موبائل آئی ہسپتال کامنصوبہ فنڈزکی عدم دستیابی کے باعث ٹھپ ہوگیا

موبائل آئی ہسپتال کامنصوبہ فنڈزکی عدم دستیابی کے باعث ٹھپ ہوگیا

  

لا ہور (جنر ل ر پو رٹر ) ضلعی انتظامیہ کا موبائل آئی ہسپتال کا منصوبہ ٹھپ ہوگیا، پونے دو کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والا ہسپتال انجن کی خرابی کے باعث ایک سال سے کھلے آسمان تلے خستہ حالی کا شکار ہے۔تفصیلا ت کے مطا بق ضلعی انتظامیہ نے 2009 میں شہریوں کو امراض چشم سے متعلق سہولت فراہم کرنے کے لیے موبائل ہسپتال کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ ہسپتال مختلف سرکاری سکولوں اور کالجوں میں طلبا و طالبات کو آنکھوں کے امراض سے متعلق علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے سمیت شہر کی مختلف یونین کونسلوں میں بھی خدمات سرانجام دیتا تھا۔ موبائل آئی ہسپتال کی گاڑی کے انجن میں خرابی کے باعث منصوبہ ٹھپ ہوگیا اور مرمتی کام کے فنڈز کی سمری گزشتہ ایک سال سے صرف فائلوں تک حدود ہے۔محکمہ پبلک ہیلتھ کے زیرانتظام موبائل آئی ہسپتال کے مرمتی کام کیلئے محکمہ ورکس نے ساڑھے سات لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا۔انجن کی مرمت کیلئے پانچ لاکھ اور گاڑی کے اردگرد فلیکسز کیلئے اڑھائی لاکھ روپے درکار تھے جس پر محکمہ فنانس نے اعتراض لگادیا۔ ڈی او پبلک ہیلتھ ٹو ڈاکٹر نسرین حمید کے مطابق مرمتی فنڈز کی سمری کی منظوری تک منصوبہ دوبارہ شروع نہیں ہوسکتا۔

مزید :

علاقائی -