نظریاتی سمر سکول کے سولہویں سالانہ تعلیمی سیشن کا کامیاب انعقاد

نظریاتی سمر سکول کے سولہویں سالانہ تعلیمی سیشن کا کامیاب انعقاد

  

نعیم مصطفےٰ

نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ہر سال موسم گرما کی تعطیلات میں چار ہفتوں کے لئے نوخیز طلبہ و طالبات کی ذہنی واخلاقی تربیت اور ان کے اندر قوم و ملت کے لئے احساس تفاخر پیدا کرنے کے لئے ایک تربیتی پروگرام کا اہتمام کرتا ہے جس کا نام ’’نظریاتی سمر سکول‘‘ ہے۔اس کے بانی رہبر پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی تھے۔ اس کے سرپرست تحریک پاکستان کے کارکن اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین سابق صدر مملکت محمد رفیق تارڑ ، نگران و ناظم پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد ہیں اورسیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید ہیں۔

اس سکول کا ماٹو’’پاکستان سے پیار کرو‘‘ ہے۔ نظریاتی سمر سکول کا اجراء 2002ء میں ہوا تھا۔ اب تک کئی ہزار طلبا و طالبات اس سکول کے اُمنگ پیدا کرنے والے علمی اور اخلاقی ماحول سے مستفید ہو چکے ہیں۔

بچوں کے لئے ایئر کنڈیشنڈ کمرے اور آڈیو، ویڈیو کا سازوسامان موجود ہے۔ تحریک پاکستان سے متعلق 550سے زائد نادر تصاویر کی گیلری بھی موجود ہے۔ یہ سکول6سے13برس کی عمر کے طلبا و طالبات کے لئے مخصوص ہے۔

نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام اس سال نظریاتی سمر سکول کا سولہواں سالانہ تعلیمی سیشن 15جون سے 20جولائی تک ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے 100شاہراہ قائداعظمؒ پر خوبصورت مادرِ ملتؒ پارک کے ساتھ واقع ایوان کارکنان تحریک پاکستان کی کشادہ عمارت میں منعقد ہوا ۔ جہاں اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے حامل اساتذہ کی زیرنگرانی نظریۂ پاکستان سے ہم آہنگ نصاب پڑھایا گیا۔

غیر نصابی سرگرمیوں میں تحریک پاکستان سے متعلق ٹیبلو، میجک شو، معلومات سے بھر پور لاہور کی سیر، دستاویزی فلمیں، پتلی تماشے اور سماجی خدمت کے پروگرام شامل تھے۔ کھیلوں میں ٹیبل ٹینس ، کرکٹ اور فٹ بال کے علاوہ جوڈو کراٹے کی تربیت بھی شامل تھی۔

تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان تھے۔پروگرام کے آخر میں محمد رفیق تارڑ نے رانا مشہود احمد خان کو پروگرام میں شرکت کی یادگاری شیلڈ پیش کی جبکہ رانا مشہوداحمد خان نے نظریاتی سمر سکول کے اساتذۂ کرام میں سرٹیفیکٹس تقسیم کیے۔

ذہنی تربیت کے حوالے سے پاکستان کی مشہور شخصیات سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا گیا تاکہ بچوں میں خود اعتمادی کے ساتھ پاکستان کے مسائل پر سوال و جواب کرنے کی اہلیت پیدا ہو۔

تعلیمی سیشن کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی کی جن نامور شخصیات نے بچوں کی علمی و اخلاقی تربیت میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا ،اُن میں ، روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر اور معروف تجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی ، کالم نگار و دانشور ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، بیگم مہناز رفیع، بیگم صفیہ اسحاق،صدر نظریۂ پاکستان فورم، میرپورآزادکشمیر مولانا محمد شفیع جوش ، محمد تنویر بھٹی ،ماہر اقبالیات اور معروف عالم دین علامہ احمد علی قصوری ، وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس و چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد، معروف صحافی و اینکر پرسن خوشنود علی خان ، ممتاز ادیبہ ‘ شاعرہ و کالم نگار بیگم بشریٰ رحمن، کائنات خوشنود،پاکستان نیوی وار کالج‘ لاہورکے ڈائریکٹر ریسرچ کموڈور (ر) نوید احمد ،مشیر وزیراعلیٰ پنجاب رانا محمد ارشد، خانوادۂ حضرت سلطان باہوؒ صاحبزادہ سلطان احمد علی ، معروف صحافی واینکر پرسن سہیل وڑائچ، معروف ٹی وی ڈرامہ ’’ عینک والا جن ‘‘ کے کردار حسیب پاشا(ہامون جادوگر) ،سابق آئی جی پنجاب و معروف دانشور ڈاکٹر سید اظہر حسن ندیم ، ممتاز دانشور، شاعر،ادیب امجد اسلام امجد، کالم نگار و شاعرہ رقیہ غزل اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شعبۂ خواتین کی سیکرٹری بیگم صفیہ اسحاق، معروف کالم نگار قیوم نظامی، ممتازصنعتکار ونوجوان دانشور میاں سلم، صدر لاہور پریس کلب محمد شہباز میاں، سینئر صحافی و اینکر پرسن ذوالفقار احمد راحت، معروف نعت خواں الحاج سرور حسین نقشبندی اور الحاج اختر حسین قریشی ، معروف صنعتکار مقصود بٹ ،فائٹر پائلٹ ایئروائس مارشل (ر) فاروق عمر، انجینئر محمد عارف شیخ، رفیق شہزاد اور مدثر نذر ،چوہدری نعیم حسین چٹھہ، پروفیسرڈاکٹر پروین خان ، علامہ احمد علی قصوری چیف جسٹس(ر) خلیل الرحمن خان، ماہر تعلیم ادیب جاودانی، ممتاز مسلم لیگی رہنما خواجہ احمد حسان ،نظریۂ پاکستان کے چیف کوآرڈی نیٹر میاں فاروق الطاف، معروف ماہر قانون پروفیسر ہمایوں احسان ، سینئر صحافی و اینکر پرسن نجم ولی خان معروف کالم نگار اور دانشور ڈاکٹر راؤ منظر حیات‘ ممتاز سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر ریاض الدین‘ سٹی ٹریفک پولیس لاہور ایجوکیشن ونگ کے افسران انسپکٹر نبیلہ رؤف، انسپکٹر معظم علی، لیڈی ٹریفک وارڈن ملیحہ اعجاز اور اسماء نورین ، جناح ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر آصف علی ابرار، ڈاکٹر محمد عزیر حفیظ اور عابدہ پروین ،ممتاز صنعتکار اور دانشور افتخار علی ملک، شامل ہیں۔

نظریاتی سمر سکول کا مقصدبچوں میں حصول علم کاشوق، ملک و قوم کے بارے میں احساس تفاخر پیدا کرنے کے علاوہ ان میں پاکستانیت کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔ دو قومی نظریے کے جذبے کو زندہ رکھ کر ہی پاکستان کو قائم رکھا جا سکتا ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 2 -