آزاد کشمیر انتخابات،پرویز رشید مرد میدان ٹھہرے

آزاد کشمیر انتخابات،پرویز رشید مرد میدان ٹھہرے
 آزاد کشمیر انتخابات،پرویز رشید مرد میدان ٹھہرے

  

پاکستان میں گزشتہ انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات اور عدالتی کارروائیوں کے بعد آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لئے ہونے والے انتخابات فوج کی زیرِ نگرانی ہوئے سیکورٹی اداروں اور الیکشن کمیشن نے ایسے اقدامات کئے تھے کہ اس پر کسی کو انگلی اٹھانے کی جرا ت نہ ہو سکی اور یہی وجہ ہے کہ لاہور سے تحریک انصاف مہاجرین کی نشست پر کامیاب ہوئی ۔ایک طرف پیپلز پارٹی کی خراب کارکردگی تھی تو دوسری جانب مسلم لیگ(ن)اور تحریک انصاف پہلی بار آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ایک طرف وزیر اعظم محمد نواز شریف پر مودی کے ساتھ تعلقات پر شدید تنقید ہو رہی تھی تو دوسری جا نب ان کے قریبی ساتھی وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے جماعت اسلامی کو مسلم لیگ(ن)کے ساتھ جوڑ دیا تاکہ ان الزامات کا جواب دیا جا سکے جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف نے مسلم کانفرنس کے ساتھ اتحاد کر کے میدان گرما دیا ۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کے ساتھی جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلا ول بھٹو زردار ی ان کی حکومت اور پیپلز پارٹی کے رہنماء بہت پہلے سے مہم چلا رہے تھے ۔اس دوران وزیراعظم محمد نواز شریف کو ہارٹ سرجری کرانا پڑی۔

9جولائی تک وہ لندن میں مقیم رہے او ر ان کی صحت کے حوالے سے ان کے ساتھیوں اور پارٹی کو تشویش تھی تو دوسری جانب 21جولائی یعنی 12دن بعد انتخابات تھے محمد نواز شریف نے ان انتخابات کے لئے کپتان مقر ر کرنے کیلئے کئی ناموں پر غور کیا انہوں نے اپنے خاندان اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف،وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان اور وزیر دفاع خواجہ آصف کو کشمیر الیکشن مہم سے اس لئے علیحدہ رکھا کہ وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کے ما تحت کچھ ایسے سیکورٹی ادارے آتے ہیں جو کشمیر میں ان انتخابات کی نگرانی پر مامور تھے ۔محمد نوا ز شریف نے کشمیر کے انتخابات کے لئے پرویز رشید کو کپتان مقرر کیا تو اس پر میڈیا میں طرح طرح کے تجزیے کئے گئے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں مخلوط حکومت بنائے گی۔پرویز رشید کا ساتھ محمد نواز شریف کے معاون خصوصی ڈاکٹرآصف کرمانی اور وفاقی وزیر امورِ کشمیر چوھدری برجیس طاہر نے دیا اور پرویز رشید نے ایسے انداز میں مہم شروع کی کہ خود ان کی پارٹی کے لوگ بھی ان پر باتیں کرنے لگے ۔بعض پارٹی رہنماء سمجھے کہ پرویز رشید اٹھارہ انیس نشستیں نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔

جب محمد نواز شریف نے پرویز رشید سے لندن میں پوچھا کہ پرویز رشید صاحب آپ کی مہم انتہائی خوش اسلوبی سے جاری ہے لیکن آپ کتنی نشستیں نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میاں صاحب 31نشستیں تو پکی ہیں جس پر محمد نواز شریف بھی مسکرائے اور وہاں پر موجود لوگ بھی حیران ہوئے کہ کس اعتماد کے ساتھ پرویز رشید اکتیس نشستوں کی بات کر رہے ہیں لیکن اکیس جولائی کو رات آٹھ بجے جب نتائج آنا شروع ہو گئے تو پرویز رشید نے جو وعدہ محمد نواز شریف سے کیا تھا وہ پورا کر کے دکھایا ۔تحریکِ انصاف کو ٓزاد کشمیر کے الیکشن میں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا آزاد کشمیر کی عوام نے عمران خان کی دھرنا سیاست اور بے بنیاد الزامات کو بھی مسترد کر دیا اورآزاد کشمیر میں پی ٹی آئی ایک نشست بھی حاصل نہ کر سکی دو نشستیں جو جیتی ہیں ایک لاہور اور دوسری خیبر پختونخوا کے کشمیری مہاجرین کی ہے ۔ پرویز رشید نے عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری کے الزامات کا بہت اچھے طریقے سے جواب دیا بلکہ اپنی بہترین حکمت عملی کی وجہ سے الیکشن مہم کو کامیابی کے ساتھ چلایا اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کا پیغام گاؤں گاؤں پہنچایا کہ مسلم لیگ کی حکومت آزاد کشمیر میں بھی گڈ گورننس کے نفاذ کرپشن کے خاتمہ میرٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ ترقی اور خوشحالی لائے گی اور قانون کی بالا دستی قائم کرے گی۔

پرویز رشید نے آزاد کشمیر کے لوگوں کو یہ باور کرایا کہ مسلم لیگ(ن)ان کا کیس لڑے گی اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا مقدمہ بھی ہم لڑ سکتے ہیں کیونکہ جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ جماعت اسلامی کشمیر پر سودا کرنے والوں کا کبھی ساتھ نہیں دے گی اس لئے انہوں نے کشمیریوں کو یہ باور کرایا کہ جب جماعت اسلامی نے اتحاد کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو یقین دہانی کرائی ہو گی کہ وہ کشمیر کا کیس لڑیں گے اور پھر محمد نوا ز شریف نے برہان وانی کو شہید قرار دے کر پرویز رشید کی بات کو سچ ثابت کر دیا ۔پرویز رشید نے نہ صرف اپنی پارٹی کے بہت سے رہنماؤں کے منہ بند کر دیئے بلکہ اپنے مخالفین اور ناقدین کے منہ بھی بند کر کے یہ ثابت کر دیا کہ جس طرح محمد نوا ز شریف کا انتخاب صحیح تھا اسی طرح انہوں نے جو کپتانی کی وہ بھی بھر پور تھی اور پرویز رشید نا صرف مرد میدان ٹھہرے بلکہ انہوں نے آزاد کشمیر کا انتخاب جیت کر محمد نواز شریف کو اکتیس سیٹیں پیش کیں اور اس کے بعد دوبارہ اپنا کام شروع کر دیا۔ ان لیڈروں اور ان لوگوں کی طرح کریڈٹ لینے کی بھی کوشش نہیں کی جو معمولی چیزوں کا کریڈٹ لیکر شادیانے بجاتے ہیں بلکہ پرویز رشید انتخابات کے نتائج کے بعد ایک طرف ہو گئے اور پھرسے اپنے کاموں میں مشغول ہو گئے جس سے پرویز رشید کی سیاست میں پختگی کا پتہ چلتا ہے ۔

مزید :

کالم -