پاکستان اور چین کے مابین فلوریکلچر کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات ہیں

پاکستان اور چین کے مابین فلوریکلچر کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کے ...

  

لاہور ( این این آئی)پاکستان اور چین کے مابین فلوریکلچر کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کے روشن امکانات موجود ہیں ۔یہ بات پاک چین جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے چین کے شینڈونگ صوبے سے آئے ہوے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔مندوبین نے چین میں پھولوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیشِ نظر پاکستان سے پھول درآمد کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ۔وفد کے نمایاں ارکان میں چین کی روئیڈالانگ ایگری کلچرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی سے مسٹر مائیکل وین ،کیلون ڈیلی یوز پراڈکٹس انٹرنیشنل کمپنی لمیٹڈ سے مسٹر ایلکس پین ،شینڈونگ شیفنگ کمپنی لمیٹڈ سے مسٹر یویان لی اور شینڈونگ بیشنگ گوان گروپ کمپنی لمیٹڈسے مسٹر پیٹر نے کی۔صدر پاک چین جوائنٹ چیمبر ، شاہ فیصل آفریدی نے گرم جوشی سے وفد کا استقبال کیا اور کہا کہ مجوزہ شعبے میں دونوں ممالک کی شراکت معیشت کیلئے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس شعبے میں ترقی کی بہت گنجائش موجود ہے کیونکہ پھولوں کی کاشت کیلئے پاکستان کے پاس بہترین سازگار موسم اور زرخیز مٹی موجود ہے جو کہ سال بھر وسیع اقسام کے پھولوں کی بڑی فصل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔؂پاکستان میں اس شعبے کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہوے شاہ فیصل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کے بیشتر شہروں میں مثلا قصور، شیخوپورہ،چونیاں ،ساہیوال اور گوجرانوالہ میں پھولوں کی پیداوار اور فروخت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ اُنہوں نے بتایا کہ ان پھولوں میں کارنیشن، جاسمین ، ٹیولپ، پوپی اور گلاب کی 100سے بھی زائد اقسام اُگائی جا رہی ہیں۔فیصل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کے فلوریکلچر شعبے میں سرمایہ کاری اُسی صورت میں منافع بخش ہے اگر سرمایہ کار پھولوں کی کاشت اور فروخت کے طریقہ کار میں ویلیو ایڈیشن کرنے کا منصوبہ رکھتے ہوں ۔ اُنہوں نے کہا کہ وسائل اور افرادی قوت پاکستان میں وافر تعداد میں موجود ہیں پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وسائل کو ویلیو ایڈیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بروئے کار لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ فلوریکلچر سے منسلک دیگر غیر روائتی مصنوعات مثلا پھولوں کا عرق اور اسینشل آئلزوغیرہ کی کاسمیٹکس اور فارماسیوٹیکلز انڈسٹری میں بہت زیادہ مانگ ہے جو کہ فلوریکلچر صنعت کا ایک اضافی پلس پوائینٹ ہے۔دریں اثناء فیصل آفریدی وفد ممبران کو پاکستان میں اس صنعت کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا جس میں اُنہوں نے واضح کیا کہ فلوریکلچر صنعت اس وقت پاکستان میں ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے جہاں اسے کافی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سے سب سے بڑا مسئلہ اس شعبے سے منسلک تربیت یافتہ ا فراد کی کمی ہے جو کہ اس شعبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈحالنے کی اہلیت رکھتے ہوں ۔اُنہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو چینی معاونت اور تعاون سے حل کیا جا سکتا ہے کیونکہ چین کے پاس اس شعبے سے وابستہ ہنر مند افرادی قوت ، جدید ٹیکنالوجی اور ماہرانہ تجربہ بھی ہے ہے جس سے پاکستان مستفید ہو سکتا ہے۔فیصل آفریدی نے اس شعبے سے وابسطہ چینی سٹیک ہولڈرز کو پاکستان میں ماڈ ل لنرسریز اور ٹریننگ سنٹرز قائم کرنے کی دعوت دی ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے اس شعبے اہم ضرورت اس وقت پھولوں کی شیلف لایف بڑھانے کیلئے" کول چین نظام" کی عدم دستیابی ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ جدید کول چین نظام کی موجودگی کی صورت میں پاکستان میں پھولوں کی کل پیداوار کا 40فیصد ضائع ہونے سے بچ جائے گا ۔اس موقع پر چینی وفد کے سینئر رکن مسٹر ایلکس پین نے آگاہ کیاکہ چین میں لوگوں کی طرز زندگی میں تبدیلی اور معیار زندگی میں بہتری کے نتیجے میں فلوریکلچر مصنوعات کی مانگ میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ چین کے پاس محض 10% قابل کاشت اراضی موجود ہے جو کہ اناج اُگانے کیلئے استعمال کی جارہی ہے۔ مسٹر پین نے بتایا کہ چینی حکومت ایسے ہمسایہ ممالک میں اس صنعت کی پیداوری سہلوتیں منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے جہاں لیبر وافر اور سستی ہو اور ترقی کے امکانات بھی زیادہ ہوں ۔یہ بات قابل غور ہے کہ اس وقت چین کو فلوریکلچر مصنوعات کی کل مانگ کا 50% حصہ نیدرلینڈ فراہم کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے پاس نیدر لینڈ کے مقابلے میں 20% زیادہ اراضی اور10گنازیادہ افرادی قوت ، سازگار موسم اور زرخیز مٹی موجود ہے۔محض جدید ٹیکنالوجی کا حصول ممکن بنا کر پاکستان اس شعبے میں کمال حاصل کر سکتا ہے۔

مزید :

کامرس -