مسجد میناروں کا دشمن، اسلام کی آغوش  میں

مسجد میناروں کا دشمن، اسلام کی آغوش  میں

  

محمد حسین بھٹی

مسلمانوں کے خلاف صف آرا سوئٹزر لینڈ کا معروف سیاست دان ڈینئل اسٹریچ اسلام کی آغوش میں آ گیا ہے۔ اس نے اپنے اسلام قبول کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی جہاں سوئٹزر لینڈ کی سیاست میں اتھل پتھل مچا دی ہے، وہیں ان لوگوں کے پیروں تلے سے زمین کھسکتی نظر آ رہی ہے جو میناروں کی مخالفت کا علَم اٹھائے ہوئے تھے، کیونکہ ڈینئل اسٹریچ ہی پہلا شخص تھا جس نے سوئٹزر لینڈ میں مساجد پر تالے لگانے اور میناروں پر پابندی لگانے کی مہم کو عالمگیر پیمانے پر فروغ دیا۔ لوگوں سے مل کر ان میں اسلام کے خلاف نفرت کے بیچ بوئے اور مساجد کے گنبد و میناروں کے خلاف رائے عامہ استوار کی، لیکن آج وہ اسلام کا سپاہی بن چکا ہے۔ اسلام مخالف نظریہ نے اسے اسلام کے اتنا قریب کر دیا کہ وہ اسلام قبول کئے بغیر نہ رہ سکا اور اب اپنے کئے پر اتنا شرمندہ ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں یورپ کی سب سے خوبصورت مسجد بنانا چاہتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹریچ سوئٹزر لینڈ پانچویں مسجد کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی شدید خواہش ہے کہ وہ دنیا کی سب سے خوبصورت مسجد بنا سکیں اور اپنے اس گناہ کی تلافی کر سکیں جو انہوں نے مساجد کے خلاف زہر افشانی کر کے کیا ہے۔ ڈینئل اسٹریچ اب اپنی مینار مخالف تحریک کے خلاف بھی تحریک چلانا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں میں مذہبی رواداری پیدا ہو اور وہ بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کر سکیں۔ حالانکہ مینار پر پابندی اب قانونی حیثیت پا چکی ہے۔ اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ مخالفت سے اس کا رنگ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔۔۔

مسلمانوں کے درمیان رفاہی کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم او آئی پی کے صدر عبدالمجید الداعی کا کہنا ہے کہ یورپ کے لوگوں میں اسلام کے بارے میں جاننے کی زبردست خواہش ہے۔ ان میں کچھ تو اسلام کے بارے میں اس لئے جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اسلام اور دہشت گردی کا کیا تعلق ہے؟ ڈینئل اسٹریچ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اس نے میناروں کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں قرآن مجید کا مطالعہ اور اسلام کو سمجھنا شروع کیا۔ اس کے ذہن میں صرف مذہب اسلام پر تنقید کرنا تھا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔

گزشتہ دنوں سوئٹزر لینڈ میں میناروں پر پابندی لگائے جانے کے لئے ووٹنگ ہوئی اور سوئس ووٹروں نے میناروں پر پابندی لگائے جانے کو قانونی حیثیت دے دی۔ قابل تعجب بات یہ ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں مسلمانوں کی کل آبادی چھ فیصد بتائی جاتی ہے۔ جبکہ میناروں کی حمایت میں 42.5 فیصد لوگوں نے ووٹ دیا جبکہ میناروں کی مخالفت کرنے والے 57.5 فیصد لوگ تھے یعنی دونوں گروپ میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا، مگر چھ فیصد مسلمانوں کی حمایت میں 42.5 فیصد لوگوں کا اٹھ کھڑا ہونا یقیناًقابل غور ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ میناروں اور اسلامی شعائر پر پابندی کے مطالعے نے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا ہے۔

نو مسلم ڈینئل اسٹریچ سوئس پیپلز پارٹی کا بڑا لیڈر تھا۔ پارٹی کی پالیسی سازی میں بھی اس کا گہرا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ میناروں کے خلاف تحریک چلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا شوشہ اسی نے چھوڑا تھا۔ پارٹی میں زبردست مقبولیت کا ہی نتیجہ تھا کہ انہیں سوئس آرمی میں ملٹری انسٹرکٹر بنا دیا گیا۔ پیدائشی طور پر عیسائی ہونے کے باوجود اس نے مخالفت کرنے کے لئے اسلام کا مطالعہ کیا، لیکن اسلامی تعلیمات نے اس کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور بالآخر اس نے اسلام قبول کر لیا اور تمام سیاسی سرگرمیوں سے اپنا رشتہ توڑ لیا۔ اس نے پارٹی سے بھی اپنی رکنیت ختم کرا لی اور برملا طور پر اپنے اسلام قبول کرنے کا اظہار کر دیا۔

ڈینئل اسٹریچ نے سوئس پیپلز پارٹی کی سرگرمیوں کو مسلمان مخالف بتاتے ہوئے انہیں شیطانی اقدامات قرار دیا۔ ڈینئل اسٹریچ کا کہنا ہے کہ پہلے وہ پابندی سے بائبل پڑھا کرتا تھا اور چرچ جایا کرتا تھا لیکن اب وہ قرآن پڑھتا ہے اور پانچوں وقت کی نماز ادا کرتا ہے۔ اسے اسلام میں زندگی کے ان تمام سوالات کا جواب مل گیا جو وہ عیسائیت میں کبھی نہیں پا سکتا تھا۔ جبکہ دوسری طرف ملٹری انسٹرکٹر رہے ہیں، کہیں وہ مسلمانوں کو فوج کی راز دارانہ باتیں نہ بتا دیں۔ ایس وی پی کے نیشنل کونسل ممبر کا کہنا ہے کہ ڈینئل اسٹریچ کا اس عہدے پر رہنا ملک کے تحفظ کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے، جبکہ سوئس آرمی کے ترجمان کرسٹوفر بروز نے یہ کہہ کر معاملے کو ہلکا کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہماری آرمی کس مذہب سے تعلق رکھتی ہے، بلکہ اس سے فرق پڑتا ہے کہ اس کی پرفارمنس کیسی ہے؟

بہرحال۔۔۔ پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے۔۔۔ جو اسلام کی عظمت و رفعت کی دلیل ہے۔ ڈینئل اسٹریچ سوئٹزر لینڈ میں جو شاندار مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے کچھ دولت مند افراد نے ان کی مالی امداد کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اسلام کی عظمت کے لئے میناروں اور گنبدوں کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک کا قانون میناروں پر پابندی لگا سکتا ہے، دل و دماغ پر نہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -