بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں فوجی بربریت پر مبنی دستاویزی فلم کو سرٹیفکیٹ دینے سے انکار

بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں فوجی بربریت پر مبنی دستاویزی فلم کو سرٹیفکیٹ دینے ...
بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں فوجی بربریت پر مبنی دستاویزی فلم کو سرٹیفکیٹ دینے سے انکار

  

نئی دہلی(اے این این) بھارتی سینسر بورڈ نے مقبوضہ جموں کشمیر میں قابض سیکیورٹی فورسز کے نہتے کشمیریوں کے خون سے رنگے ہاتھوں پر مبنی دستاویزی فلم ”ٹیکسچرز آف لاس“ کو سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیا ہے جس پر فلمساز پنکج بھوٹالیا نے دہلی ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے متعلق دستاویزی فلم ”ٹیکسچرز آف لاس“ کے فلمساز پنکج بھوٹالیانے وکیل کولن گھنسالویس کے توسط سے دہلی ہائیکورٹ میں سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے خلاف رٹ دائر کرتے ہوئے موقف پیش کیا ہے کہ سینسر بورڈ نمائش سے پہلے فلم کے کچھ مناظر ختم کرنے کا تقاضا کررہاہے حالانکہ یہ فلم حکومت کی اجازت کے بعد چار فلمی میلوں میں نمائش کیلئے پیش کی جاچکی ہے۔ دہلی ہائیکورٹ چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس جیانت ناتھ پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے درخواست کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے اگلی تاریخ پیشی اگست 13مقرر کی ہے۔

سینئر ایڈووکیٹ کولن گھنسالویس نے ہائیکورٹ میں بیان حلفی میں موقف اختیار کیاہے کہ فلم مارچ 2013ءمیں دہلی کے انڈیا انٹر نیشنل سینٹر اور اور اپریل 2013ءمیں انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں بغیر کسی منظر کو ختم کئے نمائش کیلئے پیش کی گئی تھی ۔اس کے علاوہ اس دستاویزی فلم کی 2013ءمیں لداخ انٹر نیشنل فلم فیسٹیول اور رواں سال مارچ میں نوکوچیاتال فلم فیسٹیول میں بھی نمائش کی گئی ۔ان سب مواقع پرفلم کی آئی اینڈ بی وزارت کی جانب سے سینسر شپ کے بعد نمائش کیلئے پیش کی گئی ہے اور ہر فلم کی سینسر شپ ایک ہی بار ہوتی ہے جبکہ سینسر بورڈ کا دوبارہ سین ختم کرنے کا مطالبہ کسی لحاظ سے درست نہیں ہے۔

بھوٹالیا کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ سینسر بورڈ مناظر عوام میں نمائش کیلئے پیش کئے جانے پر سین کے ختم کرنے کا مطالبہ کررہاہے جس کی وجہ سے سرٹیفکیٹ کے حصول میں مشکلات ہیں ۔واضح رہے کہ فلمساز پن پنکج بھوٹالیاکی یہ فلم تین اقساط پر مشتمل ہے ۔اس کی پہلی قسط منی پورسانگ2004 میں بنائی گئی ۔ٹیکسچر آف لاس مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے کشمیری عوام پر مظالم پر مبنی فلم ہے ۔اس فلم میں ہدایتکار نے مقبوضہ جموں کشمیر کا سفر کرکے ان مظلوم کشمیریوں کے حقائق اکٹھے کیے ہیں جن کے پیارے یا تو بھارتی فوج کی ظلم و بربریت کے باعث شہید ہوئے یا ہمیشہ کیلئے لاپتہ ہوئے ہیں۔ فلم کا تیسرا حصہ آسام بلاگ پر مشتمل ہے جو چند ہفتوں تک مکمل کرلی جائے گی۔

فلمساز نے ایک بھارتی ویب سائٹ کو اپنے انٹرویو میں کہاکہ میں اپنی فلموں کے ذریعے بھارت کی ان علیحدگی پسند ریاستوں پر توجہ مرکوز کرتا ہوں جہاں قومیت پرستی پروان چڑھ رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میں نے اپنی فلموں میں ان ریاستوں میں اٹھنے والے علیحدگی کی تحریکوں کے محرکات اور ان کے حل پر وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق کہانی ترتیب دیتا ہوں کہ ان عوام کے مسائل کیا ہیں اور وہ چاہتے کیا ہیں۔

مزید : تفریح