نیب اور الیکشن کمیشن عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے

نیب اور الیکشن کمیشن عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے
 نیب اور الیکشن کمیشن عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے

  

نیب بلا شبہ پاکستان میں کرپشن کے خلاف کام کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔اسی طرح الیکشن کمیشن پاکستان میں انتخابی نظام کی حفاظت کا سب سے بڑاادارہ ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ اگر نیب اپنے فرائض صحیح طریقہ سے ادا کرنا شروع کر دے ملک میں کرپشن میں کافی حد تک کمی ہو جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ میڈیا کو جاری کی جانی والی خبروں کے مطابق چیئرمین نیب نے نیب کے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کی بہت تعریف کی ہے۔ اور اس کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ میں خبر پڑھ کر حیر ا ن و پریشان ہوں۔ کہ آخر خوش فہمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

اسی طرح ملک میں جمہوریت کے حامی اور جمہوریت کے مخالف دونوں طبقے الیکشن کمیشن اور اس کی کارکردگی سے نا لاں ہیں۔ ماضی میں حکومت بھی الیکشن کمیشن سے نالاں رہی ہے۔ اپوزیشن بھی الیکشن کمیشن سے نالاں رہی ہے۔دونوں ہی اس کی کارکردگی کے نقاد رہے ہیں۔ اور اب جب الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ہوئی ہے تب بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ہی الیکشن کمیشن پر کوئی زیادہ اعتماد نہیں ہے۔ عمران خان نے تو پہلے ہی تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ لیکن جنہوں نے تحفظات کا اظہار نہیں کیا ہے وہ بھی کوئی زیادہ پر امید نہیں ہیں۔

نیب عجیب ادارہ ہے۔ نہ اس سے حکومت خوش ہے۔ نہ اپوزیشن خوش ہے۔ نہ عدالتیں خوش ہیں۔ نہ عام آدمی خوش ہے۔ نہ کرپٹ خوش ہیں۔ نہ ایماندار خوش ہیں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن نیب ملک کے کسی بھی طبقہ کو اپنی کارکردگی سے متاثر کرنے میں مکمل طور پر نا کام ہے۔نیب میں تفتیش کے عمل پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔ اسی طرح نیب کے ریفرنس فائل کرنے کے طریقہ کار پر بھی بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔ نیب کے پلی بارگین کے طریقہ کار پر بھی سوالیہ نشان ہی سوالیہ نشان ہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ نیب کے اپنے اندر یا تو جنگل کا قانون ہے۔ یا نیب میں مغل بادشاہی کا قانون ہے۔ کوئی نظام نہیں۔ ہر چیز ہر فیصلہ ایک ذات میں مرکوز ہے۔ تمام اختیارات فرد واحد کے پاس ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ کیوں نہیں تفتیش سے لیکر ریفرنس کے فائل ہونے تک کا ایک شفاف نظام بنا دیا جاتا۔ کیوں نہیں پلی بارگین کا بھی ایک شفاف نظام بنا دیا جاتا۔ ایسی داستانیں کیوں زبان زد عام ہیں کہ جس کی سفارش تگڑی ہواسے پلی بارگین کی آسان شرائط مل جاتی ہیں اور جس کی سفارش کمزور ہو اس کے لئے پری بارگین کی شرائط مشکل ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح جس کی سفارش تگڑی ہو اس کی تفتیش کئی کئی سال مکمل نہیں ہو تی۔ اور جس کی سفارش کمزور ہو اس کے ریفرنس کو پہئے لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں جب نیب عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا۔تو نیب کے حوالے سے یہ خبریں مضحکہ خیز ہی ہیں کہ اس کی پراسیکیوشن شعبہ کی کارکردگی قابل تحسین ہے۔

اسی طرح یہ درست ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے آئینی مدت کے اندرآئینی طریقہ کار کے مطابق الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی کر دی ہے۔ گو کہ ان ارکان کی حلف برداری کے بعد یہ خبریں آئی ہیں کہ الیکشن کمیشن مکمل طور پر فعال ہو گیا۔ تا ہم یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت کہ اس کے فعال ہونے سے کسی قسم کی امید کی کوئی کرن نہیں ہے۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کا عام شہری انتخابی نظام میں سخت اصلاحات کا خواہش مند ہے۔

پاکستان کے عام شہری کی خواہش ہے کہ الیکشن کمیشن ایسی اصلاحات کرے کہ ملک کی انتخابی سیاست سے پیسے کا استعمال ختم ہو سکے۔ ابھی پیسے کے بے جا استعمال نے مڈل کلاس کے لئے انتخابی میدان کے دروازے بند کئے ہوئے ہیں ۔ لیکن اگر الیکشن کمیشن واقعی حقیقی معنوں میں انتخابی اصلاحات کرنے میں کامیاب ہو جائے تو مڈل کلاس اور پڑھے لکھے طبقے کے لئے انتخابی سیاست کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

اسی طرح پاکستان کی جمہوریت کی دعویدار سیاسی جماعتوں میں آمریت بھی الیکشن کمیشن کی نا کامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صرف الیکشن کمیشن ہی واحد ادارہ ہے جو سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر جمہوریت لانے پر قائل اور مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس اس سمت میں نہ تو کوئی پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی ایجنڈہ ہے۔

اس لئے نیب اور الیکشن کمیشن ہمارے ملک کے دو ایسے ادارے ہیں جو اگر عوامی توقعات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو ملک میں نہ صرف کرپشن کم ہو سکتی ہے بلکہ جمہوریت مستحکم اور مضبوط ہو سکتی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں ادارے عوامی توقعات کے مطابق کام نہیں کر رہے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ دونوں ادارے ملک میں سٹیٹس کو کے لئے کام کر رہے ہیں۔ان دونوں اداروں کے سربراہان کو عوامی توقعات کا خیال کرنا ہو گا۔ اور سمجھنا ہو گا کہ ان کی کوتاہیا ں ملک و قوم کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہیں۔

مزید :

کالم -