میڈیکل اور ڈیفنس مصنوعات کی مارکیٹنگ!

میڈیکل اور ڈیفنس مصنوعات کی مارکیٹنگ!
 میڈیکل اور ڈیفنس مصنوعات کی مارکیٹنگ!

  

آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ ہسپتالوں میں ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں اور اداروں کے نمائندے ہاتھوں میں ایک ہی طرح کے بریف کیس پکڑے ایک ڈاکٹر کے کمرے سے نکل کر دوسرے ڈاکٹر کے کمرے کی طرف جا رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایکسرسائز ایک قسم کی تشہیری کاوش ہوتی ہے جو ادویہ ساز کمپنیاں اپنے ان ایجنٹوں کے توسط سے انجام دیتی ہیں۔ یہ نوجوان فارما سیوٹیکل شعبے میں باقاعدہ سند یافتہ ہوتے ہیں اور ان کو ادویہ سازی کی پروڈکشن کی است و بود سے لے کر آخری مراحل تک کی خبر ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی کمپنی کوئی نئی دوا یا انجکشن بناتی ہے تو اس کی نفع اندوزی یا نقصان رسانی کے تعین کے لئے یہ نمائندے ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔عموماً ان کا لباس سفید قمیض اور کالی پتلون ہوتا ہے۔ کئی برسوں سے میں دیکھتا ہوں کہ جب بھی کسی CMH میں جاتا ہوں تو ان لوگوں کی پوری ایک پلاٹون ضرور نظر آتی ہے۔یہ لوگ دوا ساز فرم اور ڈاکٹر کے درمیان ایک کلیدی لنک کا کام دیتے ہیں اور عموماً ملٹری یا سرکاری سول ہسپتالوں میں زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ ان ہسپتالوں میں استعمال ہونے والی ساری ادویات کا سارا بجٹ سرکاری خزانے سے ادا کیا جاتا ہے۔ اور دوسری وجہ مختلف ہسپتالوں کی پروفیشنل شہرت ہے۔ مثلاً کمبائنڈ ملٹری ہسپتالوں یا دیگر معروف سول ہسپتالوں میں میڈیکل سیپشلسٹوں کا پورا ایک ونگ تعینات ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کی تعداد جو ان ہسپتالوں میں پوسٹ کی جاتی ہے وہ کسی سٹیشن میں ملٹری فارمیشنوں اور دوسرے عسکری اداروں اور نیز سویلین آبادی کی تعداد سے براہ راست منسلک ہوتی ہے۔ ظاہر ہے جہاں آبادیاں زیادہ گنجان ہوں گی یا جہاں فوج کی نفری زیادہ ہوگی وہاں ان فوجیوں کی Families بھی زیادہ ہوں گی اور کوئی فوجی آفیسر یا جوان یا ان کے خاندان کا کوئی فرد ایسا نہیں جو کبھی بیمار نہ ہوا ہو، بلکہ آج کل تو میڈیکل سائنس جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے ویسے ویسے بیماروں کی تعداد بھی ترقی کر رہی ہے۔ اقبال نے ایک صدی پہلے سچ کہا تھا کہ آج کی مشکل یہ نہیں کہ میڈیکل کے شعبے میں مسیحا پیدا ہو گئے ہیں بلکہ مشکل یہ ہے کہ آج کا بیمار ماضی کے مقابلے میں زیادہ بیمار رہنے لگا ہے اور اس کی بیماریوں اور عوارض کی انواع و اقسام میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے:

مُشکلے نیست کہ اعجازِ مسیحا داری

مشکل این است کہ بیمارِ تو، بیمار تراست

یعنی اگر آبادیاں بڑھ رہی ہیں توہسپتال بھی بڑھ رہے ہیں اور ساتھ ہی بیماریاں بھی۔ اس لئے ہسپتالوں میں بیماریوں کے نئے نئے وارڈ کھل رہے ہیں۔ پہلے میڈیسن اور سرجری کے صرف دو شعبے ہوتے تھے اور آج ان دونوں شعبہ ہائے طب میں درجنوں ذیلی شعبہ ہائے طب وجود میں آ چکے ہیں۔ اور ساتھ ہی انواع و اقسام کی ادویات کی بھی بھرمار ہو رہی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں دوپہر تک ڈاکٹر صاحبان کو پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت نہیں دی جاتی۔ لیکن جب شام ہوتی ہے تو ہر شعبے کے کئی کئی ڈاکٹر اپنے اپنے سرکاری دفتروں میں پرائیویٹ پریکٹس کا اہتمام کرتے ہیں۔ شام چھ بجے سے لے کر رات نو دس بجے تک مریضوں کی ایک بڑی تعداد ہرڈاکٹر کے دفتر کے سامنے اپنی باری کی منتظر رہتی ہے۔ جب باری آتی ہے تو ڈاکٹر صاحب بظاہر بڑے انہماک سے ہر مریض کی بِپتا سن کر اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا نسخہ پکڑا دیتے ہیں۔ آپ ان کے کمرہ سے باہر نکلتے ہیں تو ان کا PA (پرنسل اسسٹنٹ) آپ سے حسبِ قاعدہ مقرر شدہ فیس وصول کرکے آپ کو ایک رسید لکھ دیتا ہے۔ اچھے یا متوسط درجے اور شہرت کے ہسپتالوں میں کسی بھی ڈاکٹر کی فیس دو ہزار سے کم نہیں۔ تاہم ان دو ہزار روپوں میں ہسپتالوں کا اپنا حصہ بھی ہوتا ہے اور ڈاکٹر صاحب کے PA وغیرہ کا بھی ۔۔۔ یہ ایک منضبط (Disciplined) کاروبار ہے۔ انسان اور طبیب کا رشتہ ازلی ہے اور ابد تک رہے گا۔ اس سے کسی بھی فرد و بشر کو مفر نہیں۔

جب کوئی مریض ڈاکٹر کا لکھا ہوا نسخہ لے کر باہر نکلتا ہے تو اول تو اسی ہسپتال میں دوا فروشوں نے باقاعدہ ایک دکان کھولی ہوتی ہے۔ آپ نسخہ، دکان کے سیلز مین کے ہاتھ میں دیتے ہیں اور وہ اندر سے نسخے پر تحریر شدہ ادویات لا کر آپ کو دے دیتا ہے۔آپ پرس نکالتے ہیں اور بلا چون و چرا بل ادا کرکے گھر کی راہ لیتے ہیں۔ اس کاروبارِ طبیب و مریض میں ادویات کی اثر پذیری کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ ایک ہی مرض کے لئے بازار میں مختلف دوا ساز کمپنیوں کی مختلف پراڈکٹ بک رہی ہیں۔ کوئی مہنگی ہے اور کوئی سستی اور کوئی بہت ہی مہنگی۔ ہر دوائی کا ایک جنریک (Generic) نام بھی ہوتا ہے جس کا سالٹ (Salt) بازار میں کلو گراموں کے حساب سے فروخت ہوتا ہے۔ یہی سالٹ، متعلقہ دوا کا غالب جزو ہوتا ہے۔ لیکن اس بنیادی (جنریک) جزو سے اگر کوئی دوا ساز کمپنی دوا تیار کرتی ہے تو اس پراسس میں کمپنی کی شہرت، ناموری اور ملٹی نیشنل حیثیت آڑے آتی ہے۔ دوائی کی شکل و صورت (گولی، ٹیکہ، کیپسول وغیرہ) طے کی جاتی ہے، اس کی پیکنگ اور اس کے نام کا فیصلہ کیا جاتا ہے، اس کی تشہیری مہم کا بجٹ متعین کیاجاتا ہے اور اس کی پرچون قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ ایک ہی سالٹ سے تیار کی ہوئی دوا کی قیمت، ہردوا ساز کمپنی کی شہرت سے وابستہ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اپنے نسخے میں جب کوئی دوا تجویز کرتا ہے تو اس کا نام لکھنے میں دوا ساز کمپنی کے اس مارکیٹنگ ایجنٹ کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے جس کا ذکر کالم کے آغاز میں کیا گیا ہے۔

ہر ڈاکٹر نے ان فارماسیوٹیکل نمائندوں سے ملنے کا وقت طے کر رکھا ہوتا ہے جو عام طور پر رات کا وہ حصہ ہوتا ہے جب سرکاری ہسپتالوں میں پرائیویٹ مریضوں کی کھیپ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ہر ڈاکٹر کے کمرے میں پانچ سات میڈیکلRepsگھس جاتے ہیں، اپنا اور اپنی کمپنی کا تعارف کرواتے ہیں اور کمپنی کی نئی ادویات کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کو بریفنگ دیتے ہیں اور ساتھ ہی بطور نمونہ اس دوا(یا ادویات) کا ایک بنڈل بھی دے دیتے ہیں جو مفت ہوتا ہے۔ اس بنڈل کے ہر پیکٹ پرSample کی مہر لگی ہوتی ہے یعنی یہ دوا بطور نمونہ ڈاکٹر صاحب کو دی جاتی ہے۔ہر ڈاکٹر کے کمرے میں ان کے شیلف میں ادویات کا ایک بڑا سا انبار ایک سلیقے سے سجا کر ڈسپلے کیا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اگر چاہیں تو مریض کو ایک یا ایک سے زیادہ ادویات جو بطور نمونہ رکھی جاتی ہیں، مفت عنایت کر دیتے ہیں۔۔۔ مریض بھی خوش، ڈاکٹر بھی مطمئن اور دوا ساز کمپنی کی شہرت کا اشتہار بھی کامیاب۔۔۔!

کسی بھی نئی دوائی کو ٹیسٹ کرنے کے لئے درج بالا ایکسر سائز ضروری سمجھی جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو اس دوا کی تاثیر اور اس کے کارگر ہونے یا نہ ہونے کا موقع اور وقت بھی مل جاتا ہے۔ مغرب کے ہسپتالوں میں دوا ساز کمپنیاں اس تشہیری مہم پر کروڑوں ڈالر صرف کرتی ہیں اور پھر اربوں ڈالر کماتی ہیں۔ نہ صرف یورپ اور امریکہ بلکہ دُنیا کے دوسرے براعظموں میں بھی اس دوا کی شہرت پہنچ جاتی ہے اور ساتھ ہی اس کی مانگ بھی شروع ہو جاتی ہے۔

کسی مخصوص مرض کی مخصوص دوا کی تیاری کے لئے جو تحقیق کی جاتی ہے، اس کو منظر عام پر لانے اور مارکیٹ کرنے سے پہلے مختلف ہسپتالوں میں ان امراض کے مریضوں پر جو تجربات کئے جاتے ہیں ان کی مانیٹرنگ کا بھی ایک الگ اور فول پروف انتظام ہوتا ہے جس میں دوا کے بازوئی اثرات(Side-Effect) پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ ہر دوا کا ایک یا ایک سے زیادہ بازوئی اثر ہوتا ہے۔ اگر یہ بازوئی اثرات، کیفیت و کمیت (کوالٹی اور کوانٹی ٹی/کیف و کم) میں قابلِ برداشت ہوں اور اصل مرض کا علاج ہو جائے تو پھر اس کو باقاعدہ مارکیٹنگ کے لئے پیش کر دیا جاتا ہے۔ ہر مغربی مُلک میں اس پریکٹس کو بڑی باقاعدگی لیکن بڑی ’’بے رحمی‘‘ سے بروئے عمل لایا جاتا ہے اور مریض کی اوور آل صحت اورشفا کا از بس خیال رکھا جاتا ہے۔ وہاں محکمۂ صحت کے قواعد و ضوابط بہت کڑے ہیں لیکن پاکستان جیسے تیسری دُنیا کے ممالک میں ایسا ممکن نہیں۔ تحقیق و تجزیئے کے لئے ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کی فراہمی، لیبارٹریوں کا ساز و سامان، ان کو چلانے والوں کی پروفیشنل کوالی فکیشن اور اس طرح کے دوسرے تقاضے پورے کرنے کے لئے ہمارے ہاں ترقی یافتہ ممالک کی سی سہولتیں موجود نہیں۔ علاوہ ازیں ہمارے بجٹ میں صحت کے شعبے میں اتنی رقوم نہیں رکھی جاتیں کہ کسی قابلِ ذکر نئی دوائی کی ایجاد ممکن ہو ۔

دوا ساز کمپنیوں کے یہ نمائندے بعض ڈاکٹر صاحبان سے ساز باز کر کے اپنی دوائی کی فروخت کا قدو قامت بڑھانے سے گریز نہیں کرتے۔ سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ بھی بعض اوقات اس جال میں پھنس جاتی ہے ۔ جب تھوک کے حساب سے کسی ہسپتال میں ادویات وغیرہ کی خرید کی جاتی ہے تو ڈاکٹر۔۔۔ میڈیکل نمائندے۔۔۔ اور انتظامیہ پر مشتمل مثلث کی ملی بھگت اپنا اثر ضرور دکھاتی ہے۔

قارئین گرامی! یہ پریکٹس اور یہ حیلے صرف میڈیکل شعبے ہی سے وابستہ نہیں، بلکہ ان کا ایک بڑا اور عالمگیر مظاہرہ دفاعی سازو سامان کی خرید و فروخت میں بھی عام دیکھنے کو ملتا ہے۔ابھی دو چار دن پہلے بھارت نے اپنے ہاں دُنیا کی مختلف اسلحہ ساز کمپنیوں کے ایجنٹوں کو اجازت دے دی ہے کہ وہ براہِ راست بھارت میں آ کر مسلح افواج کے فارمیشن کمانڈروں سے مل سکتے ہیں، اپنی کمپنی کی مصنوعات کی تشہیر کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں اگر کسی ڈیمانسٹریشن کی ضرورت پڑے تو اس کا انتظام و انصرام بھی متعلقہ اسلحہ ساز کمپنی کر سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں انڈیا نے اپنے ڈیفنس پروڈکشن کے شعبے کے بیورو کریٹس کے اُن اختیارات کو محدود کر دیا ہے جو وہ قبل ازیں اسلحہ یا گولہ بارود کی خریداری کے ضمن میں رکھتے تھے۔ اب براہِ راست فارمیشن کمانڈرز(بریگیڈ/ ڈویژن/ کور/ آرمی) سفارش کر سکیں گے کہ فلاں طرح کا اسلحہ یا فلاں قسم کا گولہ بارود ہماری نگاہ میں زیادہ کارگر اور زیادہ موزوں ہے۔ فارمیشن کمانڈرز اپنی یہ سمریاں براہِ راست وزیر دفاع کو بھی بھیج سکتے ہیں یعنی یہ ضروری نہیں کہ یہ نارمل وسیلوں سے وزارت دفاع کے سیکرٹریوں/جوائنٹ سیکرٹریوں/ ڈپٹی سیکرٹریوں سے گزر کر ہی وزیر دفاع کی میز تک پہنچیں۔۔۔ یہ ایک بڑا اقدام ہے۔ بھارت میں اس پر بحث و مباحثہ شروع ہو چکا ہو گا اور آنے والے ایام میں ہم دیکھیں گے کہ اسلحہ ساز کمپنیوں کے ان سیلز مینوں کا بھارت کی مسلح افواج کی تینوں شاخوں (آرمی، نیوی، ائر فورس) کے اعلیٰ کمانڈروں اور سٹاف آفیسرز سے میل ملاقات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اور یہ ایکسرسائز کس طرح کے سود و زیاں سے دوچار ہوتی ہے۔

مزید :

کالم -