دنیا کی قدیم جامعات اور ان کا کردار

دنیا کی قدیم جامعات اور ان کا کردار

  

ڈاکٹر ظہیر احمد بابر

تعلیم کا اعلی معیار بلا شبہہ معاشرے کی خوشحالی اور امن و امان کو براہ راست طریقے سے متاثر کرتا ہے۔ سرعت سے ترقی و تبدیلیوں کے دور سے گزرنے والی ہماری اس دنیا میں تعلیم و تربیت کرنے والے اداروں کی اہمیت قدرے زیادہ ہے۔ تعلیم کا مقصد انسانوں کو زیادہ مثبت اور معاشرے کے لئے فائدہ مند بننے کے لئے ان کی تربیت کرنا اور اپنے مستقبل کا بذات خود تعین کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

حال ہی میں ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے عالمی ساکھ کے لحاظ سے دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست جاری کی گئی جس میں امریکہ کی یونیورسٹیاں ٹاپ تھری پر ہیں ۔ برطانوی کیمبرج اور اوکسفورڈ یونیورسٹی کی دو درجے تنزلی جبکہ فہرست میں پاکستان اور بھارت کی کوئی یونیورسٹی شامل نہیں۔ فہرست میں پہلی تین پوزیشنز پر امریکی یونیورسٹیاں ہارورڈ یونیورسٹی ، میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ، سٹینفورڈ یونیورسٹی براجمان ہیں۔ برطانیہ کی کیمبرج اور آکسفورڈ دو درجے کی تنزلی کے بعد بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔ گذشہ سال کے مقابلے میں 100 بہترین یونیورسٹیوں میں ایشیائی یونیورسٹیوں کی تعداد 10 سے بڑھ کر 17 ہو گئی ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ برطانیہ رینکنک میں تنزلی کا شکار ہے جبکہ اس کی دو یونیورسٹیز رینکنگ سے خارج بھی ہوئی ہے۔ تاہم دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں پاکستان اور بھارت کی کسی بھی یونیورسٹی کو شامل نہ کیا جانا کھلا تضاد ہے۔ ایک جائزے کے مطابق ایچ ای سی سے تصدیق شدہ یونیورسٹیوں کی تعداد134ہے جبکہ اس وقت ملک میں 160یونیورسٹیاں موجودہیں۔

جب ہم یونیورسٹیز کی بابت بات کر ہی رہے ہیں توکیوں نہ ایک نظر دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں پر بھی ڈال لی جائے۔ ہم جن یونیورسٹیوں کی بات کریں گے ان کا تعلق گنیز بک کے اس شعبے کا سے ہے جو بغیر کسی تعطل کے آج تک علم کی روشنی بکھیر رہی ہیں، اور ان میں وہ تعلیمی ادارے شامل نہیں ہیں جو زمانۂ قدیم میں تو قائم تھے لیکن اب کام نہیں کر رہے۔عام طور پر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع جامعہ الازہر کو دنیا کی قدیم ترین یونی ورسٹی مانا جاتا ہے لیکن غالباً بہت سے لوگوں کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ گنیز بک آف ریکارڈز کے مطابق دنیا کی قدیم ترین یونی ورسٹی جامعہ الازہر نہیں بلکہ یہ اعزاز افریقہ ہی کی ایک اور مسلم یونی ورسٹی’’جامعہ القرویین‘‘ کو حاصل ہے، جو 859ء میں قائم کی گئی تھی۔اور یونیورسٹی بھی کوئی عام قسم کی نہیں بلکہ وہ جس سے دنیائے اسلام کی دو عظیم ترین شخصیات نے تعلیم حاصل کی یعنی ابن العربی اور ابن خلدون۔یہ جامعہ القرویین مراکش کے تاریخی شہر فیض کی یونیورسٹی ہے، جو دنیاکی قدیم ترین ایسی یونیورسٹی ہے جو آج تک قائم و دائم ہے۔اس کے مقابلے میں قاہرہ کی جامعہ الازہر 971ء میں قائم کی گئی تھی، گویا عمر میں یہ القرویین سے 112 برس چھوٹی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ابھی فیض شہر نیا نیا آباد ہوا تھا کہ اس کے حکمران نے یہ دعا مانگی تھی کہ ’’اے خدا، اس شہر کو ایسا علمی مرکز بنا دے جہاں قانون، سائنس اور تیری کتاب کی تعلیم دی جائے‘‘۔اس حاکم کی دعا یوں قبول ہوئی کہ ایک متموّل سوداگر کی بیٹیوں محترمہ فاطمہ الفہری اورمحترمہ مریم الفہری نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد ترکے میں ملنے والی دولت سے ایک عظیم الشان مسجد بنانے کا تہیہ کرلیا۔ جب مسجد بنی تو اس زمانے کے رواج کے مطابق اس کے ساتھ ایک مدرسہ بھی قائم کیاگیا۔ یاد رہے کہ جامعہ الازہر کا آغاز بھی مسجد سے ملحق مدرسے کے طور پر ہوا تھا۔جب فاطمہ کا مدرسہ چل پڑا اور اس میں دور دور سے طلبا علم کی پیاس بجھانے کے لیے آنے لگے تو اس عہد کے سلاطین بھی متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انہوں نے اس مدرسے کو اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ جلد ہی وہ وقت آیا کہ جب مدرسے میں پڑھنے والے طلبا کی تعداد آٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی۔ آنے والی صدیوں میں مسجد اور مدرسے میں مسلسل توسیع ہوتی رہی اور مدرسہ جامعہ القرویین کہلانے لگا۔جامعہ القرویین میں صرف دینی علوم ہی نہیں بلکہ دنیاوی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے جن میں صرف و نحو، منطق، طب، ریاضی، فلکیات، کیمیا اور تاریخ شامل تھے۔جامعہ سے اسلامی تاریخ کی کئی بلند قامت شخصیات وابستہ رہی ہیں۔اس تاریخی ادارے نے عالمِ اسلام اور مغرب کے درمیان صدیوں تک علمی اور ثقافتی پل کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبامیں کئی غیر مسلم محقیقن بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر یورپ میں عربی ہندسے اور صفر کا تصور متعارف کروانے والے پوپ سلوسٹر ثانی اسی یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے۔ سلوسٹر ثانی 999ء سے 1003ء تک پوپ کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ان کے علاوہ مشہور یہودی طبیب اور فلسفی موسیٰ بن میمون بھی اسی جامعہ کے طالبِ علم رہے۔کہا جاتا ہے کہ مشہور جغرافیہ دان محمد الادریس نے بھی اسی جامعہ میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے بنائے ہوئے نقشہ جات سے یورپ کے لوگوں نے خاصا فائدہ اٹھایا۔ 1912ء میں مراکش پر فرانس کے قبضے کے بعد جامعہ کا زوال شروع ہوا۔

ہندوستان کی ریاست بہار میں قدیم نالندہ یونیورسٹی 500 قبل مسیح قائم ہوئی۔ا سی یونیورسٹی میں گوتم بدھ نے بھی تعلیم حاصل کی اور یہیں تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے۔ نالندہ یونیورسٹیکو تین بار تباہ کیا گیا۔ پہلی دفعہ سکندہ گپتا کے سردار میرکولا، دوسری دفعہ گاؤداس اور تیسری دفعہ ترک فوج کے سردار بختیار خلجی نے اس یونیورسٹی پر حملہ کیا۔ بختیار خلجی کی لائی ہوئی تباہی کے بعد یہ تعلیمی ادارہ بحال نہیں ہوسکا۔ جاپان ، سنگاپور اورچین کی حکومتیں بھی یونیورسٹی کے بحالی کے منصوبے میں دلچسپی لیتی رہی تھیں۔ ہندوستان کے سابق مسلمان صدر ڈاکٹر ابوالکلام نے نالندہ یونیورسٹی کی بحالی کا کام شروع کرایا تھا۔

دنیا کی ایک اور قدیم یونیورسٹی چین میں بادشاہ سنگ کوان نے250 قبل مسیح نانجنگ یونیورسٹی قائم کی گئی۔ ایک تاریخ دان زیاؤ کو اس یونیورسٹی کا پہلا صدر مقررکیا گیا تھا۔یہ بڑی یونیورسٹی155 کمروں پر مشتمل تھی۔تاریخ دان زیاؤ کو باضابطہ طور پر شاہی خاندان کی تاریخ لکھنے پر معمور تھے۔ چین کے چوتھے بادشاہ نے دان زیاؤکو شاہی خاندان کے متعلق بعض تاریخی حقائق حذفکرنے پر مجبور کیا۔دان زیاؤکے انکار پر انہیں قتل کروا دیا تھا۔ 16 ویں صدی کے آغاز سے چین میں قابل ذکر تبدیلیاں عمل میں آرہی تھیں۔ 1902ء میں جاپان کے طریقہ تعلیم سے متاثر ہو کر ایک کالج کی داغ بیل ڈالی گئی۔ 1915ء میں فزیکل تعلیم کا ادارہ قائم ہوا۔ 1918ء میں چین کی سائنس سوسائٹی بنائی گئی۔1920 ء تک چین کے 50 فیصد سائنسدانوں کا تعلق نانجنگ یونیورسٹی سے رہا۔1919ء میں یونیورسٹی کے دروازے خواتین کے لئے بھی کھول دیئے گئے۔1976ء میں چین میں برپا کئے جانے والے ثقافتی انقلاب میں نانجنگ یونیورسٹی کا کردار اہم رہا تھا۔

دنیا کی ایک اور قدیم یونیورسٹی گونڈی شاہ پوریونیورسٹی 215 عیسوی میں ایران کے شہر شاہ آباد کے جنوب میں قائم ہوئی۔ 832 عیسوی میں خلیفہ ہارون رشید نے بغداد میں دارالحکومت قائم کیا تو اس کی منصوبہ بندی گونڈی شاہ پورکے طرز پر کی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ 713 عیسویں میں تیونس میں الزیتون یونیورسٹی میں قائم ہوئی۔ ابتدائی طور پر مسلمانوں کی تعلیم کا باضابطہ نظام نہیں تھا۔ مساجد میں مباحثے ہوتے، غیر مسلم عالم اور مذہبی رہنما مسجد میں آ کر اپنے سوالات پیش کرتے تھے، دیگر مدرسوں سے اس لئے مختلف تھی کہ یہاں تعلیم دینے کے بعد استاد اپنے شاگردوں کو یہ اجازت دیتے تھے کہ وہ بھی شاگرد بنا سکتے ہیں۔شاگرد بنانے کی اجازت آج کے زمانے میں گریجویشن کی تقریب سمجھی جاسکتی ہے۔ عظیم فلسفی اور سماجی سائنسدان ابن خلدون نے ابتدائی تعلیم اسی یونیورسٹی میں حاصل کی۔ انہوں نے دنیا کی تاریخ پر 7 کتابیں تحریرکیں۔

دنیا کی قدیم الازہر یونیورسٹی 973 عیسوی میں قاہرہ میں قائم ہوئی۔ الازہر یونیورسٹی کا قیام فاطمی حکمرانوں کے ایک فوجی سردار جواہر کے ہاتھوں سے ہوا۔ 1941ء میں مصر کے صدر عبدالناصر کے حکم پر جامعہ الازہر کو باقاعدہ طور پر یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ حکومت کی کاوش سے دور جدید کے علوم کو یونیورسٹی کا حصہ بنادیا گیا۔ یونیورسٹی آف اسلامنکا 1130ء میں قائم ہوئی۔ اس سال کرسٹوفر کولمبس سپین کے بادشاہ سے بار بار درخواست کررہا تھا کہ ہندوستان کا نیا راستہ دریافت کرنے کے لئے اس کی مدد کی جائے۔ پیرس یونیورسٹی کا قیام 1170ء میں عمل میں آیا۔ یونیورسٹی کو کلیسا کے قوانین کے تحت چلایا جاتا تھا۔ طلبہ کو 13 سال کی عمر میں داخلہ دے دیا جاتا تھا۔ طلبہ نہ تو بادشاہ کے قوانین کے پابند تھے اور نہ ہی شہری قوانین کا نفاذ ہوتا تھا۔جب کوئی طالب علم ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کرتا تھا تو یونیورسٹی انتظامیہ کے حوالے کیا جاتا تھا۔

نظامیہ یونیورسٹی ایران، عراق میں 1065ء میں قائم ہوئی۔1065ء میں خواجہ نظام الملک طوسیٰ نے نظامیہ طریقہ تعلیم کا آغازکیا۔ یہ تعلیمی نظام کا ایک منفرد سلسلہ تھا جو ایران کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا عراق کے شہر بغداد بھیج دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نظام تعلیم جامعہ فاطمتہ الزہرا کے مقابلے یا اس کو کم کرنے کے تصور کے ساتھ شروع ہوا۔ نظامیہ نظام تعلیم بہت مربوط طور پر شروع کیا گیا۔ اس یونیورسٹی کے نصاب میں اسلامی قوانین کے علاوہ 80 فیصد تک حصہ موجود رہا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی1187ء میں قائم ہوئی۔ بادشاہ ہنری دوئم نے 1167 ء میں انگلستان کے طلبہ کی پیرس یونیورسٹی میں داخلہ پر پابندی لگائی تھی۔ اس پابندی کی بناء پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی لائبریری انگلستان کی دوسری بڑی لائبریری ہے۔ اس یونیورسٹی کا پریس دنیا کا سب سے بڑا اشاعتی ادارہ ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں قائم ہونے والا میوزیم آج بھی نوجوانوں کے لئے انتہائی پرکشش ہے۔ برطانیہ کے کئی وزیراعظم آکسفورڈ سے پڑھے ہوئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے بھی آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی۔ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی 1213 ء میں قائم ہوئی۔ بادشاہ ہنری سوئم نے اس ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ کیمبرج یونیورسٹی میں طویل عرصے تک لڑکیوں کا داخلہ ممنوع رہا۔1869ء میں یہاں لڑکیوں کا پہلا کالج قائم ہوا مگر یونیورسٹی میں تین ایسے کالج ہیں جہاں صرف لڑکیوں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔عظیم سائنسدان سٹیفن ولیم ہاکنگ نے کیمبرج سے تعلیم حاصل کی۔ چارلس ڈارون نے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔

المختصرتعلیمی و جامعاتی کلچر صدیوں میں تشکیل پاتا ہے۔ انگلینڈ اور یورپ کی قدیم یونیورسٹیاں اچانک نہیں بن گئی تھیں۔ انہیں عالم و فاضل لوگوں کو متوجہ کرنے اور تحقیق کے نمایاں مراکز بننے میں طویل وقت لگا۔

***

مزید :

ایڈیشن 2 -