بار کے صدر سے پھڈا، وکلاءنے ہائی کورٹ کی نئی خاتون جج کو عدالت چھوڑنے پر مجبور کردیا ،بائیکاٹ کا اعلان

بار کے صدر سے پھڈا، وکلاءنے ہائی کورٹ کی نئی خاتون جج کو عدالت چھوڑنے پر ...
بار کے صدر سے پھڈا، وکلاءنے ہائی کورٹ کی نئی خاتون جج کو عدالت چھوڑنے پر مجبور کردیا ،بائیکاٹ کا اعلان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ میں گزشتہ ماہ تعینات ہونے والی خاتون جج جسٹس ارم سجاد گل سے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پیر مسعود چشتی کی تلخ کلامی کے بعد وکلاءنے خاتون جج کو عدالت چھوڑنے پر مجبور کردیا ۔وکلاءنے جسٹس ارم سجاد گل کی عدالت کا بائیکاٹ بھی کردیا ہے جبکہ معاملہ کے حل کے لئے پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی آئندہ ہدایات تک جسٹس ارم سجاد گل کی عدالت کا بائیکاٹ جاری رہے گا ۔

جسٹس ارم سجاد گل کی عدالت میں ایک کیس زیرسماعت تھا جس میں پیر مسعود چشتی وکیل ہیں ۔وہ بروقت عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی ۔بعد میں پیر مسعود چشتی نے عدالت میں پیش ہوکر اصرار کیا کہ ان کا کیس آج ہی دوبارہ سنا جائے تاہم فاضل جج نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور انہیں روسٹرم چھوڑنے کی ہدایت کی ۔پیر مسعود چشتی نے روسٹرم چھوڑنے کی بجائے کیس کی سماعت یا پھرتاریخ مقرر کرنے پر زوردیا جس پر فاضل جج نے انہیں ایک مرتبہ پھر کہا کہ دوسرے وکلاءکو آگے آنے دیں روسٹرم چھوڑ دیں۔

اس پر عدالت میں موجود وکلاءاپنے صدر کے ساتھ مل گئے اور فاضل جج سے کہا کہ عدالت ہم نہیں آپ چھوڑیں گی جس پر جج اٹھ کر اپنے چیمبر میں چلی گئیں اور وکلاءنے نعرہ بازی شروع کردی ،وکلاءنے فاضل جج کے خلاف اور پیر مسعود چشتی کے حق میں نعرے لگائے اور ہائی کورٹ بار کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ۔وکلاءنے اجلاس کے بعد ریلی بھی نکالی ۔وکلاءنے جسٹس ارم سجاد گل کو پرنسپل سیٹ سے عدالت عالیہ کے کسی علاقائی بنچ میں بھجوانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔وکلاءنے دھمکی دی ہے اگر ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تو تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا ۔ہائی کورٹ بار کے ہنگامی اجلاس سے صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر محمد مسعود چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر نہ ہوتا تو عدالت کے اندر ہی مذکورہ جج صاحبہ کو جواب دیتا لیکن بطور صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میرا عہدہ اراکین بار کی امانت ہے اور میں نے مناسب سمجھا کہ تمام واقعات ہاﺅس کے سامنے پیش کروں۔

انہوں نے کہا کہ میں وائس چیئرپرسن پنجاب بار کونسل فرح اعجاز بیگ و دیگر ممبران صدر لاہور بار اور تمام صوبہ کی بار ایسوسی ایشنز اور ممبران ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا بے حد شکر گزار ہوں انہوں نے اس موقع پر اتحاد اور قوت کا مظاہرہ کیا اور انشاءاللہ ہمارا یہ اتحاد برقرار رہے گا۔ سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن محمد احمد قیوم نے ہاﺅس کو بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ا یشن کو آئے روز جج صاحبان کے وکلاءکے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں لیکن آج صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر محمد مسعود چشتی کے ساتھ جسٹس مسز ارم سجاد گل نے انتہائی غیر مناسب اور ناشائستہ اور غیر مہذب رویہ اپنا کرایک ادارے اور پنجاب بھر کے وکلاءکے مینڈیٹ کا احترام نہ کیا ہے۔سید ذوالفقار علی بخاری نے ہاﺅس کو بتایا کہ وہ کمرہ عدالت میں موجود تھے صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر محمد مسعود چشتی نے ایک ری لسٹ ہونے والے مقدمہ کی جسٹس مسز ارم سجاد گل جج سے کوئی بھی تاریخ سماعت ڈالنے کی درخواست کی۔ جج صاحبہ کا اتنا سننا ہی تھا وہ مشتعل ہو گئیں اور صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو کہا کہ آپ مجھ پر دباﺅ ڈال رہے ہیں میں نے فیصلہ دے دیا ہے فوراً روسٹرم خالی کر دو۔ یہ بات انہوں نے کئی مرتبہ دہرائی۔

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ججز کا احترام کرتے ہیں اور وہاں سے بھی اسی طرح کا سلوک ہونا چاہئے اگر کسی وکیل کے ساتھ زیادتی کی جائے گی تو پھر ہم بھی خاموش نہیں رہیں گے۔ وکلاءنے جب عدلیہ پر برا وقت آیا تو ساتھ دیا اور آئندہ بھی ہمارے علاوہ کوئی ساتھ نہ ہو گا لہٰذا انہیں اپنے مینڈیٹ کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے۔ ججز کی تعیناتی میں میرٹ کی دھجیاں اڑائیں گئیں جسکی وجہ سے اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں۔ جب بار اور بنچ ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں تو وہ برابر رہیں گے تو گاڑی چلے گی وگرنہ منزل نہیں مل سکے گی۔لاہور ہائیکورٹ بار کے سابق صدور حافظ عبدالرحمن انصاری اوراصغر علی گل نے کہا کہ ایک ایسی خاتون جو کبھی بار میں دیکھی گئی نہ کسی عدالت میں پیش ہوئی اور نان پروفیشنل وکیل کو میرٹ کے بغیر اقربا پروری اور بندر بانٹ کے ذریعہ جج بنایا جائے گا تو عدلیہ کی عزت خاک میں ملتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ خاتون جج نے نہ صرف صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بلکہ پنجاب بھر کے وکلاءکے خلاف بات کی ہے جو کسی صورت برداشت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بار کی صد سالہ تاریخ میں آج تک کسی جج نے بار کے صدر سے اس طرح بات نہیں کی جس طرح اس جج نے کی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ارم سجاد گل کو فی الفور ہٹایا جائے اور اس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جائے۔ اجلاس کے بعد وکلاءنمائندوں نے باہمی مشاورت سے معاملے کے حل کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میںپاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیر تارڑ ، ہائی کورٹ بار کے سابق صدورحافظ عبدالرحمن انصاری ،اصغر علی گل ،محمد احسن بھون ،عابد ساقی ،لاہور بار کے صدراشتیاق اے خان ،سابق صدر لاہور بار منصور الرحمن آفریدی اورہائی کورٹ و لاہور بار کے تمام عہدیدارشامل ہیں ۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک کی عدالت عالیہ میں عدم موجودگی کے باعث کمیٹی کے ارکان نے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس شیخ مامون رشید سے ملاقات کی اور انہیں تمام واقعہ سے آگاہ کیا ۔

بعد میں ہائی کورٹ بار کی طرف سے بتایا گیا کہ انہیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ جسٹس ارم سجاد گل آج 30جولائی سے عدالت نہیں کریں گے تاہم عدالتی ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی ۔متعلقہ افسران کا کہنا ہے کہ اس بات کا فیصلہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی عدالت عالیہ میں آمد کے بعد ہی کیا جائے گا۔واضح رہے کہ جسٹس ارم سجاد گل نے 8جون 2015ءکو لاہور ہائی کورٹ کی ایڈیشنل جج کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

مزید : لاہور