ہائیکورٹ نے معذورقیدی عبدالباسط کی پھانسی پر عملدرآمد روکدیا

ہائیکورٹ نے معذورقیدی عبدالباسط کی پھانسی پر عملدرآمد روکدیا

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے سزائے موت کے جسمانی طور پر معذورقیدی عبدالباسط کی پھانسی پر عملدرآمد روکتے ہوئے محکمہ جیل خانہ جات سے دوہفتوں میں رپورٹ طلب کرلیا، ملزم کو آج 29جولائی کو فیصل آباد جیل میں پھانسی دی جانی تھی ۔مس جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے قیدی عبدالباسط کی والدہ کی درخواست پر سماعت کی، قیدی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عبدالباسط کیخلاف تھانہ اے ڈویڑن اوکاڑہ میں شہری آصف ندیم کو قتل کرنے کا مقدمہ درج ہوا ،اسے ٹرائل کورٹ سے موت کی سزا ہوئی اور سزائے موت کیخلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے اپیلیں خارج ہو چکی ہیں، عبدالباسط پر 2010ء میں فالج کا حملہ ہوا جس کی وجہ سے سزائے موت کے قیدی کا نچلا دھڑ بری طرح متاثر ہوا اور اب قیدی وہیل چیئر استعمال کرتا ہے ، انہوں نے بتایا کہ قیدی کو فیصل آباد جیل میں پھانسی دینے کیلئے بلیک وارنٹ جاری ہوچکے ہیں جبکہ ابھی تک صدر مملکت نے مفلوج ہونے کی بنیاد پر قیدی کی رحم کی اپیل پر بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا،انہوں نے استدعا کی کہ قیدی کے صحت یاب ہونے اور صدر کے روبرو نئی اپیل کے فیصلے تک ڈیتھ وارنٹ پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پھانسی پر عملدرآمد روکا جائے، فاضل بنچ نے دلائل سننے اور میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد پھانسی پر عملدرآمد روکتے ہوئے محکمہ جیل خانہ جات سے دوہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔

مزید : صفحہ آخر