شناختی کارڈ کیلئے عمر 16 سال کرنے سمیت 4 بل مسترد

شناختی کارڈ کیلئے عمر 16 سال کرنے سمیت 4 بل مسترد
 شناختی کارڈ کیلئے عمر 16 سال کرنے سمیت 4 بل مسترد

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی نے شناختی کارڈ کیلئے عمر 16 سال کرنے اور کرپشن کی سزا موت رکھنے سمیت چار نجی بل مسترد کر دئیے جبکہ بلامعاوضہ و لازمی تعلیم کا حق (ترمیمی) بل 2015ءمحرک اور متعلقہ وزارت کے درمیان مزید مشاورت کےلئے موخر کردیا گیا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں جمشید احمد دستی نے تحریک پیش کی کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (ترمیمی) بل 2015ءپیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ بل کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی عمر 18 سال کی عمر میں میٹرک پاس کرکے نوکری حاصل کرنے میں آسانی رہے گی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا کہ نادرا نابالغ بچوں کو بھی کارڈ جاری کرتا ہے، دنیا کے بیشتر علاقوں میں 18 سال کی عمر ہے کسی بھی ملازمت کے لئے عمر کا تعین 25 سال تک بھی کی جاتی ہے، صرف شناختی کارڈ بنانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، اگر عمر کی حد کم کی گئی تو باقی قوانین کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔ قومی اسمبلی نے اس تحریک کو مسترد کردیا۔ جمشید دستی نے تحریک پیش کی کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان (ترمیمی) بل 2015ءپیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ کرپشن کے لئے موت کی سزا رکھ دینا مناسب نہیں ہے۔ سپیکر نے ایوان سے رائے لی تو قمی اسمبلی نے بل پیش کرنے کی تحریک کی اجازت نہیں دی۔ ڈاکٹر رمیش کمار رینکوانی نے تحریک پیش کی کہ دستور (ترمیمی) بل 2015ءپیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری سے میٹرک تک تعلیم مفت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر مملکت عثمان ابراہیم نے بل کی مخالفت کی اور کہا کہ اس میں ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ قومی اسمبلی نے بل پیش کی اجازت نہیں دی اور تحریک مسترد کردی۔ ڈاکٹر رمیش کمار وینکوانی نے تحریک پیش کی کہ دستور (ترمیمی) بل 2015ءپیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ بل کے اغرض و مقاصد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 81 اے میں ترمیم سے قائدحزب اختلاف کو بھی اہمیت ملے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اس بل کے حوالے سے ہم نے وزارت خزانہ سے رائے مانگی ہے اس وقت تک اس کو موخر کیاجائے۔ نفیسہ عنایت اللہ نے تحریک پیش کی کہ بلا معاوضہ و لازمی تعلیم کا حق (ترمیمی) بل 2015ءپیش کرنے کی اجازت دی جائے، بل کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنا حکومت کا فرض ہے، وفاقی حکومت کو تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئیں، سکولوں کی عمارتوں کی خستہ حالی دور کی جانی چاہیے۔ وزیر مملکت عثمان ابراہیم نے کہا کہ بل کی اس لئے ضرورت نہیں ہے کہ پہلے سے موجود قانون میں ان تمام مسائل اور امور کو تحفظ حاصل ہے۔ تحریک کی محرک نفیسہ عنایت اللہ خٹک نے کہا کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں، بل کو کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ سپیکر نے کہا کہ بل پر مشاورت کرلیں ساتھ ہی انہوں نے اسے مزید غور کے لئے موخر کردیا۔ دریں اثناءوزیر مملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمن کا کہنا ہے کہ قومی شناختی کارڈ کی تجدیدی فیس میں اضافہ نہیں کیا گیا، معمول کی تجدید پر صرف 75 روپے فیس وصول کی جاتی ہے، منگل کو قومی اسمبلی میں قومی شناختی کارڈ کی تجدید فیس 200 سے بڑھا کر 1000 روپے کرنے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائےد اخلہ انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا کہ یہ خبر دست نہیں ہے، نادرا ن ے فیس میں اضافہ نہیں کیا، نادرا عام تجدید پر صرف 75 روپے فیس وصول کرتی ہے تاہم ایگزیکٹو اور ارجنٹ شناختی کارڈ حاصل کرنے کی فیس ایک ہزار اور 300 روپے ہے۔

مزید : اسلام آباد