انسانی سمگلنگ ڈیڑھ کھرب ڈالر کی صنعت اور 2 کروڑ انسانوں کی زندگیوں کا مسئلہ بن گئی

انسانی سمگلنگ ڈیڑھ کھرب ڈالر کی صنعت اور 2 کروڑ انسانوں کی زندگیوں کا مسئلہ ...

 واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)نئے دور میں انسانی غلامی کی شکلیں بدل گئی ہیں جس نے اب انسانی سمگلنگ ، بانڈڈلیبر اور زبردستی کی عصمت فروشی کی صورتحال اختیار کر لی ہے۔2015ء میں یہ سارا ناجائز کاروبار ڈیڑھ کھرب ڈالر کی غیر قانونی صنعت بن چکا ہے جس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد دو کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یہ تبصرہ آج یہاں وزارت خارجہ کے آڈیٹوریم میں انسانی ٹریفکنگ کے بارے میں 2015ء کی سالانہ رپورٹ جاری کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ بلاشک دولت سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے لیکن اس سے انسانوں کی خریداری کا سلسلہ اب بند ہوجانا چاہیے۔ 2015ء کی رپورٹ میں188ممالک میں جنسی استحصال یا بانڈ ڈلیبر کے لئے انسانوں کی سمگلنگ اور ان پر جبر کے خاتمے کے لئے ان کی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور قوانین اور ضوابط پر عملدرآمد کے حوالے سے ان کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اس رپورٹ کا مقصد دنیا کے ممالک کی سرزنش کرنا نہیں ہے بلکہ جائز ہ پیش کرکے اس میں بہتری لانے میں مدد دینا ہے۔جن ممالک کی حکومتیں قوانین پر سب سے زیادہ بھرپور عمل درآمد کرتی ہیں وہ درجہ اول میں رکھی گئی ہیں جو نسبتاً کم عمل درآمد کرتی ہیں وہ درجہ دوم میں ہیں اس سے کم تر درجہ دوم واچ لسٹ ہے اور جہاں صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے وہ درجہ سوم میں ہیں۔ پاکستان سمیت چوالیس(44) ممالک کو ’’درجہ دوم کی واچ لسٹ ‘‘ میں رکھا گیا ہے ۔ سب سے نچلے سے ایک درجہ اوپر والی فہرست کے دیگر ممالک میں برما، سعودی عرب، چین،کیوبا، مصر، لبنان،ملائشیا،سری لنکا، قطر،سوڈان،تیونس،یوکرائن، ازبکستان اورترکمانستان شامل ہیں۔ اس سے تھوڑا بہتر صورتحال والے89ممالک جو درجہ دوم میں رکھے گئے ہیں ان میں بھارت، افغانستان،بنگلہ دیش، ترکی ،یو اے ای، نیپال، انڈونیشیا ، عراق ، بھوٹان ، بحرین ، یونان ، نائیجریا ، نائیجر ، سنگاپور،ویت نام،تاجکستان، مراکش،عمان،جارجیا، اردن، جاپان، قازقستان، کرغستان اورجنوبی افریقہ نمایاں ہیں۔ سب سے خراب درجہ سوم میں اس مرتبہ اٹھارہ ممالک کو رکھا گیا ہے جن میں ایران ،روس،شام،شمالی کوریا،یمن ،کویت، لیبیا، جنوبی سوڈان،الجزائراورتھائی لینڈ نمایاں ہیں۔ صومالیہ کو اس درجہ بندی سے ہٹ کر ایک ’’سپیشل کیس‘‘ کے طور پر زیر بحث لایاگیا ہے۔ درجہ اول جہاں قانون پر مکمل طورپر عملدرآمد ہو رہا ہے ان امریکہ اوربرطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک اور اسرائیل شامل ہیں جن کی کل تعداد31ہے۔ تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ درجہ بندی قوانین کی موجودگی اوران پر عملدرآمد کے حوالے سے کی گئی ہے۔درجہ اول میں آنے کامطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں انسانی سمگلنگ ختم ہوگئی ہے۔پاکستان کو درجہ دوم کی واچ لسٹ میں رکھا گیا ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہاں مرد،خواتین اور بچوں سے زبردستی مزدوری لی جاتی ہے اوریہ جنسی ٹریفک میں بھی ملوث ہے۔تاہم پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ’’بانڈڈ لیبر‘‘ہے جس میں پورے کے پورے خاندان غلامی کی مزدوری میں جکڑے ہوئے ہیں اور یہ غلامی کئی نسلوں سے جاری ہے ۔ ’’بانڈڈلیبر‘‘ زیادہ تر پنجاب اور سندھ میں پائی جاتی ہے جس میں زرعی شعبہ اور بھٹہ مزدوری قالین بافی شامل ہے۔پاکستان میں عورتوں اور لڑکیوں کے جنسی استحصال کے لئے عصمت فروشی کا ایک منظم ڈھانچہ موجود ہے ۔ایسی مارکیٹیں موجود ہیں جہاں تاجر حضرات ان کی خرید و فروخت کرتے ہیں اور پھر انہیں عصمت فروشی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پولیس اس کاروبار کو نظر انداز کرنے کے لئے رشوت لیتی ہے۔ ایسی لڑکیوں کو زبردستی کی شادیوں پر مجبورکیا جاتاہے اور پھر ان کے نام نہاد خاوند دوسرے ممالک عصمت فروشی کے لئے بھیجتے ہیں۔ افغانستان،بنگلہ دیش اور سری لنکاسے بانڈڈلیبر کے مقصد سے ’’غلام‘‘پاکستان سمگل ہوتے ہیں۔ جنسی ٹریفکنگ کے لئے جن ممالک سے عورتوں اور لڑکیوں کو پاکستان میں لایا جاتاہے ان میں افغانستان،چین، روس، نیپال،ایران،بنگلہ دیش، ازبکستان اور آذربائیجان شامل ہیں کیونکہ عصمت فروشی کے سوداگر پاکستان کو اس مقصد کے لئے بہت سازگار سمجھتے ہیں۔ افغانستان،بنگلہ دیش اوربرما کے مہاجر اور ہزارہ قوم کے اقلیتی افراد بھی ناجائز ٹریفک کا شکار ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے مئی 2014ء میں ناجائز ٹریفکنگ کے سدباب کے لئے تحقیقی اورتجزیاتی مرکز قائم کیا تھا تاہم پاکستان میں متعلقہ قوانین اور ان پر عملدرآمد ابھی کم از کم معیارپر پورا نہیں اترتا۔امریکی وزیر خارجہ نے انسانی سمگلنگ اور جبری ملازمت کے خاتمے کے لئے اس میدان کے آٹھ ہیروز کی خدمات کا اعتراف کیا جو خصوصی طورپر اس رپورٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ ان میں امریکہ کے ٹونی میڈیکس کے علاوہ لیٹویا کی خاتون گیتا میروسکینا، میڈغاسکر کی خاتون نوروٹیانا جینوڈا ، جنوبی سوڈان کی خاتون کیتھرین ینبک واسی،یوگنڈا کے موسز بنوگا ، برطانیہ کی خاتون پروشا چندرن اور عراق کی خاتون امینہ حسن شامل تھے۔ رپورٹ کی خاص بات یہ ہے کہ مسلسل تیرہ سال سے صومالیہ کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ اسے اس مرتبہ بھی الگ ’’خصوصی کیس ‘‘کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان گزشتہ برس کی طرح اس مرتبہ بھی ’’درجہ دوم واچ لسٹ ‘‘ میں شامل ہے جبکہ بھارت پچھلے برس کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان سے قدرے بہتر درجہ دوم میں شامل ہے۔ اس برس صرف دو نمایاں تبدیلیاں ملائشیا اور کیوبا کے حوالے سے ہوئی ہیں اور انہیں سب سے کم تر درجہ سوم سے نکال کر ’’درجہ دوم واچ لسٹ‘‘ میں داخل کر دیا گیا ہے جس میں پاکستان بھی ہے۔امریکی قانون کے مطابق امریکہ درجہ سوم میں شامل ملک کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کر سکتا۔ رپورٹ جاری ہونے کے فوراً بعد دو امریکی سینیٹروں نے اپنے الگ الگ بیانا ت میں الزام لگایا ہے کہ ملائشیا اور کیوبا کا درجہ بڑھانے کا فیصلہ سیاسی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے نیوجرسی سے سینیٹر رابرٹ میننڈز کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ملائشیا کی تجارتی اہمیت سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ تجارتی معاہدہ برقرار رکھنے کے لئے اس کا درجہ بڑھایا ہے ۔ حالانکہ وہاں انسانی سمگلنگ کی صورتحال بدستور خراب ہے۔ فلوریڈا سے ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر مارکو روبیو جو خود کیوبن امریکن ہیں فیڈل کاسترو کے سخت مخالف ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بدلتی ہوئی صورتحال میں اوبامہ انتظامیہ کیوبا سے تعلقات بہترکرنا چاہتی ہے اس لئے کیوبا کا درجہ بڑھانے کا سیاسی فیصلہ کیا گیا ہے۔

انسانی سمگلنگ

مزید : صفحہ آخر