سب نے ملکر نظام نہ بچایا تو عدالتیں رہیں گی اورنہ ہی وکیل ،سپریم کورٹ

سب نے ملکر نظام نہ بچایا تو عدالتیں رہیں گی اورنہ ہی وکیل ،سپریم کورٹ

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے قرار دیاہے کہ بعض وکلاء عدالتوں سے ملزموں کو فرار کرانے میں مہارت رکھتے ہیں، اگر سب نے مل کا نظام نہ بچایا تو عدالتیں رہیں گی اور نہ ہی وکیل رہیں گے، مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے قتل کیس کے شریک ملزم رضوان ایڈووکیٹ کی طرف سے ٹرائل میں بار بار رکاوٹ پیدا کرنے پر مرکزی ملزم احسان علی کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی فاضل بنچ کے روبرو ملزم کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ چوہنگ پولیس نے احسان علی اور رضوان ایڈووکیٹ سمیت 6 افراد کے خلاف شہری سعید کے قتل کا مقدمہ درج کیا ہے، ٹرائل کورٹ نے احسان علی سمیت دیگر ملزموں کی ضمانتیں منظور کیں مگر ہائیکورٹ نے ملزم احسان علی کی ضمانت منسوخ کردی اور ملزم اب جیل میں ہے، پولیس نے اپنی تفتیش میں لکھا ہے کہ مقتول کو لگنے والی گولیوں کا تعلق ملزم احسان علی سے نہیں لیکن اسے پیشہ ور ملزم قرار دیا اور اسی بنیاد پر ہائیکورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کر دی، مدعی کے وکیل آذر لطیف ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ مقتول سعید نے وقوعہ سے چند دن قبل ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کروایا ، اسی رنجش پر ملزموں نے گھر میں گھس کر شہری سعید کو قتل کر دیا، ملزم پارٹی ٹرائل میں بار بار رکاوٹ پیدا کر رہی ہے، جب بھی ٹرائل نتیجہ خیز ہونے کا مرحلہ آتا ہے تو پنجاب بار کونسل کے 4،4 ممبر اور رضوان ایڈووکیٹ کے ساتھی وکلاء جتھے کی شکل میں سیشن عدالت پہنچ جاتے ہیں، وکلاء نے دباؤ ڈال کر 4 مرتبہ ٹرائل کیس تبدیل کروایا ہے، 2013ء سے لے کر اب تک ایک شریک ملزم کرامت علی ٹرائل میں پیش نہیں ہو ا، اس صورتحال کی نشاندہی پر مسٹرجسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کاا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض وکلاء عدالتوں سے ملزموں کو فرار کرانے میں مہارت رکھتے ہیں، سپریم کورٹ جانتی ہے کہ ماتحت عدلیہ کے ججز کن مشکلات کے ساتھ کام کر رہے ہیں، چند قبل ایک خاتون جج نے سپریم کورٹ خط لکھ کر ایک سینئر وکیل کی بدزبانی کی شکایت کی ہے ، اگر یہی صورتحال رہی تو نظام برباد ہو جائے گا، فاضل جج نے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بار ایسویسی ایشنوں اور وکلاء نے اپنا رویہ نہ بدلا تو پھر عدالتیں رہیں گی اور نہ ہی وکیل رہیں گے، دوران کارروائی قتل کیس کے ملزم وکیل رضوان ایڈووکیٹ نے روسٹرم پر آکر مداخلت کرنے کی کوشش کی جس پر فاضل جج نے رضوان ایڈووکیٹ کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سول یا سیشن کورٹ نہیں جہاں کوئی بھی کالا کوٹ پہن کر آئے گا اور عدالت کا تقدس پامال کر دے گا ، عدالتی کارروائی کا ماحول خراب کرنے پرفاضل جج نے ملزم رضوان ایڈووکیٹ کیخلاف کارروائی کیلئے نوٹس جاری کرنے کا حکم تحریر کروایا تو ملزم کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت سے غیرمشروط معافی کی استدعا کی، عدالت نے یہ استدعا منظور کرلی ۔وکیل نے ملزم احسان علی کی ضمانت کی درخواست واپس لینے کی استدعا بھی کی جس پر فاضل بنچ نے واپس لینے کی بنیاد پر درخواست خارج کر دی، فاضل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ قانون کا مذاق اڑانے والوں کو رعایت نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ آخر