بھارتی انتہا پسندی۔۔۔ مسلمان خواتین پر تشدد، دلت لوگوں کا جواب!

بھارتی انتہا پسندی۔۔۔ مسلمان خواتین پر تشدد، دلت لوگوں کا جواب!

  

بھارت میں ایک طرف فوج مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہی ہے،تو دوسری طرف انتہا پسند ہندو، دھرم کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ روز ریاست مدھیہ پردیش کے ریلوے سٹیشن پر دو مسلمان عورتوں کو انتہا پسندوں نے گائے کا گوشت لے جانے کے الزام میں گھیر لیا اور بُری طرح زدوکوب کیا۔مارنے والوں میں مردوں کے ساتھ ہندو عورتیں بھی شامل تھیں۔ وقوعہ کی ویڈیو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں موجود پولیس انتہائی بے دلی سے خواتین کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے، جن کو ہجوم میں شامل ہندو عورتیں مار مار کر زمین پر گرا دیتی ہیں اور لاتوں سے زدو کوب کرتی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے، مسلمان خواتین کو تھانے لے جانے کے بعد گوشت ٹیسٹ کرایا گیا، تو وہ بھینس کا نکلا، جس کا اعتراف خود ریاستی وزیر نے بھی کیا، اس کے باوجود مظاہرے ہوتے رہے اور زدو کوب کرنے والی خواتین اور مردوں کو کچھ نہیں کہا گیا۔بھارت آئینی طور پر سیکولر مُلک ہے اور اب تو شیو سینا نے آئین کی یہ شق ختم کر کے بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے،بھارت میں ہونے والی تشدد کی اِن وارداتوں پر بھی دُنیا خاموش ہے اور کسی کو انسانی حقوق کا خیال نہیں آتا۔ کشمیری نہتے ہیں تو اُن پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں اور بھارت کے اندر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا جینا محال کیا جا رہا ہے۔ اس کا نوٹس اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم اسلامی کانفرنس بھی نہیں لے رہی۔دوسری طرف بھارتیوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر نچلی ذات کے ہندو جو دلت کہلاتے ہیں اور تعداد میں ان انتہا پسندوں، پنڈتوں اور اونچی ذات والے لوگوں سے کہیں زیادہ ہیں، اپنے حقوق کے لئے بپھر گئے ہیں۔انہوں نے مظاہرے کر کے اپنے لئے الگ ریاست کا مطالبہ بھی داغ دیا اور اب جو نیا کام کیا وہ یہ کہ اپنی ریاست میں گائے کے واڑے کھول دیئے اور وہاں موجود جتنی گائیں تھیں،ان کے ٹکڑے کر کے پوری ریاست میں پھیلا دیئے، ان کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکا کہ وہ اکثریت میں ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر یہ دلت ہی ان اونچی ذات والوں کا دھڑن تختہ کریں گے کہ حقیقی اکثریت وہی ہیں۔

مزید :

اداریہ -