فیصل آباد ،پولیس مقابلے میں ایک دہشتگرد ہلاک اہلکار شہید ،3زخمی

فیصل آباد ،پولیس مقابلے میں ایک دہشتگرد ہلاک اہلکار شہید ،3زخمی

فیصل آباد(بیورورپورٹ)پیپلزکالونی میں گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول کی عقبی سڑک پر نامعلوم دہشت گردوں کے ساتھ سرعام ہونے والے مقابلہ میں پولیس کانسٹیبل حسیب الرحمن نے جام شہادت نوش کر کے نہ صرف فیصل آباد کو ایک بڑی دہشت گردی سے بچا لیا بلکہ ان کے تین زخمی پولیس کانسٹیبلوں نے ایک دہشت گرد کو ہلاک اور ایک لڑکے کی مدد سے دوسرے کو زندہ حالت میں قابو کر لیا‘ تین دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے نہ صرف فیصل آباد بلکہ پورے پنجاب کے اہم مقامات کی ناکہ بندی کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں دہشت گردوں سے دو خودکش جیکٹس‘دو کلاشنکوف‘ 6دستی بم‘ 4پسٹل اور متعدد میگزینیں برآمد کر لی گئی ہیں جبکہ ایک کار‘ اس کی 4مختلف نمبر پلیٹس اور ایک موٹر سائیکل بھی قبضہ میں لے لیا گیا ہے. دو شدید زخمی کانسٹیبلوں غلام مصطفی اور ذیشان کی حالت ہسپتال میں نازک بیان کی جاتی ہے تفصیلات کے مطابق تھانہ پیپلزکالونی کے چار پولیس کانسٹیبلان حسیب الرحمن‘ غلام مصطفی‘شعیب اور ذیشان دو موٹر سائیکلوں پر سوار معمول کی گشت پر تھے کہ ڈی گراؤنڈ کے قریب گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول کی عقبی سڑک پر ایک کار میں مشکوک افراد کو روکنا چاہا تو انہوں نے اندھا دھند کلاشنکوفوں سے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں حسیب الرحمن موقع پر ہی شہید ہو گئے. ان کے پیچھے بیٹھے کانسٹیبل اور دوسرے موٹر سائیکل پر سوار دونوں کانسٹیبلوں نے بھی جوابی فائرنگ شروع کر دی ایک دہشت گرد پولیس کی فائرنگ سے موقع پر ہی ڈھیر ہو گیا ایک زخمی دہشت گرد قریبی دیوار کے عقب میں چھپ گیا جبکہ کار میں سوار دو دہشت گرد اور ان کا امدادی ایک موٹر سائیکل سوار دہشت گرد اپنی زیر استعمال کار اور موٹر سائیکل موقع پر ہی چھوڑ کر فرار ہو گئے اس دوران تقریباً چار پانچ سو فائر ہوئے‘ جائے وقوعہ کے قریبی رہائش پذیر لوگوں اور فائرنگ کی آواز سن کر پولیس کی دیگر نفری موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ پر پہنچنے والوں میں آر پی او فیصل آباد احسان طفیل‘ سی پی او افضال احمد کوثر‘ ڈی سی او فیصل آباد نورالامین مینگل‘ایس ایس پی انویسٹی گیشن بلال عمر‘ ایس پی سی آئی اے چوہدری فاروق ہندل‘ایس پی اقبال چوہدری ذوالفقار احمد‘ ڈی ایس پی اور اے ایس پی شامل تھے آر پی او اور سی پی او نے اس موقع پر ضلع بھر کی پولیس کو فوری ناکہ بندی کرنے کا حکم دیا اور فرار ہونے والوں کی تلاش کیلئے مختلف چھاپہ مار پارٹیاں تشکیل دے کر مختلف مقامات کی جانب روانہ کر دیں.فیصل آباد میں مقابلہ کے دوران شہید ہونے والے بہادر کانسٹیبل حسیب الرحمن کی نماز جنازہ گذشتہ شام تقریبا ساڑھے چھ بجے پولیس لائنز میں ادا کی گئی جس میں آر پی او فیصل آباد احسان طفیل‘ سی پی اوافضال احمد کوثر‘ایس ایس پی انویسٹی گیشن بلال عمر‘ایف ڈی اے چیئرمین شیخ اعجاز احمد ایم پی اے اور دیگر عمائدین شہر کے علاوہ دیگر پولیس افسران اور ملازمین کی بھاری تعداد نے شرکت کی نماز جنازہ کے بعد شہید کانسٹیبل کو پولیس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے خراج عقیدت کے طور پر سلامی بھی دی گئی اوربعدازاں انہیں پورے اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا.باخبر ذرائع کے مطابق فیصل آباد پولیس کے 40تھانوں کی فراہم کی گئی بائیو میٹرک مشین میں فوت شدہ افراد کے انگلیوں کے نشانات سے تصدیق کرنے کا ڈیٹا موجود نہیں ہے بائیو میٹرک شناختی کارڈ نمبر بھی درج کرنا پڑتا ہے جس کے بعد گرفتار ملزمان کے متعلق معلومات میسر آتی ہیں اس سلسلہ میں پولیس نے بائیو میٹرک مشین میں صرف 2007ء سے لیکر 2015ء تک کے اشتہاری ملزمان کے ریکارڈ کا ڈیٹا محفوظ کیا ہے جبکہ 2007ء سے قبل کا ڈیٹا موجود نہیں ہے پولیس مقابلہ کے کچھ دیر بعد پہنچنے والی پولیس نے شہر کے مختلف مقامات سے سرچ آپریشن کے دوران متعدد مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ ڈی گراؤنڈ میں واقع مسجد کی بھی تلاشی لی اور نمازیوں کی چیکنگ بھی کی حراست میں لئے جانے والوں میں ایک معروف پکوان والے کا ایک باریش پٹھان بھی شامل ہے جبکہ ایک قریبی گھر کے دو ملازم بھی ان زیر حراست لوگوں میں شامل ہیں معلوم ہوا ہے کہ چاروں کار سوار شلوار قمیض میں ملبوس تھے.باخبر ذرائع کے مطابق مقابلہ کے دوران جب جائے وقوعہ پر اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں پولیس کا ڈالہ ڈی گراؤنڈ میں ریسکیو 15کے قریب کھڑا تھا جس میں چند ایک پولیس ملازمین بھی سوار تھے مگر وہ شدید فائرنگ کی آوازوں کے باوجود وہ اسی جگہ کھڑی ’’ڈیوٹی‘‘ دیتے رہے.فیصل آباد(بیورورپورٹ)آر پی او فیصل آباد احسان طفیل اور سی پی او افضال احمد کوثر نے ڈی ایچ کیو ہسپتال فیصل آباد میں زیر علاج تینوں زخمی کانسٹیبلوں غلام مصطفی‘شعیب اور ذیشان کی عیادت کی اور ہسپتال میں ان کے علاج معالجہ کیلئے ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دیں دونوں اعلی افسروں نے ان کی فرض شناسی اور جرات و بہادری پر انہیں خراج تحسین پیش کیا.

مزید : صفحہ اول