بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ،جنوبی پنجاب میں فلڈ وارننگ جاری

بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ،جنوبی پنجاب میں فلڈ وارننگ جاری

اسلام آباد/ چترال/پشاور /مظفر آباد/گلگت /سکردو /پشاور/کوئٹہ /کراچی /لاہور (این این آئی)آزاد کشمیر ٗ گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا ٗ قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے نے بارشوں اور سیلاب سے 81ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ٗ متاثرین کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی ٗگلگت میں پن بجلی گھر متاثر ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ٗ چترال میں لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہونے والی رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام دن بھر جاری رہا ٗدرجنوں رابطہ پل بحال نہ ہوسکے ٗ اشیائے ضروریہ کی قلت شدت اختیار کر گئی ٗبیشتر علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث متاثرین کو امداد بھی نہ مل سکی ٗ پاک فوج کے جوان امدادی کاموں میں دن بھر مصروف رہے ٗ مزید 30افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ٗپنجاب اور سندھ میں ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں ٗمویشی سیلابی پانی کی نذر ہوگئے ٗ حفاظتی بندوں کوبھی نقصان پہنچا ٗدرجنوں رابطہ سڑکیں بھی تباہ ٗبیسیوں کچے مکانات گر گئے ٗ گھوٹکی میں فوج طلب کرلی گئی ٗلیہ ٗ راجن پور سمیت مختلف علاقوں میں بارش کے کھڑے پانی سے تعفن پھیلنے کا خدشہ ہے ٗ وبائی امراض پھوٹنے لگے جبکہ دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر قصور کی ضلعی انتظامیہ نے سرحدی علاقے کے 4 دیہات کے مکینوں کو نقل مکانی کی ہدایت کر دی ۔تفصیلات کے مطابق چترال میں سیلاب سے کئی علاقوں کا رابطہ دیگر مقامات سے منقطع ہو گیا تھا جس کی بحالی نہیں ہو سکی اسی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔رابطہ پل اور سڑکیں سیلاب میں بہہ جانے کے بعد لوگوں اپنے علاقوں میں محصور ہوگئے ہیں بیشتر علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث متاثرین حکومتی امداد سے محروم ہیں ٗکچھ لوگ دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع ہوگئے بعض علاقوں میں متاثرین پہاڑوں اور غاروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ٗ ایک بڑی تعداد کھلے آسمان تلے بے یارو مدد گار ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق وقفے وقفے سے جاری بارشیں اور ندی نالوں میں طغیانی ان کی دشواریوں میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔سڑکیں اور رابطہ پل ٹوٹنے سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔فوج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے ایک اعلامیے میں کہا کہ چترال میں پھنسے ہوئے 30 افراد کو آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نکالا گیا نکالے گئے افراد میں سیاح اور مریض شامل تھے جنہیں پشاور منتقل کر دیا گیا۔چترال اسکاؤٹس کے کمانڈنٹ نعیم اقبال نے نجی ٹی وی سے بات چیت میں 31 افراد کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی تھی انہوں نے بتایا کہ چترال کی 54 فیصد زرعی اراضی سیلاب کی نذر ہوچکی ہے 6 پن بجلی گھر زد میں آئے جس سے بجلی کی فراہمی بند ہو گئی 38 سڑکیں بھی سیلابی ریلوں میں بہہ گئی پانی کے تیز ریلوں 17 گاڑیوں کو نقصان پہنچا 600 کے قریب مکانات اور 30 دکانیں بھی تباہی کا شکار ہو چکی ہیں ادھر سکردو کے سب ڈویژن رونڈو کے علاقے تھووار میں لیں ڈسلائیڈنگ سے دو رابطہ پل ٹوٹ گئے جس کے باعث تین دیہات کے تقریباً پانچ سو افراد محصور ہوکررہ گئے ہیں دیامرمیں سیلاب سے متاثرہ ندی نالوں پربنے رابطہ پل اورسڑکوں کی مرمت کا کام دن بھر جاری رہا سیلاب نے آبپاشی نظام کوبھی بری طرح متاثرکیا اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اس کی بحالی میں مصروف رہے استورکے علاقے شیب داس میں دریائی کٹاؤ کے باعث کئی ایکڑ فصلیں زیرآب آگئیں اور حفاظتی بند کوشدید نقصان پہنچا ضلعی ہیڈکوارٹر عیدگاہ اور مین بازار استور کوملانے والی رابطہ سڑک راما نالہ میں پانی کے بہاؤ میں تیزی کے باعث شدید متاثرہوئی ہے۔چترال کے علاقے ریشن میں سیلابی پانی سے مزید ڈھائی سو گھرتباہ ہوگئے ٗمتاثرہ خاندانوں کے تقریباً ڈیڑھ ہزارافراد کْھلے آسمان تلے رہنے پرمجبورہوگئے ۔سیلابی پانی میں تیزی کے باعث ریشن میں 9 گاؤں پائپ لائن ٹوٹنے سے پینے کے پانی سے محروم ہوگئے ہیں تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق پانی کی فراہمی اور دیگر سکیموں کی بحالی کاکام جاری ہے بارشوں اور سیلاب سے مجموعی طور پر پانی کی فراہمی کی سکیموں کو نقصان پہنچا تھا چترال کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے تباہ ہونے والے چودہ پلوں کو تعمیر نو کیلئے بھاری مشینری بھی وہاں منتقل کردی گئی ہے پلوں کی بحالی اور چترال کے مختلف علاقوں کی رابطہ سڑکوں کو بہتر بنانے سے امدادی کارروائیوں میں تیز ی آئے گی ۔ادھر گلگت بلتستان کے علاقے وادی بھگوڑ میں طغیانی سے بیس مکانات بہہ گئے، پن بجلی گھر متاثرہونے سے بجلی کی سپلائی معطل ہوکر رہ گئی سکردو اورگردونواح میں لینڈ سلائڈنگ کا سلسلہ جاری رہا دریائے دوسری جانب دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر قصور کی ضلعی انتظامیہ نے سرحدی علاقے کے 4 دیہات کے مکینوں کو نقل مکانی کی ہدایت کر دی ہے ۔ڈی سی او قصور عدنان رشید کے مطابق بھارت کی جانب سے ہری کے ڈیم سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کی ابھی اطلاع نہیں ،تاہم حفاظتی اقدامات کے پیش نظر گنڈا سنگھ والا کے 4 دیہات کے مکینوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی ضلعی انتظامیہ نے مستے کی،گنٹی کلنجر، چندہ سنگھ والا اوربکھی ونڈ کے مکینوں کے لیے ڈسٹرکٹ پبلک اسکول قصور میں امدادی کیمپ بھی قائم کردیا ادھر سندھ کے کئی شہروں میں وقفے وقفے سے ہونے والی تیز بارش سے درجنوں کچے مکانات گرگئے ٗ گلگت بلتستان ٗ بلوچستان ، خیبر پختون خوا اور فاٹا کے پہاڑی سلسلوں پرموسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری دن بھر جاری رہا ضلع تھرپارکر میں تیز بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔ چھاچھرو ، ڈیپلو ، اورمٹھی کے نواحی علاقوں میں 200 سے زائد کچے مکانات گرگئے اور 7 افراد زخمی ہوئے۔مٹھی کی سران کالونی مکمل طور پر زیرآب آگئی ۔سیلابی ریلوں نے جنوبی پنجاب اور سندھ کے سینکڑوں دیہات کو پانی میں ڈبودیا ٗہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے انچارج کنٹرول روم سکھر کے مطابق سکھر بیراج میں اونچے درجے کا سیلابی ریلا داخل ہوگیا گزشتہ 6 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح 15 ہزار کیوسک اضافے کے ساتھ 5 لاکھ کیوسک سے تجاویز کرچکی سکھر بیراج پر آئندہ 2 سے تین روز تک اونچے درجے کا سیلاب موجود رہے گاگڈو بیراج پر بھی اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال موجود ہے۔ گڈو بیراج کے کچے کے علاقوں میں کئی گاؤں زیرآب آگئے لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں جو متاثرین کچھ دن قبل اپنے گھروں کو چھوڑکر خیموں میں آئے تھے وہ بھی اپنی گھروں کو واپس چلے گئے اور گھروں کی چھتوں پر موجود ہیں شکارپور کی سندھ واہ کینال میں پانی کے دباؤ سے پڑنے والا 100 فٹ چوڑا شگاف 24 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی پر نہیں کیا جاسکا۔ جیکب آباد میں گڑھی خیرو کے قریب قلیج شاخ میں 50 فٹ جبکہ میہڑ کے گاؤں ٹھوڑا کے قریب ککول واہ میں 20 فٹ چوڑے شگافوں کو بھی پر نہیں کیا سکا ۔دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث خیرپور میں بھی کچے کی تمام رابطہ سڑکیں زیرآب آگئی ہیں۔گھوٹکی میں قادرپور شینک بند پر کٹاؤ جاری ہے جس پر ضلعی انتظامیہ نے پاک فوج کو طلب کرلیا ہے۔ لاڑکانہ میں موریا،عاقل ، آگانی اور ہکڑا لوپ بندوں کو حساس قرار دیا گیا ہے جن کو مضبوط بنانے کا کام جاری ہے۔دریائے سندھ دریا خان ڈیرہ اسماعیل خان پل کے مقام پر سیلاب کے خطرے کے پیش نظر فلڈ وارننگ جاری کردی گئی، مختلف علاقوں میں پانچ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ لوگوں کومحفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی گئی ٗ محکمہ صحت اور ریسکیو کی ٹیموں کو الرٹ کردیا گیاادھر کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں جاری بارشوں کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی جھنگ میں تریموں ہیڈ ورکس پر دریائے چناب میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ادھر نوشہرہ میں دریائے کابل اور دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں کمی ہوگئی ادھر قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 81 ہوگئی۔این ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر چاروں صوبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ادارے کی جانب سے جاری کی گئی معلومات کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے اب تک بلوچستان میں آٹھ، خیبر پختونخواہ میں 38 ،پنجاب میں11 ، کشمیر میں 19 اور گلگت بلتستان میں پانچ ہلاکتیں ہوئی ہیں اس کے علاوہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 45 بتائی گئی ہے۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر میں سیلاب سے متاثرہ دیہاتوں کی تعداد 793 ہے جہاں 1921 مکانات متاثر ہوئے ہیں این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لاکھوں لوگ بارشوں اور سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں صوبہ خیبر پختونخوا میں آفت زدہ قرار دیے جانے والے پہاڑی ضلع چترال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صرف اسی ضلع میں متاثرین کی تعداد ڈھائی لاکھ ہے۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ دیہات کی تعداد 635 ہے جہاں 1855 مکانات متاثر ہوئے ہیں ادھر ملتان میں تونسہ بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب،8اضلاع متاثر ہوئے دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کے باعث آٹھ اضلاع متاثر ہو چکے ہیں سیلابی ریلے کے باعث تونسہ بیراج پر حفاظتی انتظامات سخت کر دئیے گئے ٗ انتظامیہ نے پاک فوج سے مدد لینے کا فیصلہ کر لیا ضلع بدین کے علاقے پنگریوکے قریب نہرمیں شگاف پڑنے کے نتیجے میں 10گاؤں زیر آب آگئے ہیں میڈیا رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ اور جناح بیراج کے مقام پر درمیانے ٗ چشمہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے،چھ لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلہ چشمہ کے مقام سے گزرے گا،جنوبی پنجاب کے مختلف سیلابی علاقوں میں تباہی مچانے کے بعد دریائے سندھ میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے،کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤپانچ لاکھ تیرہ ہزار سے کم ہوکر چارلاکھ چوہتر ہزار تک آگیا دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔جہاں پانی کی آمد پانچ لاکھ تریپن ہزار اور اخراج پانچ لاکھ پچاس ہزار ہے،چشمہ کے مقام سے آج شام چھ لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلہ گزرے گا،دریائے ستلج میں بھی بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے باعث پانی کی سطح میں اضافہ ہونے لگا ٗ دریائے چناب میں تاحال نچلے درجے کا سیلاب ہے،چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد اکانوے ہزار اور اخراج تریسٹھ ہزار کیوسک ہے،کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں پر وقفے وقفے سے بارش کے باعث ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ندی نالوں میں طغیانی برقرار ہے،درہ کاہا سلطان میں پانی کا بہاو پندرہ ہزار کیوسک اور درہ چھاچھڑ میں سیلابی پانی دس ہزار کیوسک سے تجاوز کرگیاآئی ایس پی آر کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے خطرات کے باعث حساس علاقے قراردیئے گئے ہیں،بندوں کو مضبوط بنانے کیلئے پاک فوج کے دستے دن رات مصروف ہیں،مزید فوجی دستے بھجوادیئے گئے ہیں،گھوٹکی میں حفاظتی بند مضبوط بنایا جارہا ہے،پنوعاقل سے جنرل افسرکمانڈنگ نے دورہ کرکے ریلیف اورریسکیوآپریشن کا جائزہ لیا جبکہ چترال میں بھی پاک فوج نے ہیلی کاپٹرکے ذریعے تیس سے زائد سیاحوں اور عام افراد کو سوات منتقل کردیا

قصور،لاہور(خصو صی رپورٹ، جنرل رپورٹر)بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، دریائے سندھ میں چشمہ بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ، گھوٹکی میں سیلاب کے پانی میں سانپ آ گئے ، میڈیا رپورٹ کے مطا بق دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، بھارت کی جانب سے 48 گھنٹوں کے اندر مزید پانی چھوڑنے کی اطلاع ہے۔ دریائے ستلج میں اس وقت فیروز پور ہیڈ ورکس انڈیا کی جانب سے 3 دریا پاکستان کی جانب کھول دیئے گئے ہیں جس سے پانی کی سطح 15 فٹ اور اخراج 10543 کیوسک ہو رہا ہے۔بھارت کی جانب سے مزید 48 گھنٹے کے اندر دریا ستلج میں پانی چھوڑنے کی اطلاع پاکستانی حکام کو کر دی گئی ہے۔دریا ستلج میں اس وقت باقر کے پوسٹ میں 7 فٹ پانی ، کوٹھی فتح محمد میں 8 فٹ اور تلوار پوسٹ کے مقام پر 5 فٹ کے قریب پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے۔دریا کے کنارے بسنے والا گاؤں بھکی ونڈ میں پانی 1.5 سے 2 فٹ پانی داخل ہونا شروع ہو گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے ابھی تک نہ ہی امدادی کاروائیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے اور نہ ہی انڈیا کی جانب سے مزید پانی چھوڑنے جانے کی اطلاع کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے کوئی امدادی کیمپ یا کاروائیاں ابھی تک شروع نہ کیں۔ چیف ریلیف کمشنر پنجاب ندیم اشرف نے کہا ہے کہ وزیر اعلی کی ہدایت پر 7اضلاع کے متاثرین سیلاب میں اب تک91سوخیمے تقسیم کئے جا چکے ہیں جبکہ 150ریلیف کیمپوں اورسیلابی پانی میں گھرے افراد کو اشیائے خوردونوش فراہم کی جا رہی ہیں۔سیلاب متاثرین کی امداد کے حوالے سے تفصیل بتاتے ہوئے ندیم اشرف نے کہا کہ متاثرین سیلاب میں 62ہزار فوڈ ہیمپرز، 8500مچھر دانیاں اور72ہزار منرل واٹر بوتلیں فراہم کرنے کے علاوہ11لاکھ 36ہزار جانوروں کی ویکسینیشن کی جا چکی ہے۔چیف ریلیف کمشنرنے بتایا کہ پانی میں گھرے لوگوں کو232کشتیوں کے ذریعے طبی امداد،خوراک اور آنے جانے کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔دریں اثناء ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا ہے کہ دریائے سند ھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجہ کا سیلابی ریلا گزرنے کا امکان ہے۔ اس مقام پر پانی کا بہاؤ5لاکھ 40ہزار سے 5لاکھ 80ہزار کیوسک تک ہو سکتا ہے جو کل شام 6بجے سے 31جولائی شام6بجے کے درمیان متوقع ہے لہٰذاانتظامیہ کو کسی بھی غیر متوقع صورتحال کے لئے تیار رہنے اور دریا کے بندوں اور پانی کے بہاؤ کی مسلسل مانیٹرنگ کی ہدایت کر دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ عوام دریاؤں کی تازہ ترین صورتحال اور دیگر معلومات کیلئے پی ڈی ایم اے پنجا ب کی ہاٹ لائن 1129پر رابطہ کر سکتے ہیں،علاوہ ازیں پی ڈی ایم اے کے مطابق جنوبی پنجاب کی تحصیلوں راجن پور،جام پور،خان پور،روجھان،رحیم یار خان،لیاقت پور،صادق آباد ،کوٹ ادو اور جتوئی کے متعدد علاقوں میں فلڈ وارننگ جاری کر دی گئی اورنشیبی علاقوں کے لوگوں کو ریلیف کیمپوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ڈی سی او راجن پور ظہور حسین نے کہا ہے کہ راجن پور کے پہاڑی نالے کاہااور چاچڑ معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں ۔مقامی آبادی بالکل محفوظ ہے تاہم ہنگامی صورتحال کے پیش نظرریلیف کیمپوں میں ا شیاء خوردونوش وضروریہ کا ذخیرہ کر لیا گیا ہے اورکسی بھی اونچے درجہ کے سیلاب کے پیش نظر فلڈ وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آرمی اور انتظامیہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے موقع پر موجود ہے اورکشتیوں اور موبائل ریسکیو ٹیموں کے ذریعے 5944 سیلاب متاثرین کو ان کے گھروں میں طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔مزید براں ڈی سی او مظفر گڑھ شوکت علی نے کہا ہے کہ دریائے سندھ میں تونسہ پر متوقع سیلاب کے پیش نظر کوٹ اددو کے نشیبی علاقوں سے 6ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔کوٹ اددو میں 3ریلیف کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں مقیم 40خاندانوں کو تینوں وقت کھانا باقاعدگی سے فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ دریائے سندھ کے کنارے عباس والا بند سمیت دیگر تمام بندوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔دریں اثناء سیکرٹری لوکل گورنمنٹ خالد مسعود اور سپیشل سیکرٹری افتخار علی سہونے انتظامیہ کے ہمراہ تونسہ بیراج پر بندوں اور ریلیف کیمپوں کا معائنہ بھی کیا۔

مزید : صفحہ اول