ماں بننے والی کالج کی طالبہ کا اپنی ہی نومولود بچی کے ساتھ ایسا خوفناک سلوک کہ دل دہل جائے

ماں بننے والی کالج کی طالبہ کا اپنی ہی نومولود بچی کے ساتھ ایسا خوفناک سلوک ...
ماں بننے والی کالج کی طالبہ کا اپنی ہی نومولود بچی کے ساتھ ایسا خوفناک سلوک کہ دل دہل جائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک (نیوز ڈیسک) امریکا میں نوعمر طالبات کے حاملہ ہونے کی شرح میں تشویشناک اضافے کے ساتھ دیگر کئی مسائل نے بھی سراٹھالیا ہے اور اس شرمناک رجحان کے نتیجے میں کچھ بھیانک واقعات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ایک ایسا ہی واقعہ ریاست اوہائیو میں پیش آیا ہے جہاں مسکنگ یونیورسٹی کی 20 سالہ طالبہ نے مبینہ طور پر ایک بچی کو جنم دینے کے بعد زندہ حالت میں ہی پلاسٹک بیگ میں ڈال کر کوڑا دان میں پھینک دیا۔

پولیس کے مطابق طالبہ نے نومولود کو اپنی ساتھی طالبات کی سوسائٹی کے دفتر کے قریب ایک کوڑا دان میں پھینکا۔ کوڑا دان میں بچی کی موجودگی کے انکشاف نے علاقے میں کھلبلی مچادی اور نومولود کو ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکی۔

مزید پڑھیں:26 ہفتوں کی حاملہ نوجوان لڑکی کی وہ حرکت جس نے انٹرنیٹ صارفین کو غصے سے آگ بگولا کر دیا

ریاست اوہائیو میں ان چاہے حمل کے واقعات بہت زیادہ بڑھ جانے کے بعد حکومت نے قانون بنادیا کہ اگر کوئی خاتون اپنے 30 دن تک عمر کے بچے کو کسی بھی فائر بریگیڈ سنٹر یا پولیس یا طبی عملے کی موجودگی والے سرکاری دفتر میں چھوڑ جائے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی نہ ہوگی، لیکن اس کے باوجود نومولود بچوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کے واقعات تواتر سے سامنے آرہے ہیں۔

واضح رہے کہ مسکنگ یونیورسٹی کی ہی ایک اور طالبہ اس سے پہلے اپنے نومولود بچے کو کوڑا دان میں پھینکنے کی مجرم قرار دی جاچکی ہے۔ اس طالبہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کا بچہ مردہ پیداہوا تھا۔ عدالت نے اسے قتل کے جرم سے بری کرتے ہوئے صرف چھ ماہ کی سزا سنائی تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس