کیرےئر کونسلنگ کیوں ضروری ہے

کیرےئر کونسلنگ کیوں ضروری ہے

  

زلیخا اویس

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں طلباء کی یونیورسٹیوں تک رسائی بڑھتی جا رہی ہے، اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اب پہلے سے کہیں زیادہ افراد داخلے لے رہے ہیں، لیکن یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ ان لاکھوں طلباء میں سے صرف کچھ ہی ایسے ہوتے ہیں، جن کا انتخاب کردہ شعبہ واقعی ان کا پسندیدہ شعبہ بھی ہوتا ہے، نتیجتاً وہ کبھی بھی اس شعبے میں اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے، جو اس شعبے کا تقاضہ ہوتا ہے۔

کوئی بھی طالب علم نالائق نہیں ہوتا۔ وہ نالائق تب تک ہوتا ہے جب تک اسے اس کی مرضی کے برخلاف تعلیم دی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں مناسب کریئر کونسلینگ نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ غلط تعلیمی فیصلے کرتے ہیں اور غلط کریئر کا انتخاب کر کے اپنی زندگیاں برباد کر لیتے ہیں۔

غلط کیریئر کے انتخاب کا نقصان نہ صرف ایک فرد کو ہوتا ہے، بلکہ اس کا نقصان پوری سوسائٹی کو ہوتا ہے۔ سب بڑا نقصان یہ ہے کہ ملک میں تعلیم یافتہ ڈگری یافتہ بیروزگاروں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

غلط شعبہ کا انتخاب کرنے والے عموماً ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں، جس کی وجہ سے مایوسی، ڈپریشن، نیند کی کمی جیسی بیماریاں بڑھ رہی ہیں، جبکہ بعض اوقات مایوسی اور ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی جیسے تکلیف دہ واقعات بھی پیش آ جاتے ہیں۔

اس لیے طالب علموں اور خاص کر والدین کو چاہئے کہ وہ کریئر پلاننگ پر قدرے زیادہ توجہ دیں تاکہ ناسمجھی میں کہیں غلط شعبے کا انتخاب نہ ہوجائے، جس سے زندگی کے کئی قیمتی سال ضائع ہوجاتے ہیں۔

کیریئر کی منصوبہ بندی، سے مراد ہے کہ آپ کس تعلیمی شعبے کو اپنانا اور نتیجتاً کس شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے کیا طریقہ کا ہونا چاہیے۔اس کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ آپ کسی پروفیشنل کیریئر کونسلر سے رابطہ کریں جو آپ کی اس حوالے سے رہنمائی کرے، لیکن پاکستان میں کیریئر کونسلرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ کچھ تعلیمی اداروں نے اپنے طور پر کیریئر کونسلرز کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں، جو کہ ناکافی ہے جبکہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بطور طالب علم خود آپ کے لئے یا بطور والدین آپ کے بچے کے لئے کون سا شعبہ زیادہ فائدہ مند ہے ۔

طلبہ یا والدین کو کریئر پلاننگ کے لئے مندرجہ ذیل امور کو مدِ نظر رکھنا چاہئے۔

بنیادی ذہانت/آئی کیو لیول کو ٹیسٹ کرنا: اس ٹیسٹ میں کسی بھی انسان کی ذہنی صلاحیتوں کی سائنسی بنیاد پر پیمائش کرنا مقصود ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ طالب علم مطلوبہ شعبے میں جانے کی بنیادی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں۔

ویسے آپ کو بطور والدین اپنے بچے کے بارے میں اور ہر طالب علم کو خود اپنے بارے میں زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ذہنی صلاحیت کتنی ہے اور اس کو اس کورس/شعبے میں داخلہ لینا چاہئے یا نہیں۔ کیریئر کی بہتر منصوبہ سازی کے لیے یہ بنیادی شرط ہے۔

*۔۔۔ رویہ: عملی زندگی میں کامیابی کے لیے کسی بھی شعبے کے انتخاب کے لیے لازمی ہے کہ طالبِ علم کا رویہ اس شعبے کے بارے میں درست ہو۔ طالب علم کا جو عمومی رویہ یعنی مزاج ہو، اسی طرح کے شعبے کا انتخاب کیا جائے۔ مثلاً جو بچے زیادہ سخت جسمانی مشقت نہیں کر سکتے ان کو پولیس یا فوج کے شعبے کا انتخاب نہیں کرنا چاہے، کیونکہ وہاں ساری زندگی سخت ترین جسمانی مشقت، سخت حالات، اور تھکا دینے والے روز مرہ کے معمول کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، طالب علم کو چاہئے کہ ایسا طرز عمل اپنائیں جو ان کا پسندیدہ شعبے کی ضرورت ہو۔ اپنے بارے میں اپنی رائے کو ہمیشہ مثبت رکھیں اور جو شعبہ اختیار کرنا ہے، اس کے کامیاب و ناکام افراد سے ملاقات کریں اور ان سے ان کی کامیابی اور ناکامی کے اسباب جانیں۔

*۔۔۔ طالب علم کی ذاتی دلچسپی:کسی بھی انسان سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں لیا جا سکتا۔ اسی طرح جب تک کہ طالب علم کی کسی کام میں ذاتی دلچسپی نہیں ہوگی وہ اس شعبے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اس لئے سب سے زیادہ والدین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی مرضی بچوں پر مسلط نہ کریں اور کیریئر کے انتخاب کے مراحل میں طلبہ کے شوق اور مرضی یعنی ان کی دلچسپی کا خیال رکھیں، ورنہ بعد میں ان کی تمام محنت ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

*۔۔۔ معاشی حالات: اپنے لیے یا اپنے بچے کے لئے کسی بھی کورس کا انتخاب کرتے وقت اپنے خاندان کے معاشی حالات کو مدِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں طلبہ و طالبات کی بہت بڑی تعداد ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہے، لیکن حکومتی سطح پر ملک بھر میں میڈیکل کالجز اور ان میں سیٹوں کی تعداد شرمناک حد تک کم ہے۔ ہر سال پاکستان بھر سے لاکھوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہش مند ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے صرف چند ہزار کو ہی داخلہ ملتا ہے اور باقی کے لئے صرف نجی کالجز بچتے ہیں جن کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔

کہنے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے، لیکن کیا یہ بہتر نہیں کہ ایسی صورتحال میں دلبرداشتہ ہونے کے بجائے ایک بیک اپ پلان موجود ہو؟ کئی لوگ ایسے ہیں جو میڈیکل کالجز میں داخلہ نہ ہونے پر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور کئی کئی برسوں تک کوشش کرتے رہتے ہیں جس میں وقت اور توانائی ضائع ہوتی ہے، جبکہ ہر سال داخلہ نہ ملنے پر ہمت میں کمی آتی جاتی ہے، جبکہ کئی لوگ اسی ناکامی کو اپنی دوسری دلچسپی والا شعبہ اپنا کر کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔

*۔۔۔ صنف: لڑکیوں کے لئے ضروری ہے کی وہ ایسے شعبہ جات کا انتخاب کریں جس میں اگر وہ عملی زندگی میں جاب کرنا چاہیں تو ان کو زیادہ مشکلات نہ ہوں۔

خواتین کی جاب کے بارے میں پاکستانی معاشرے کی سوچ کے لئے صرف پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی یہ رپورٹ ہی کافی ہے کہ ’’50 فیصد لڑکیاں میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کبھی جاب نہیں کرتیں‘‘۔ اس میں خاندانی دباؤ اور بہت سارے دیگر عوامل شامل ہیں۔بعض واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ لڑکیوں نے اپنی پسند سے سول انجینئرنگ میں ڈگری اچھے نمبروں سے حاصل کی، لیکن ان کو اچھی کمپنیز میں جاب نہ مل سکی، کیونکہ نجی کمپنیز کے مالک ان سے کہتے تھے کہ ہم آپ کی جگہ مردوں کو جاب دیتے ہیں تو وہ آفس کے ساتھ ساتھ بطور سائٹ انجینئر سٹرکوں، پلوں، اور جنگلوں میں کام کر سکتا ہے، جبکہ ’’لیڈی سول انجینئر‘‘ یہ کام نہیں کر سکتیں۔ نتیجتاََ ایسی خواتین سے معذرت کر لی جاتی ہے کیونکہ کمپنی کوبطور سائٹ انجینئر ایک اور شخص کو اضافی تنخواہ دینی پڑتی ہے ۔

کیریئر کونسلنگ کے ماہرین کے مطابق اگر ایسی لڑکیاں سول انجینئرنگ کے بجائے آرکیٹکچر کا انتخاب کرتیں تو ان کو عملی زندگی میں زیادہ مشکلات نہ ہوتی اور ان کا تعمیرات کا شوق بھی پورا ہوجاتا۔

مضا مین کا انتخاب: ہمارے ہاں طلبہ کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک وہ جو بہت محنتی اور ذہین ہوتے ہیں، ان کو زبردستی سائنس پڑھائی جاتی ہے۔ دوسرے وہ طلبہ ہوتے ہیں، جو قدرے متوسط ذہنی استعداد کے حامل ہوتے ہیں، انہیں کامرس کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں اور جو طلبہ پڑھائی میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے ان کی قسمت میں آرٹس پڑھنا آ جاتا ہے اور یہ سوچے سمجھے بغیر والدین یا بڑے بہن بھائی زبردستی مضامین کا انتخاب کر کے انہیں وہ مضامین پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں جن میں ان کا کوئی رجحان نہیں ہوتا۔

اگر آپ نے اپنی پسند اور رجحان کو مد نظر رکھتے ہوئے مضامین کا انتخاب کیا ہے اور اس سے جڑا ہوا کیریئر ہی آپ کی زندگی کا مقصد ہے تو کوئی بھی آپ کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتااور آپ اپنا مقصد ضرور حاصل کرتے ہیں،لیکن اس کے برخلاف اگر آپ نے وہ مضامین پڑھے جن میں آپ کی کوئی دلچسپی نہیں تھی تو آپ کی ناکامی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

عملی زندگی میں لوگ اس لئے ناکام نہیں ہوتے کہ ان کے پاس ٹیلنٹ نہیں تھا یا وہ ذہین نہیں تھے، یا ان کے پاس اعلیٰ ڈگری نہیں تھی، بلکہ وہ صرف اور صرف اس لئے ناکام ہوتے، کیونکہ وہ دلچسپی کے بغیر بے دلی سے کام کرتے تھے۔

خودی سے آگاہی ایک بہت بڑی کامیابی ہے اور اگر آپ نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اپنی طاقت کا اندازہ لگا لیا، اور اس ٹیلنٹ کو صحیح انداز میں استعمال کرنے کا فن سیکھ لیا، تو کامیابی آپ کا مقدر بن جائے گی۔

*۔۔۔ دستیاب تعلیمی مواقع: اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر طالب علموں اور ان کے والدین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس وقت کون کون سے تعلیمی شعبہ جات میں وہ داخلہ لے سکتے ہیں۔ مثلاً عمومی طور پر ایف ایس سی پری میڈیکل کرنے والے خواہشمند طلبہ اس کے بعد کے مزید شعبہ جات کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں حالانکہ پاکستان میں ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس کے علاوہ فارمیسی، ویٹرنری، میڈیکل سائنسز، بائیو میڈیکل، کیمیکل میڈیکل، ایگریکلچرل، مائیکرو بائیولوجی اور منسلک طبی سائنسز جیسے سائیکاٹری، سائیکولوجی، فزیو تھراپی وغیرہ کے شعبہ جات میں تعلیم اور روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

بہترین تعلیمی شعبے کا انتخاب ہر طالب علم اور اس کے خاندان کے لئے سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے، لہٰذا ہر طالب علم کو اپنی شخصیت، صلاحیت، خواہش، ذہنی استعداد، مالی وسائل اور اپنی عملی ضروریات کو دیکھ کر اپنے لئے بہترین شعبے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ معاشرے کے ہر فرد کی ضروریات اور مسائل مختلف ہیں، چنانچہ ہو سکتا ہے کہ ایک شعبہ ایک طالب علم کے لئے بہترین ہو لیکن دوسرے طالب علم کے لئے وہ بدتر ہو۔ اس لئے ہر شخص کو اپنے وسائل اور حالات کے مطابق خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس کے لئے کون سا تعلیمی شعبہ بہترین ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سرپرستی میں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز کی سطح پر باقاعدہ کیریئر کونسلر تعینات کیے جائیں، جو بچوں کے ذہنی رجحان کو دیکھتے ہوئے انہیں مناسب مشورے دے سکیں۔

***

مزید :

ایڈیشن 2 -