سعودی فرمانروا کیلئے چھٹی پر جانا مصیبت بن گیا، اب یورپی ملک کی پولیس نے احتجاج شروع کردیا کیونکہ۔۔۔

سعودی فرمانروا کیلئے چھٹی پر جانا مصیبت بن گیا، اب یورپی ملک کی پولیس نے ...
سعودی فرمانروا کیلئے چھٹی پر جانا مصیبت بن گیا، اب یورپی ملک کی پولیس نے احتجاج شروع کردیا کیونکہ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) جیسا کہ ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں کہ فرانس میں سعودی شاہی خاندان نے ساحل سمندر کا کچھ حصہ خرید کر ذاتی بیچ(Beach) بنا رکھی ہے۔ آج کل سعودی فرماں روا شاہ سلمان اپنی اس ذاتی بیچ پر چھٹیاں منا رہے ہیں۔شاہ سلمان کی طرف سے فرانسیسی پولیس کو احکامات دیئے گئے ہیں کہ خواتین پولیس اہلکاروں کو ان کے قریب نہ آنے دیا جائے۔

فرانس میں سعودی فرماں روا کی اس ساحل سمندر کی ملکیت کے خلاف ایک مہم بھی چلائی جا رہی ہے جس میں ایک لاکھ سے زائد لوگ پٹیشن پر دستخط کر چکے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد سعودی فرماں روا کے اس پروٹوکول کے خلاف احتجاج بھی کر رہے ہیں، گزشتہ روز بھی درجنوں لوگوں نے احتجاج کیا جن میں کئی پیراک بھی برہنہ حالت میں شامل ہوئے۔ اسی احتجاج کے پیش نظر شاہ سلمان کی سکیورٹی پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے لیکن شاہ سلمان کی طرف سے خواتین اہلکاروں کو اپنے اور اپنے خادمین سے دور رکھنے کے احکامات سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں:سعودی شاہی خاندان کا دورہ فرانس، آخر ایسا کیا کام ہوا کہ شہر والے سراپا احتجاج ہوگئے؟ جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

شاہ سلمان کے ان احکامات کے ردعمل میں خواتین پولیس اہلکاروں میں بھی غم و غصہ پایا جاتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہمیں صنفی امتیاز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک خاتون پولیس اہلکارنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کچھ ساتھی اہلکاروں کو گزشتہ روز ساحل سمندر کا وہ علاقہ چھوڑ دینے کا حکم ملا جہاں سعودی فرماں روا اور ان کا وفد موجود ہیں۔ ہم اس طرح کا صنفی امتیاز فرانس میں نہیں برتنے دیں گے۔

پولیس یونین کے ترجمان سلوین مارٹن ایچ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سعودی فراں روا اور ان کے مہمان نہیں چاہتے کہ خواتین ان کی حفاظت کریں اس لیے انہوں نے خواتین اہلکاروں کو ہٹانے کا کہا، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ سمندر میں پیراکی کرتے وقت انہیں خواتین دیکھیں۔ یہ اہانت آمیز ہے لیکن سفارت کاری کے حوالے سے یہ بہت اہم ہے، روزانہ شام کے وقت سعودی شاہی خاندان کے اس محل میں ایک ہزار سے زائد لوگ جمع ہوتے ہیں اور یہ فرانس کی معیشت کے لیے بہت مفید ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس