی شکایات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔ ان ایجنٹوں پر عوام کے کروڑوں روپے ڈبل کرنے کا جھانسہ دے کر ہتھانے کا الزام ہے۔نیب لاہور نے تینوں ایجنٹوں کے سینگڑوں متاثرین کو نوٹس جاری کئے ہیں کہ وہ جمیل راہی، افتخار احمد اور عدنان کرامت کی بد عنوانیوں کے حوالے سے جو کچھ جانتے ہیں وہ انکوائری ٹیم کے پاس ریکارڈ کروائیں۔ جن متاثرین کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں وہ اگلے ہفتے کی مختلف تاریخوں میں ڈپٹی ڈائریکٹر نیب لاہور کے دفتر میں حاضر ہو کر اپنے بیان اور دیگر معلومات ریکارڈ کرائیں گے۔اس کے بعد ڈبل شاہ سیکنڈل میں ملوث ملزمان جمیل راہی ، عدنان کرامت اور افتخاراحمد کے خلاف تفتیش مکمل کر کے ریفرنس تیار کیا جائے گا اور ریکوری کی جائے گی۔ جس کے بعد ریفرنس نیب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ اول