وزیر اعلٰی کے انتخابات کیلئے سندھ اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا

وزیر اعلٰی کے انتخابات کیلئے سندھ اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ کے انتخاب کے لیے سندھ اسمبلی کا اجلاس آج (جمعہ) سہہ پہر تین بجے اسمبلی میں بلڈنگ میں منعقد ہوگا ۔اجلاس کی صدارت اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کریں گے ۔وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے پیپلزپارٹی کے امیدوار سید مراد علی شاہ اور تحریک انصاف کے امیدوار خرم شیرزمان کے درمیان مقابلہ ہوگا ۔پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی کی تعداد 91ہے جبکہ تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں 3ارکان ہیں ۔ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے ۔توقع ہے کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار مراد علی شاہ اسمبلی میں 86ووٹ حاصل کرکے وزیراعلیٰ منتخب ہوجائیں گے ۔بعد ازاں سندھ اسمبلی سے منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں منعقد ہوگی ۔گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العبا د خان نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیں گے ۔سندھ اسمبلی میں جمعرات کو وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کاغذات نامزدگی صبح 9بجے سے شام 5بجے تک اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائے گئے ۔پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے چار کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ۔جانچ پڑتال کے بعد چاروں کاغذات درست قرار دیئے گئے ہیں ۔سید مراد علی شاہ کے تجویز کنندہ قائم علی شاہ جبکہ تائید کنندہ نثار احمد کھوڑو تھے۔پیپلزپارٹی کے ڈاکٹرسکندر میندھرو نے کورنگ امیدوار کے طورپر کاغذات نامزدگی جمع کرائے جبکہ دوسرے کورنگ امیدوار جام مہتاب ڈہر تھے ۔دونوں کورنگ امیدواروں کے کاغذات بھی درست قرار پائے ۔تحریک انصاف کے امیدوار خرم شیر زمان کے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال کے بعد درست قرار دے دیئے گئے ہیں ۔اس طرح وزرات اعلیٰ کے لیے تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیئے گئے ہیں ۔تمام امیدواروں کے کاغذات درست قرار دینے کے بعد پیپلزپارٹی کے کورنگ امیدواروں ڈاکٹرسکندر میندھرو اور جام مہتاب ڈہر نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔حتمی فہرست کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار سید مراد علی شاہ اور تحریک انصاف کے امیدوار خرم شیر زمان کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ ہوگا ۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام ارکان سندھ اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ جمعہ کو ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپنی شرکت یقینی بنائیں اور وزیراعلیٰ کے انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں ۔

مزید :

صفحہ اول -