مزید 29بڑے کرپشن کیس ،سرکاری خزانے کو کھربوں کا نقصان

مزید 29بڑے کرپشن کیس ،سرکاری خزانے کو کھربوں کا نقصان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں پیش کی گئی نیب کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ این ایل سی حکام نے اسٹاک ایکسچینج میں چار ارب کی غیر تصدیق شدہ سرمایہ کاری کی۔ یہ سرمایہ کرنے کرنے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد اورلیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد افضل اور دیگر افراد شامل ہیں۔ کراچی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے 350ایکٹر اراضی کی الاٹمنٹ میں ساڑھے 3سو ارب روپے کی کرپشن کی گئی۔ الاٹمنٹ میں سابق سیکرٹری لینڈ آفتاب میمن بھی ملوث ہیں۔ پنجاب بینک کے سابق ڈائریکٹر خرم افتخار نے اختیارات کا غلط استعمال کر کے خزانے کو 6ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔سابق ایم ڈی پیپکو طاہر بشارت چیمہ کی طرف سے اختیارات کے غلط استعمال کے باعث خزانے کو13ارب کا نقصان ہوا، پیپکو کے شیئرز کی فروخت میں 4ارب کی بدعنوانی کی گئی۔ ذمہ داروں میں آصف جاویداورطارق اقبال بھی شامل ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ڈائریکٹرجنرل منظور قادر نے 50ارب جبکہ وزارت خصوصی اقدامات کے حکام نے پینے کے صاف پانی منصوبے میں 7ارب کی کرپشن کی۔ پی ٹی سی ایل سے معاہدے کے باوجود عرب کمپنی 800ملین ڈالر ادا نہیں کر رہی۔ نیب کا کہنا ہے کہ عرب کمپنی کے ذمہ800 ملین ڈالر کی رقم 480ارب کے علاوہ ہے۔نیب نے اپنی رپورٹ میں مزید انتیس بڑے سکینڈلز سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے۔

مزید : صفحہ اول