فرد جرم عائد ہونے کے بعد اعلیٰ عدالتیں ٹرائل میں مداخلت نہیں کرسکتیں،سپریم کورٹ

فرد جرم عائد ہونے کے بعد اعلیٰ عدالتیں ٹرائل میں مداخلت نہیں کرسکتیں،سپریم ...
فرد جرم عائد ہونے کے بعد اعلیٰ عدالتیں ٹرائل میں مداخلت نہیں کرسکتیں،سپریم کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے 11شہریوں سے 33ملین کا فراڈ کرنے والے نیب کے ملزم کی ریفرنس خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ملزم ناصر خان کی درخواست پر سماعت کی، ملزم کے وکیل چودھری عبدالستار نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیوانی نوعیت کے مقدمے کو فوجداری بنا دیا اور 2014ءمیں ملزم کے خلاف 11کاروباری افراد کے ساتھ تمباکو اور پان کے لین دین کے مالی تنازع کو فراڈ کی شکل دے کر ریفرنس دائر کر دیا، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی ضمانت منظور کر لی ہے مگر ریفرنس خارج کرنے کا حکم نہیں دیا، انہوں نے بتایا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ حقائق کے منافی ہے لہذا ریفرنس خارج کرنے کا حکم دیا جائے، بنچ کو بتایا گیا کہ ٹرائل کے دوران ملز م پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے جس پر دو رکنی بنچ نے قرار دیا کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد سپریم کورٹ ٹرائل میں مداخلت نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ نے ملزم کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریفرنس خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

مزید : لاہور