بے ضابطگیوں میں ملوث لوگوں کو سزا ملنے تک کمیشن کا کام نامکمل ہے،سراج الحق

بے ضابطگیوں میں ملوث لوگوں کو سزا ملنے تک کمیشن کا کام نامکمل ہے،سراج الحق

 لاہور( نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا کام اس وقت تک نامکمل ہے جب تک بے ضابطگیوں میں ملوث لوگوں کو سزا نہیں مل جاتی ،اگر یہ بے ضابطگیاں نہ ہوتیں تو انتخابات پر اتنے سوالات اٹھتے اور نہ ہی دھاندلی کا اتنا شور ہوتا ۔پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریک واپس لی جائے ،اس سے انتشار میں اضافہ ہوگا ۔سیاسی جماعتیں باہم دست و گریبان ہونے کی بجائے عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے مل کر جدوجہد کریں ۔ملک میں غربت ،مہنگائی بے روز گاری اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی سب سے بڑے مسائل ہیں ،ان کے حل پر فوکس کیا جائے ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیاسیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں جماعت کے ذمہ داران سے گفتگو کرتے کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جن بے ضابطگیوں کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ان کا سدباب کرنا اور ان بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کو سزا دینا جوڈیشل کمیشن کا کام ہے ،جوڈیشل کمیشن کو اپنا کام مکمل کرنا چاہئے تاکہ آئندہ انتخابات میں دھاندلی اور ایسی بے ضابطگیوں کو روکا اور انتخابی عمل کو صاف و شفاف اور عوام کیلئے قابل اعتماد بنایا جاسکے ،انہوں نے کہا کہ سیا سی جماعتیں انتشار کے خاتمہ کیلئے مثبت کردار ادا کریں ،جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر آئندہ کیلئے مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہئے ،اصل مقصد انتخابی اصلاحات ہیں ،انتخابی نظام کی بہتری سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے اگر مقابلہ بازی کرنی ہے تو عام آدمی کی حالت کو سدھارنے کیلئے آگے بڑھیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مہنگائی ،بے روز گاری اور بدامنی جیسے گھمبیر مسائل کا شکار ہے ،عام آدمی تعلیم ،صحت اور روز گار کی سہولتوں سے محروم اور پریشانی کا شکار ہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مسائل کا موثر حل تلاش کیا جائے اور عام آدمی کی پریشانیوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جائے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اندر چھپی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں اور ملک و قوم کی خدمت کے جذبہ سے سرشار لوگوں کو آگے آنے کا موقع دیں ،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے ممبران اور کارکنان پر گہری نظر رکھیں اور جرائم میں ملوث لوگوں کو پنپنے اور سیاست کو بدنام کرنے کا موقع نہ دیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک سے کرپشن اور کمیشن خوری کا خاتمہ ہونا چاہئے ،کرپشن میں ملوث کسی اعلیٰ ترین سرکاری عہدے دار کو بھی معاف نہ کیا جائے اور ایسے لوگوں کو فارغ کرکے نظام کو مکمل تباہی سے بچایا جائے ،انہوں نے کہا کہ بیرونی بنکوں میں موجود قومی دولت واپس لائی جائے اور اسے عام آدمی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ اب عوام کرپشن مافیاکو کسی صورت بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ،وہی سیاسی جماعتیں عوام کا اعتماد حاصل کرسکیں گی جو عوامی خدمت کی دوڑ میں آگے ہونگی ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو سیلاب زدگان کی امدادی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور مشترکہ طور پر ایسی حکمت عملی بنائی جائے کہ سیلاب کے خطرے کو ہمیشہ کیلئے روکا جاسکے ۔

مزید : صفحہ آخر