آزادئ کشمیر کا فیصلہ کن مرحلہ

آزادئ کشمیر کا فیصلہ کن مرحلہ

  

وزیراعظم نواز شریف نے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو ہر عالمی فورم پر اُجاگر کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے، ہمارے دِل مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستان اخلاقی اور سفارتی سطح پر کشمیریوں کی حمایت کرتا رہے گا۔ آزاد کشمیر میں راجہ فاروق حیدر کو نیا وزیراعظم نامزد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی نئی حکومت اداروں کی مضبوطی، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنائے، آزاد کشمیر میں ایماندار اور قابل کابینہ کی تشکیل ضروری ہے، کیونکہ گزشتہ پانچ سال میں آزاد کشمیر میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ اب وہاں مثبت تبدیلی نظر آنی چاہئے۔

مقبوضہ کشمیر میں اِس وقت جو حالات ہیں عالمی برادری کو اِن کی سنگینی سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی فوج نے گزشتہ تین ہفتوں سے سری نگر میں کرفیو لگا رکھا ہے۔ پوری ریاست میں انٹرنیٹ سروس مسلسل بند چلی آ رہی ہے، کشمیریوں پر مظالم اِس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ اب بھارت کے اندر بھی ان کے خلاف آواز بلند ہو رہی ہے۔ بھارتی ریاست ہریانہ کی اشوکہ یونیورسٹی کے طلباء نے جموں و کشمیر سے فوجی انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے کہا ہے کہ وہ جواہر لال نہرو کے وعدے کے مطابق کشمیریوں کو اُن کا پیدائشی حق۔۔۔ حقِ خود ارادیت۔۔۔ دیں، طلباء نے ر یاست سے کالے قوانین ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ بھارتی ریاست کے طلباء نے وزیراعظم نریندر مودی کی توجہ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے جس وعدے کی جانب دلوائی ہے وہ انہوں نے اقوام متحدہ میں عالمی برادری کے سامنے اُس وقت کیا تھا جب کشمیر کی پہلی لڑائی میں قبائلی مجاہدین کشمیر کے علاقوں کو آزاد کراتے ہوئے سری نگر تک پہنچنے والے تھے اُس وقت نہرو مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لے کر گئے اور کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا، ان کے اسی وعدے کی بنیاد پر پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے جنگ بندی قبول کی۔

جنگ بندی سے فائدہ اٹھا کر پنڈت نہرو نے کشمیر میں فوجی قوت مستحکم کر لی تو وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے وعدے کو تاویلات میں اُلجھانے لگے، جس کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر آج تک حل نہیں ہو سکا، دونوں ممالک میں مذاکرات ہمیشہ بے نتیجہ رہے۔ 65ء کی جنگ کے بعد اعلانِ تاشقند اور 71ء کی جنگ کے بعد شملہ معاہدے میں بھی دونوں ملکوں نے مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی، لیکن آج تک کوئی نتیجہ خیز مذاکرات نہیں ہو سکے، یہ سلسلہ بنتا ٹوٹتا رہتا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے دورۂ اسلام آباد کے بعد جامع مذاکرات کے سلسلے کی بحالی کا امکان پیدا ہوا تھا،لیکن عملاً مذاکرات شروع نہیں ہو سکے۔ اِس دوران کشمیر کے حالات دِگر گوں ہو گئے ہیں اِن حالات میں مذاکرات شاید جلد شروع بھی نہ ہوں اور اگر ہو جائیں تو پہلے کی طرح بے نتیجہ ہی رہنے کا امکان ہے۔

کشمیر کی صورتِ حال سے دُنیا کو آگاہ کرنے کے لئے پاکستان عالمی فورموں پر یہ مسئلہ اُٹھاتا رہا ہے، اب ایک بار پھر ایسی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اِسی سلسلے میں اسلام آباد میں دُنیا بھر میں پاکستانی سفیروں کی کانفرنس بھی ہو رہی ہے، جس میں کشمیر پالیسی کے خدوخال بھی زیر بحث آئیں گے اور طے کیا جائے گا کہ کشمیریوں کی مشکلات سے دُنیا کو کیسے آگاہ کیا جائے گا، جہاں تک کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کا مسئلہ ہے اِس کا وعدہ خود بھارتی رہنما بھی کرتے رہے ہیں اِس لئے اِس سے فرار تو ممکن نہیں، ویسے بھی ریاست میں تحریک جس مرحلے پر پہنچ چکی ہے اب کشمیریوں کو زیادہ عرصے تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر نہیں رکھا جا سکتا۔ البتہ اس موقع پر پاکستان کو ثابت قدمی سے کشمیریوں کی سفارتی حمایت کرنا ہوگی۔

بھارت پر جب بھی مذاکرات کے سلسلے میں دباؤ پڑتا ہے تو وہ ایک طے شدہ پروگرام کے تحت آزاد کشمیر کا تذکرہ شروع کر دیتا ہے اور یہ کہہ کر معاملے کو الجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ کشمیر تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے پاکستان نے کشمیر کے جس حصے پر قبضہ کر رکھا ہے وہ بھی بھارت نے واپس لینا ہے۔ اِسی بنیاد پر مودی نے پاک چین اقتصادی راہداری کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی کہ اس کا روٹ کشمیر کے علاقے سے بھی گزرتا ہے، جس کا تصفیہ ہونا باقی ہے، مودی نے یہ معاملہ چین کے صدر شی چنگ پنگ کے ساتھ بھی اُٹھایا، لیکن انہوں نے حکمت عملی کے ساتھ بھارتی موقف مسترد کر دیا، اِس کے بعد بھارت اپنے جاسوسوں کے ذریعے اس راہداری کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، وزیراعظم نواز شریف نے مظفر آباد میں جو خطاب کیا اُس پر بھی بھارتی رہنما غصّے سے بھرے بیٹھے ہیں اور آزاد کشمیر پر دعووں کی گردان شروع کر دی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتِ حال سے پاکستانیوں اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے دِل دُکھی ہیں اِسی دوران آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا انعقاد بھی ہوا، جس کے نتیجے میں وہاں بھی مسلم لیگ(ن) کی حکومت قائم ہو رہی ہے اور راجہ فاروق حیدر وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر متمکن ہونے والے ہیں۔ آزاد کشمیر اور پاکستان میں ایک ہی جماعت کی حکومت کا مثبت نتیجہ یہ نکلے گا کہ دونوں حکومتیں ہم آہنگ ہو کر کشمیر پر متفقہ فیصلے کر سکیں گی یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان پر ایک کشمیری وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہے اور پاکستان میں برسر اقتدار جماعت ہی آزاد کشمیر میں بھی حکمرانی کا آغاز کر رہی ہے اس لئے توقع کرنی چاہئے کہ کشمیر پالیسی زیادہ مضبوط ہو گی اور کشمیر کے عوام کو پاکستان کی طرف سے مثبت پیغام ملے گا، لیکن یہ اِسی صورت ممکن ہے جب آزاد کشمیر حکومت وہاں اچھی گورننس قائم کرے۔

بدقسمتی سے جو پانچ سال گزرے ہیں وہ اِس لحاظ سے اچھے نہیں تھے کہ ایک ایسی حکومت برسر اقتدار رہی، جس نے عوامی مسائل کے حل سے پہلو تہی کیا اور جس پر کرپشن کے الزامات بھی لگتے رہے، انہی کا نتیجہ الیکشن میں پیپلزپارٹی کی شکست کی صورت میں نکلا، اسی وجہ سے نئی حکومت سے بہت توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں اگر آزاد کشمیر میں مثالی حکومت قائم ہو جائے تو نہ صرف اپنے شہریوں کی بہتر خدمت کرے گی، بلکہ کشمیر کے معاملے پر بھی مضبوط موقف کا اظہار کرے گی۔ اِس کے طرزِ حکومت کا اثر مقبوضہ علاقے کے کشمیریوں پر بھی مثبت انداز میں مرتب ہوگا اِس سے کشمیریوں کو حوصلہ ملے گا اور اُن کی تحریک مضبوط ہو گی۔ اس مرحلے پر پاکستان اور آزاد کشمیر اگر مضبوطی کے ساتھ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اُن کی سفارتی اور اخلاقی امداد جاری رکھیں گے تو کشمیریوں کو اُن کی قربانیوں کا صلہ مل کر رہے گا، مضبوط پاکستان اور مضبوط آزاد کشمیر سے تحریک آزادئ کشمیر بھی مضبوط ہو گی۔

مزید :

اداریہ -