جسٹس افتخار چودھری کا دھرنا تحقیقات کا مطالبہ، پس منظر؟

جسٹس افتخار چودھری کا دھرنا تحقیقات کا مطالبہ، پس منظر؟

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے سیاست میں آنے اور خود اپنی جماعت تشکیل دینے کا اعلان کرنے کے بعد باقاعدہ سیاسی گفتگو کا بھی آغاز کر دیا ہے جبکہ ان پر اعتراض کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ اب انہوں نے تازہ ترین اور اہم مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ جوڈیشل کمشن کی رپورٹ کے بعد کہ سازش اور منظم دھاندلی نہیں ہوئی اور ساتھ ہی ان (جسٹس چودھری) کے خلاف یا ان کے بارے میں بھی کوئی ثبوت دیا گیا اور نہ ہی ان پر کوئی الزام آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب دھرنے اور سازش والی بات کی تحقیق ہونا چاہئے کہ آخر یہ سب کس کے اشارے پر ہوا جسٹس افتخار چودھری نے آغاز اعتراض اور مطالبے سے کر دیا ہے تو سب کو یہ یاد آ گیا کہ تھرڈ امپائر اور انگلی کی بات ہوتی رہی۔ لندن پلان اور بعض سابق اہم شخصیات کا نام بھی آتا رہا حتیٰ کہ موجودہ حکومت کے دن بھی گنے جاتے رہے ہیں۔

اب اگر افتخار چودھری یہ مطالبہ کر رہے ہیں تو یقیناً ان کے پاس کوئی ٹھوس شہادت یا وجوہ ہوں گی کہ تحقیقات سے ثابت ہو سکیں۔ بہر حال یہ حقیقت ہے کہ امپائر کی انگلی کا ذکر تو خود عمران خان کرتے رہے ہیں۔ جہاں تک تحقیقات کا تعلق ہے تو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی لندن ملاقات کے حوالے سے بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ جبکہ خود ڈاکٹر طاہر القادری سانحہ ماڈل ٹاؤن کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے تحقیقات کو رد کر کے نئی تحقیق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بعض ذرائع اس مطالبے کی روشنی میں انکشاف نما بات کرتے ہیں کہ اول تو اس وقوعے پر پڑا پردہ نہیں اٹھے گا اور اگر اُٹھا تو پھر بات بہت دور تک جائے گی جس سے مزید نقصان ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس اسرار پر پردہ پڑا رہے تو بہتر ہے۔

جہاں تک اس وقوعہ میں جان بحق اور زخمی ہونے والوں کا تعلق ہے تو حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت نے جاں بحق ہونے والوں کے پسماندگان اور زخمیوں کے لئے امدادی رقوم کا اعلان کیا جو یقیناً سرکاری خزانے سے ادا ہونا تھی لیکن ڈاکٹر طاہر القادری نے یہ مدد لینے سے روک دیا اور اپنی جماعت کی طرف سے سب کچھ کرنے کا اعلان کیا۔ اب یہ امر ان مرنے والوں کے وارث ہی بتا سکتے ہیں کہ عوامی تحریک نے ان کے لئے کیا کیا۔ اس سلسلے میں میڈیا کے کسی ’’انوسٹی گیشن‘‘ کا سیل یا رپورٹر نے بھی کام نہیں کیا ورنہ یہ تو بہت آسان ہے کہ مرحومین کے گھروں میں جا کر ان کی حالت کے بارے میں حالات کا علم ہو سکتا ہے اور بیان کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا کیا کوئی کرے گا؟

اس وقوعہ کے حوالے سے کسی کو ذمہ دار یا کسی کو الزامات سے بری کرنا ایک الگ بات ہے لیکن وقوعہ کی اصل تفتیش یہ نہیں کہ فلاح پولیس آفیسر اور پولیس والے ذمہ دار ہیں بلکہ یہ حقائق معلوم کرنا ضروری ہے کہ رات کو ہونے والی فائرنگ کب، کیسے اور کب تک ہوئی اور یہ آمنے سامنے کی لڑائی تھی تو حملہ آور کون تھے؟ اور فریقین میں سے صرف ایک ہی فریق کا نقصان کیوں ہوا؟

آج جو بھی سیاسی سین یا نقشہ ہے اس میں حکومت کو اور مسلم لیگ (ن) کو فائدہ پہنچا ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ عمران خان کو اپنی پالیسیوں پر بتدریج آگے بڑھنا ہوگا اور غلطیوں کا ازالہ کرنا پڑے گا۔

پاکستان پیپلزپارٹی تا حال سندھ میں بیٹھی ہے۔ بلاول بھٹو اس طرف آ نہیں رہے۔ وہ یوں بھی سیکیورٹی کے حصار میں ہیں۔ یہ کب ٹوٹے گا اور وہ کب عوام میں ہوں گے یہ تو وہی جانتے ہیں کوئی دوسرا نہیں بتا سکتا۔ ویسے وہ خود بھی پرانے اور نئے کا کمبی نیشن بہتر کرنا چاہتے ہیں۔

مزید : تجزیہ