ہائی کورٹ :بجلی کے بلوں پر سرچارجز کی وصولی کے خلاف درخواست سماعت کے لئے منظور ،نوٹس جاری

ہائی کورٹ :بجلی کے بلوں پر سرچارجز کی وصولی کے خلاف درخواست سماعت کے لئے ...
ہائی کورٹ :بجلی کے بلوں پر سرچارجز کی وصولی کے خلاف درخواست سماعت کے لئے منظور ،نوٹس جاری

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے بجلی کے بلوںمیں نیلم جہلم سمیت مختلف سرچارجز کے نام پر 4 روپے فی یونٹ وصولی کے خلاف درخواست باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت ، پیپکو وزارت پانی و بجلی ، نیپرا اور پنجاب میں تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کوبھی معاونت کے لئے طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیا۔ درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ نیپرا ملی بھگت سے عوام پر بجلی کے بلوں پر بوجھ ڈال رہی ہے ٹیرف ریشنلائزیشن سرچارج، ڈیبٹ سروسنگ سرچارج، نیلم جہلم سرچارج یہ وہ تمام سرچارجز ہیں جو بجلی کی قیمت نہیں ہیںلیکن نیپرا نے بغیر عوامی شنوائی کیے یہ سرچارجز لگا دئیے جو عوام کے ساتھ فراڈ ہے انھوں نے مزید کہا کہ نیپرا کے ممبران وفاقی حکومت کے ملازم ہیں اور میرٹ پر کام نہیں کررہے۔او ر یکطرفہ طور پر بغیر اعتراضات وصول کیے عوام پر 4روپے تک سرچارجز عائد کردئیے وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نصر احمد نے عدالت کو بتایا کہ بجلی کا نظام چلانے کیلئے یہ سرچارجز ضروری ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت درجنوں ٹیکس وصول کررہی ہے اور اس طرح کی بجلی چوری اور بڑے بڑے نادہندہ سرکاری اداروں کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کیا جارہا ہے عدالت نے سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

مزید : لاہور