’سکول کی طالبات برائے فروخت‘

’سکول کی طالبات برائے فروخت‘
’سکول کی طالبات برائے فروخت‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان کی روایتی تہذیب میں جہاں کئی ایسی رسوم شامل ہیں جو دنیاکو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں وہیں جاپانیوں کی کچھ ایسی قبیح روایات بھی ہیں جو دنیا بھر میں انہیں ہدف تنقید بناتی ہیں۔ انہی میں سے ایک رسم ’’جے کے بزنس‘‘ ہے۔ حروف’’جے کے ‘‘ جاپانی زبان کے لفظ ’’جوشی کوسی‘‘ کا مخفف ہیں جس کا مطلب ہے ’’ہائی سکول کی طالبات۔‘‘جے کے بزنس میں ہائی سکول کی طالبات بڑی عمر کے مردوں کو مختلف قسم کی خدمات بہم پہنچاتی ہیں جن کے عوض انہیں ادائیگی کی جاتی ہے، ان خدمات میں جے کے واکنگ اور جے کے مساج وغیرہ شامل ہیں۔ایسی خدمات کی آڑ میں دراصل ان طالبات کو جسم فروشی کے لیے عمررسیدہ مردوں کے ہاتھ فروخت کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:16سال کی شادی کے بعد بیوہ خاتون نے کتے سے شادی کا فیصلہ کرلیا، لیکن پہلا شوہر کون تھا؟ جان کر آپ بھی چکرا جائیں گے

جاپان میں سکولوں کی طالبات کو جے کے بزنس کے نام پر تجارتی اشیاء کی طرح فروخت کیا اور خریدا جاتا ہے ۔اگرچہ جے کے بزنس پورے جاپان میں ایک رسم کی طرح رائج ہے لیکن اکی برا(akihbara) کے علاقے میں طالبات کی فروخت کا یہ دھندہ اپنے عروج پر ہے۔ ایک برطانوی صحافی جاپان

کے اس جے کے بزنس کی تحقیقات کے لیے جاپان کے اس علاقے میں گیا جہاں اس نے دیکھا کہ بازاروں میں جا بجا سکولوں کی وردیاں پہنے ہوئے طالبات گروپس کی شکل میں کھڑی تھیں اور ساتھ ہی ان کی خدمات کے حوالے سے پوسٹرز نصب کیے گئے تھے۔ جیسے ہی صحافی نے اپنے کیمرے سے ان طالبات کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو  ایک طرف سے ایک شخص نمودار ہوا اور اس نے صحافی کو ویڈیو بنانے سے روک دیا، شاید وہ شخص ان طالبات کی نگرانی پر مامور تھا۔

ہائی سکول گرل سپورٹ سنٹر کولابو کی ایک نمائندہ یمینو نیتو کا کہنا تھا کہ طالبات اس بزنس کی طرف اس لیے راغب ہوتی ہیں کہ یہاں زندگی بہت کٹھن ہے، روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔

مزید پڑھیں:آن لائن محبت کے بعد یہ جوڑا پہلی مرتبہ ملتے ہی بری طرح لڑ پڑا،

جے کے بزنس میں آنے والی تقریباً تمام طالبات کا تعلق غریب گھرانوں سے ہوتا ہے، یا پھر ان میں وہ طالبات شامل ہوتی ہیں جو سکولوں میں خود کو تنہا محسوس کرتی ہیں اور ان کی وہاں کوئی دوست نہیں ہوتی۔ نیتو نے مزید کہا کہ یہ مکروہ دھندہ اس وقت تک یونہی چلتا رہے گا جب تک ان مصیبت کی ماری لڑکیوں کو فروخت کرنے اور خریدنے والوں کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوتی اور حکومت ان پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس