تاریخ سے جنگ

تاریخ سے جنگ
 تاریخ سے جنگ

  

ترک بغاوت کے بھونچال کا سلسلہ ہنوز تھما نہیں،عمل اور رد عمل کا قافلہ ابھی رکا نہیں۔ترک سیاست تو کیا سماج تک اس کی لپیٹ میں ہے،خوف و تشکیک اور بے یقینی کے سائے سمٹنے کی بجائے گہرے ہونے چلے ہیں۔لمحہ بھر کو مان لیتے ہیں کہ اس زلزلے کے پیچھے گولن کھڑے ہیں۔۔۔سو سوالوں کا ایک سوال کہ ان کے پیچھے کون کھڑا ہے ؟شروع سے ہی مسلمان سیاست او سیادت کے مسئلہ پر اپنے آپ کو چبھتے ہوئے سوالات کی زد میں نظر آ ئے ہیں۔اردوان اور گولن کی کوئی نجی یا شخصی رقابت کہاں ۔۔۔ان کے تنازعات کے ڈانڈے ان کے خیالات و نظریات میں ڈھونڈنے والے ڈھونڈاکئے ۔بقول جون ایلیا:

ثابت ہوا سکونِ دل و جاں کہیں نہیں

رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی

صدر اول میں سیاسی اختلافات سے متوحش و متذبذب ہو کر جمہوری یا شورائی طرز انتخاب کی بجائے ۔۔۔ہمارے متعدد قدما نے کہیں مورثی امامت اور کہیں فضیلت و قرابت کا ہیکل تشکیل دیا تھا۔ تب کسی نے ادراک نہ کیا کہ یہ اپنے اندر تقسیم در تقسیم کے مذموم جراثیم رکھتا ہے ۔امہات مصیبت یہ اتری کہ عباسی علما اور فاطمی فقہا نے سیاسی اختلافات و تنازعات کومذہب کے قالب میں پیش کیا۔بعد میںیہ پروپیگنڈا کتب میں مدون و محفوظ ہوا تو متوسطین اور متاخرین کے لئے متقدمین کا محاکمہ و محاسبہ ممکن نہ رہا کہ ہم شروع سے ہی قدما کی فہم کو حرف آخر سمجھے بیٹھے رہے۔صدیاں بیت گئیں مگر مسلم ذہن کے نظریات ،خواہشات اور اہداف میں سرمو انحراف نہیں آیا۔کئی سال قبل گولن صاحب سے نیو یارک میں بی بی سی کے نمائندے نے سوال کیا تھا ۔۔۔آپ کام ترکی کے لئے کرتے ہیں لیکن مقیم امریکہ میں ہیں،آپ کو تو مستقل استنبول میں ہونا چاہئے ۔گولن صاحب اپنی وہیل چیئر پر پہلو بدلتے ہیں اور سپاٹ لہجے میں کہتے ہیں ۔۔۔مَیں اپنے آپ کو امریکہ میں زیادہ آزاد اور محفوظ تصور کرتا ہوں۔کہا جاتا ہے کہ اسماعیلی داعی محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں ہمیشہ دیار غیر کی سر زمین پر پناہ لینے پر مجبور رہے۔

زیر زمین تحریک اور پوشیدہ سر گرمیوں کی ترک تازیوں کی بدولت ہی فاطمی خلافت منصہ شہود پر ہویدا ہوئی تھی ۔منگول حملوں کے بعد جب فاطمیوں کو زوال آیا تو پھرانہیں مختلف دشمنوں کی مشترکہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔اسماعیلی داعی سخت نا مساعد حالات میں بھی غزنوی ،غوری، سلجوقی، زنگی، ایوبی اور تاتاری ایسے مخالفین سے چومکھی لڑائی لڑا کئے ۔او لولعزمی اور مہم جوئی کی بدولت ان کے قد آور لیڈر اکثر سر حد سے باہر اپنی خفیہ دعوت وتحریک کی کمان سنبھالے رہے۔ایسی کٹھن اور گھمبیر صورت میں ان کے لئے اپنے سیاسی عزائم پر پردہ ڈالے رکھنا ایک سوچی سمجھی اور مخفی حکمت عملی کا حصہ تھا ۔صوفی ازم کے مظہر حلقے جو بظاہر خو د کو صوفی و قلندر کی حیثیت سے پیش کرتے ،بباطن اپنے سیاسی عزائم کے لئے سر گرم رہتے ۔عراق اور ایران کہ جہاں متعدد صوفی سلسلوں اور طرقوں کی پیدائش و پرورش ہوتی رہی۔۔۔اسماعیلی داعی حالات کی سازگاری کے ساتھ ہی سامنے کی ٹکر لیتے اور ہاں اکثر جم کر نہ لڑتے اور گاہ گاہ وقت آنے پر اپنی خفی صلاحیتوں کے جوہر بھی دکھاتے ۔بدخشاں میں پیرو میر کی ننھی منھی سلطنت ۔۔۔جو صدیوں باقی اور برقرار رہی۔۔۔اور ایران میں صفوی سورماؤں کی حکومت اس دعوے کی روشن مثال ٹھہری۔کہا جاتا ہے کہ اول اول صفوی تحریک پر صوفیائے بے سیف کا رنگ غالب تھا ۔۔۔بعد میں لیکن صوفی شیخ جنید کی سربراہی میں قزلباشوں کی زیر زمین سرگرمیاںآخر کار صفوی سلطنت کے قیام پر تمام ہوئیں۔

قطعیت کے ساتھ تو کچھ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ بغاوت کا اردوان کے دماغ میں کتنا ادراک ہے ۔وسیع او ر چہاراطراف واکناف کارروائیاں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تخریب کے تلچھٹ کا بحر بے کنار ہے ۔اس سے قبل اسی ترک سر زمین پر مصطفی کمال پاشا بھی تاریخ سے جنگ کر چکا ۔کہا جاتا ہے کہ تحلیل خلافت کے اعلان نے ترکوں کو ایک بار تو سکتے میں ڈال دیا تھا ۔کرد لیڈر شیخ سعید نقشبندی نے بغاوت کی تو ان کی تحریک مختلف علاقوں میں پھیلتی گئی۔کئی شہروں اور علاقوں میں تو باغیوں نے حکومتی املاک و دفاتر تک دسترس میں لے لئے تھے۔ مگرریاستی طاقت کے آگے باغی زیادہ دیر ٹھہر نہ سکے اور شیخ سعید گرفتار کر لئے گئے پھر ان کا سر رسی پر ٹانک دیا گیا ۔کہا جاتا ہے کہ پاشا کے پے در پے اقدامات سے خود ان کے قریبی ساتھیوں میں بھی بے چینی نے جنم لیا تھا ۔بعض دوستوں نے تو اس اندیشے کا برملا اظہار کیا کہ ہم کسی اور سمت جا نکلے ہیں۔

آگے چل کر پاشا کے قتل کی سازش پکڑی گئی تو چوٹی کے تمام مخا لفین مثلاًجاوید بے، کارا بکر، عصمت جاں بلوت اور احمد شکری تختہ دار پر کھینچ دیئے گئے ۔استنبول بھی عجب شہر ہے کہ جس نے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔کبھی یہ عالمی دارالحکومت ہو اکئے اور ترک عثمانیوں کے باب عالی میں بڑے بڑے حکمرانوں کی جبینیں جھکنے چلی آتی تھیں۔اتا ترک کے آرا وافکار کو بھی یہاں فروغ حاصل ہوا ۔فاتح سلطان پل جو دو براعظموں کو ملایا کئے اس کا جلال وکمال کوئی پانچ صدیوں سے ہنوز قائم دائم ہے ۔میزبان رسول ابوایوب انصاریؓ کے مزار پر بھی عوام کا اژدہام عام ہوتا ہے ۔شاید اس شہر کو اتنا اعتبار اور وقار نہ ملتا۔اگر عہد اولیٰ کے مسلمان ایک صحابی کی شکل میں اپنی موجودگی کی ابدی علامت یہاں نہ چھوڑے گئے ہوتے ۔ان سب سے ہٹ کر عوام کے دل و دماغ پر شاہ قونیہ مولانائے روم کچھ اس طرح چھائے ہوئے ہیں کہ پورے کا پورا ترکی صوفی ازم میں لپٹا ہوا ہے ۔اس سرزمین کے چپے چپے اور قریے قریے پر تصوف کے اثرات انمٹ نقش ہوئے پڑے ہیں۔تو پھر کیوں نہ اسماعیلیوں کے سینے میں اپنی تاریخی عظمت کا خبط جاگ اٹھے !

اہل صفا کے بھیس میں ملبوس صوفی داعیوں کو چیلنجز تو ہر دور میں درپیش رہے ہیں۔سقوط قاہرہ ہو کہ سقوط الموت یا پھر ملتان کی ولایت کا خاتمہ بحران کے ہر لمحے اور بھنور کے ہر لحظے میں انہوں نے تحریک و دعوت کا نیا میدان ڈھونڈنکالا۔اولولعزم اسماعیلی داعیوں کی صوفی تحریک نے ہر دور میں نئے دور کے تقاضوں کو سمجھا اور پھر اپنے آپ کو اسی قالب میں ڈھالا۔کون سوچ سکتا تھا کہ امویوں کی باجبروت حکومت کا شیرازہ جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکتا ہے یا پھرعباسی بغداد کی سرپرستی میںآل بویہ پھل پھول سکتے ہیں۔تاریخ کا بین السطور مطالعہ مطلع کرتا ہے کہ عباسی ،فاطمی اور اندلس کی اموی یہ تینوں متبادل خلافتیں بالآخر انہی کے عزائم و نظریات کا توسیعہ بن کر رہ گئی تھیں۔جب سیاسی نظام کو سنبھالے رکھنا ان کے لئے ممکن نہ رہا تو انہوں نے خلافت و بیعت کے تخت تیار کئے ۔قوالی سے قصیدہ اور دف سے بانسری کی لَے کے ذریعے عامۃ الناس کے دل جیتے رکھے ۔مشائخیت کے مستقبل کے لئے انہوں نے اسے عوامی فلاح وبہبود سے جوڑا اور فائدہ عام اور فیض تام کو زندہ اور محسوس شکل دے ڈالی۔ خدمت خلق کے لئے تعلیمی و فلاحی ادارے اور شفاخانے قائم کئے ۔آرٹ ،شاعری ،فنون لطیفہ ، صوفی موسیقی اوراسلامی تہذیب کے پردے میں اپنے سیاسی عزائم آگے بڑھائے ۔متعدد مقامات پر تو ہر درگاہ اور مزارسے ملحق کوئی مدرسہ یا تعلیمی ادارہ بنایا گیا کہ کم ازکم نذرو نیاز کی وصولی و حصولی کا داغ کچھ تو پھیکا پڑے ۔

مزید :

کالم -