ینگ ڈاکٹرز کے تحفظات مسترد ، میڈیکل پوسٹ گریجوایشن کیلئے میرٹ پالیسی جاری

ینگ ڈاکٹرز کے تحفظات مسترد ، میڈیکل پوسٹ گریجوایشن کیلئے میرٹ پالیسی جاری

  

لاہور( جاوید اقبال ) محکمہ صحت نے پنجاب ریزیڈنسی پروگرام کے تحت میڈیکل کی پوسٹ گرایجویشن کے لئے میرٹ پالیسی جاری کردی ہے جس کے تحت پی جی ٹریننگ کے لئے سینٹرل انڈیکشن پالیسی کے تحت میرٹ کا فارمولہ جاری کردیا ہے جس میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سمیت دیگر ڈاکٹروں کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے میرٹ پالیسی جاری کردی ہے جس کے تحت تمام میڈیکل کالجز ‘ٹیچنگ ہسپتالوں اور میڈیکل یونیورسٹیز میں 2016کے لئے میڈیکل کی سیپشلائزیشن کے مختلف کورسز جن میں ایم ایس ‘ایم ڈی ‘ایم ڈی ایس اور ایف سی پی ایس میں داخلوں کے لئے میرٹ سینٹرل انڈیکشن پالیسی کے تحت ہی بنایا جائے گا جس کا فیصلہ خود مختار جوائینٹ ایڈمشن کمیٹی کرے گی جس کے چیئرمین کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود ہوں گے ۔چیئرمین نے محکمہ صحت اور ڈاکٹرز تنظیموں کی مشاورت کے بعد اس پالیسی کے تحت پہلے سیشن میں مذکورہ ڈگری کورسز میں داخلوں کے لےئے میرٹ ک فارمولہ جاری کردیا ہے جس کے تحت جوائنٹ سینٹرلائزڈ ایڈمشن ٹیسٹ میں ایم ایس ‘ ایم ڈی ‘ ایم بی ایس اور ایف سی پی ایس پارٹ ون کے 35ا کیڈمک اینڈ ایسپرنس کے 50نمبرجبکہ ایم بی بی ایس کے پانچ سالوں کے پروفیشنل امتحانات کے 15نمبر رکھے گئے ہیں اگر اس فارمولے کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو پنجاب کا ڈومئیسال رکھنے والے امیدوار ہی ان کورسز میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے جبکہ یہ بھی شرط عائد کی گئی ہے کہ ایسے امیدوار ہی مذکورہ ڈگری کورسز میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے جنہوں نے ایم بی بی ایس کے بعد اپنی ہاؤس جاب کسی مستند ادارے سے کی ہو گی دریں اثناء جوائنٹ ایدمشن کمیٹی کے چئیرمین پروفیسر مسعود نے کالج آف فیزیشن اینڈ سرجننز اور مختلف میڈیکل یونیورسٹیوں کے مقرر کردہ سپر وائزرز کے 35سوالوں کے جوابات بھی دیدئیے ہیں اور انہیں مراسلہ جات بھی روانہ کئے ہیں جن میں ان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سینٹرل انڈکیشن کے نام پر پی جی ٹریننگ کا کوئی نیا نظام نہیں لایا گیا ہے بلکہ محکمہ صحت سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجو کیشن نے موجودہ پی جی انڈکیشن پالیسی میں موجودہ نکاس دور کرکے پوری دنیا میں مروجہ پی جی انڈکیشن پالیسی کی طرز پر پنجاب ریز ڈنسی پروگرام متعارف کروایا ہے۔ تعیناتی کے آڈر متعلقہ ہسپتال کا سربراہ ہی جاری کرے گا اس نظام کے تحت میرٹ کی حکمرانی ہو گی اقربا پروری پسند نا پسند کی بنیاد پر پی جی آر کے انتخاب کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا نئے نظام کے تحت ایف سی پی ایس ایم ڈی اور ایم ایس کسی پروگرام کی سیٹیں کم نہیں کی جارہیں دونوں سہولیات حاصل رہیں گی پی آر پی کے نظام سے ڈاکٹرز کے لئے ٹریینگ کے مواقع کم نہیں ہوں گے بلکہ پی جی سی کی سیٹوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا مقامی کالج کے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کو پانچ اضافی نمبر ملیں گے چھوٹے شہروں کے ہسپتالوں کو بھی مساوی پی جی ٹریننگ کے داخلوں کا موقع ملے گا تمام ہسپتالوں کے امیدواروں کو اادروں می داخلے کے لئے الگ درخواست نہیں دینا ہو گی بلکہ ایک ہی آن لائن فارم بھرا جائے گا ڈاکٹر فیصل نے جواب دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ہر ڈاکٹر تنظیم اور ہسپتال کے سربراہ سے مشاورت کی گئی ہے کسی ڈاکٹر تنظیم نے اپنا موقف نہیں دیا لیکن ہسپتالوں کے سربراہوں نے اپنے مشترکہ ومقف سے پی آر پی کو منظور کیا ہے پسماندہ علاقوں مٰں دی ایچ یو اور آر ایچ سی مں فرائض سر انجام دینے والے ڈاکٹروں کو داخلہ میں اجافی نمبر ملیں گے ان اداروں میں کام کرنے والوں کو ایک سال کام کرنے پر دس نمبر جبکہ دو سال والوں کو پندرہ اضافی نمبر ملیں گے فیصل مسعود نے مزید کہا کہ سی پی ایس پی سے پی آر پی کا نظام بنانے سے قبل باقاعدہ مشاورت کی گئی اور ان کی سفارشات کو بھی مڈ نظر رکھا گیا اس پروگرام کی سی پی ایس کے افسران مکمل حمائت کر چکے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -