افغان حکام نے طالبان سربراہ ملاعمر کی ہلاکت کا اعلان کردیا، ملااختر کے افغان طالبان کے نئے سربراہ بننے کاامکان

افغان حکام نے طالبان سربراہ ملاعمر کی ہلاکت کا اعلان کردیا، ملااختر کے افغان ...
افغان حکام نے طالبان سربراہ ملاعمر کی ہلاکت کا اعلان کردیا، ملااختر کے افغان طالبان کے نئے سربراہ بننے کاامکان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان حکام نے طالبان کے سپریم لیڈر ملاعمر کی ہلاکت کا اعلان کردیاتاہم اس بارے میں طالبان کاموقف معلوم نہیں ہوسکاجبکہ امکان ظاہر کیاجارہاہے کہ ملاعمر کے بعد ملااختر کو افغان طالبان کا نیا سربراہ منتخب کیاجائے گا۔

افغان ٹی وی ’1نیوز‘ کے مطابق حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ ملاعمر کی ہلاکت کی تصدیق ایک سیکیورٹی اجلاس کے دوران کی گئی ۔ ملاعمر 2001ءمیں افغانستان میں امریکی حملے کے بعد سے روپوش تھے جبکہ ان کے سر کی قیمت 10ملین ڈالر مقرر تھی ۔

دوسری طرف بی بی سی کا کہناہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے بھی ملاعمر کی ہلاکت کی تصدیق کردی اوراُنہیں اپنے ملک کے خفیہ ادارے نے رپورٹ دی ہے ۔

یادرہے کہ اس سے قبل طالبان سے علیحدہ ہونیوالے گروپ محاظ فدائی نے کہاتھاکہ ملاعمر دوسال قبل تنظیم کی اندرونی لڑائی کے دوران مارے گئے تھے تاہم عید الفطرکے موقع پر طالبان نے ایک پیغام شائع کیاتھا جس کے مطابق ملاعمر نے مذاکرات کی توثیق کردی . اس سے قبل اپریل میں طالبان نے ان کی  سوانح حیات شائع کی تھی اور کہاتھاکہ ملاعمر زندہ اور خیریت سے ہیں ۔

ملاعمر کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق ایک ایسے وقت پر ہوئی جب افغان طالبان اورحکومت کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو متوقع ہے ۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق اس سے قبل ملاعمر کے بھائی عبدالمنان کی زیرصدارت طالبان شوریٰ کا دودن قبل اجلاس ہواتھا جس میں نئے سربراہ سے متعلق غور کیاگیا، اجلاس میں ملااختر اور ملایعقوب کے ناموں پر غور کیاگیااور امکان ظاہر کیاجارہاہے کہ ملااختر کو ہی نیا سربراہ بنایاجائے گاتاہم سینئر صحافی حامد میر کاکہناتھاکہ طالبان کے اندر ہی ملااختر کی مخالفت بھی پائی جاتی ہے اورممکن ہے کہ ملااختر کے سربراہ بننے پر افغان طالبان میں بھی پاکستانی طالبان کی طرح اتحادنہ رہے ۔

ملاعمر ایک گاﺅں میں پیداہوئے اور مختصر سی دینی تعلیم حاصل کی ، مجاہدین کے ہمراہ سویت یونین کیخلاف لڑے اور 1994ءمیں طالبان کی تشکیل میں مدددی جبکہ رپورٹ کے مطابق وہ شادی شدہ تھے اور ان کے دوبیٹے ہیں ۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں