کرپشن ’’ مائیکرو لیول‘‘ سی ایم کے احکام ہوا میں؟

کرپشن ’’ مائیکرو لیول‘‘ سی ایم کے احکام ہوا میں؟
 کرپشن ’’ مائیکرو لیول‘‘ سی ایم کے احکام ہوا میں؟

  

عرصہ ہوا اس کالم کو سیاسی ماحول سے الگ رکھا اور معاشرتی مسائل پر لکھنا شروع کیا کہ تجزیئے میں سیاست ہی ہوتی ہے اس لئے ایک ہی روز دو جگہ سیاست پر رائے کچھ عجیب بلکہ معیوب لگی تو کالم کو روز مرہ کے معاشرتی اور سماجی مسائل کی طرف موڑ دیا۔ اس حوالے سے لکھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ سیاست کی طرح یہاں بھی بہت ’’ کھوبے‘‘ ہیں اور جس طرف بھی نظر ڈالیں مسئلے ہی نظر آتے ہیں جن کو میڈیا والے نظر انداز کر رہے ہیں کہ بعض کا ذکر کسی خبر کی صورت میں ہو جاتا ہے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر غور کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی حالانکہ معاشرتی زندگی دکھوں سے بھری ہوئی ہے۔

معاشیات یا اقتصادیات میں ایک اصطلاح (ٹرم) ’’مائیکرو فنانسنگ‘‘ بھی مستعمل ہے، اور اسی حوالے سے بہت سے معاملات میں مائیکرو کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، مائیکرو سے جو مراد ہم نے لی وہ تو سطحی ہے کہ مائیکرو فنانسنگ چھوٹے درجہ پر سرمایہ کاری ہے، اور اسے فنانس کے شعبہ میں اسی سطح کے لئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن جب ’’مائیکرو لیول‘‘ کہیں تو پھراس سے یہی مراد لی جاسکتی ہے کہ ’’ نچلی سطح‘‘ پر اب زبان دان حضرات ہماری تصحیح کرسکتے ہیں، تاہم ہمارے نزدیک’’ مائیکرولیول‘‘ نچلی سطح ہی ہے۔

یہ ذکر یوں ہوا کہ آج’’ مائیکرولیول‘‘ کی بات کرنے کو جی چاہتا ہے، اور اس سے اندازہ ہوگا کہ ہمارے ملک میں سب ’’گند‘‘ اوپر کی سطح پر ہی نہیں بلکہ ’’نچلی‘‘ سطح پر بھی ہے، اور اگر یہ کہا جائے کہ بالا دست طبقہ تک توجو ہے سو ہے، زیر دست طبقے نے جو اندھی مچا رکھی ہے، اس کا جواب نہیں، اصل میں تو عام آدمی کی زندگی اس طبقے نے اجیرن کررکھی ہے جو مختلف حیلوں بہانوں سے کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے، اور اس سے براہ راست عام زندگی متاثر ہوتی ہے، آج کل عام زندگی یا ہم لوگ محترم ڈاکٹر حضرات کی صوابدید پر ہیں اور بیشتر کیا زیادہ تر معاملات میں ’’ سیر‘‘ کی ہدائت کی جاتی ہے، اور اس میں بھی بہتر ’’ سیر صبح‘‘ ہے، اگرچہ بعداز سہ پہر بھی بڑی رونق ہوتی ہے اور جو باغات میسر ہیں، ان میں شہری صحت مند رہنے کی تگ و دو کرتے نظر آتے ہیں جن علاقوں میں یہ سہولت نہیں( بیشتر میں نہیں ہے) وہاں حضرات و خواتین سڑکیں ناپتے دکھائی دیتے ہیں، ہم خود بھی سیر صبح کے عادی ہیں مجبوری ہے، طبی ہدایات پر تو عمل کرنا ہی ہوتا ہے اور اب تو ہم اس لت میں بری طرح مبتلا ہو گئے ہوئے ہیں اور صبح نماز فجر سے چند لمحے پہلے آنکھ کھل جاتی ہے پھر نماز کی ادائیگی کے بعد ہم سٹرکیں ناپ رہے ہوتے ہیں کہ مصطفےٰ ٹاؤن میں کوئی اتنا بڑا پارک نہیں جس میں جو گنگ ٹریک کی سہولت موجود ہو، اس آبادی کا ایک مرکزی پارک ہے جس کا رقبہ ایک حد تک تو معقول ہے اور یہاں جوگنگ ٹریک بھی ہے لیکن پارک بہرحال چھوٹا ہے اور سیر کے لئے بہت زیادہ چکر لگانا پڑتے ہیں، اس لئے ہم نے بذریعہ روڈ ایک روٹ بنا رکھا ہے جو وحدت روڈ تک اور وہاں سے واپسی ہے، پارک میں سیر کا اختتام ہوتا ہے اور یہاں بیٹھ کر گپ لگتی ہے، موسم بہتر ہو تو سیر بہت ہی مزہ بھی دیتی ہے، اور موسم میں ذرا تلخی آجائے تو پسینے میں شرابور ہو جاتے ہیں۔

قارئین! آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صبح موسم اچھا اور خوشگوار ہو، آپ اپنے گھر سے سیر کرتے ہوئے وحدت روڈ تک جائیں۔مزاج میں قدرے فرحت آجائے اور جب آپ واپس آئیں اور جونہی مرکزی گرین بیلٹ پر پہنچیں تو آپ کا سامنا دو مختلف ریوڑوں سے ہو جائے ایک گرین بیلٹ میں پودوں اور گھاس سے اٹھکیلیاں کر رہا ہو دوسرا اسی گرین بیلٹ کے دوسرے حصے میں جاتے ہوئے گھروں کے سبزے کو منہ مارتا جائے۔ بھیڑوں اور بکریوں کے ان ریوڑوں میں گدھے اور بھینسوں کا ہونا بھی تعجب کا باعث نہیں۔ اب آپ خود ہی انصاف فرمایئے کہ صبح کی اس سیر کا یہ حصہ آپ کا سارا ہی مزہ غارت کرے گا یا نہیں۔ ہمارے ساتھ یہ ہر روز ہوتا ہے کہ جب پارک کے نزدیک پہنچے تو تیسرا ریوڑ پارک سے ملحق اس بڑے پلاٹ میں براجمان نظر آ جاتا ہے جو ماڈل سکول کے لئے مختص ہے، لیکن ایل ڈی اے والوں کو توفیق ہی نہیں ہوتی کہ وہ اس منصوبے کی تکمیل کریں حالانکہ پورے علاقے میں کوئی سرکاری سکول نہیں ہے۔

مصطفیٰ ٹاؤن کے اس علاقے میں ایک کرامت کالونی ہے، اس میں گوالوں کے ڈیرے ہیں جو بھینسوں کو چرانے اور ٹہلانے کے لئے مصطفیٰ ٹاؤن ہی کا رخ کرتے ہیں اور ان کے لئے بھی گھروں کی کیاریاں اور گرین بیلٹ چراگاہ ہے جبکہ اسی گرین بیلٹ کے قریب قیوم بلاک میں بھی بھینسوں کا ’’واڑہ‘‘ ہے اور ان کی چراگاہ بھی گرین بیلٹ ہے۔ قارئین! سوچ رہے ہوں گے کہ بات ’’مائیکرو لیول‘‘ سے شروع کی اور رخ کس طرف کر لیا۔ جی! مہربان! نہیں، ہم نے رخ تبدیل نہیں کیا بلکہ اصل بات بتانے کے لئے حقائق بیان کئے ہیں۔ یہ سب حضرات اس لئے دندناتے پھرتے اور گندگی پھیلا رہے ہیں کہ ان کو پوچھنے والے اپنے ’’کام و دہن‘‘ کی تواضع کے لئے ’’منتھلی‘‘لے لیتے ہیں اور وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ڈی سی او کی طرف سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے اس حکم کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں جس کے تحت مویشیوں کا شہر کی حدود میں رکھنا ممنوع ہی نہیں جرم ہے۔ ہم نے تو کبھی کسی کو ان کے خلاف نہ صرف کوئی کارروائی کرتے نہیں دیکھا بلکہ بہترین گرین بیلٹ کو اجڑنے سے بھی کسی نے نہیں روکا۔ متعلقہ میونسپل ٹاؤن (علامہ اقبال ٹاؤن) اور پی۔ ایچ اے کے ’’مائیکرو لیول‘‘ والے ملازم ان سے ’’سیٹ‘‘ ہیں اور فریقین اس سیٹنگ سے مطمئن اپنا کام چلا رہے ہیں۔ جب ہم نے ’’مائیکرو لیول‘‘ کا ذکر کر ہی دیا تو قارئین! آپ خود انصاف کریں۔ تھانے۔ کچہری سے لے کر دوکان داروں اور گوالوں وغیرہ سے ’’نظر اندازی فنڈ‘‘ وصول کرنے والے مائیکرو لیول کے لوگ مائیکرو سطح پر کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں کہ نہیں ہیں؟ عوام کو ایسی ہی صورت حال سے بجلی والوں کے دفاتر، پولیس اور دوسرے سرکاری محکموں سے دو چار ہونا پڑتا ہے اور یہ مائیکرو لیول کے سرکاری ملازم اول تو کام ہی نہیں کرتے اور مسائل بڑھتے رہنے دیتے ہیں تو پھر آپ ’’بڑوں کی کرپشن‘‘ کا ذکر کیا کریں گے۔ آج کل کرپشن کرپشن کی دہائی ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ جن کے اپنے خلاف کرپشن کے الزام ہیں وہ زیادہ زور دے کر احتساب بیورو سے ’’نیک تمنائیں اور خواہشات‘‘ رکھتے ہیں۔ آپ جس طرف چلے جائیں یہ نچلا طبقہ بہت بُری طرح ’’مائیکرو لیول‘‘ کرپشن میں لتھڑا نظر آئے گا، کام چوری اور ناجائز کمائی ان کا وظیفہ ہے اور جس میں جتنا دم ہے اتنا تنگ کر لیتا ہے۔ جب اس بگاڑ ہی کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا تو پھر ’’گڈ گورننس‘‘ کیسی؟ گڈ گورننس تو یہ ہے کہ آپ بالائی سطح پر کام کرتے ہیں تو ہر شخص اپنی اپنی سطح پر دیانت داری سے خدمات انجام دے۔

مزید :

کالم -