سندھ پولیس کو غیر سیاسی کیا جائے ، انفراسٹر کچر مستحکم شفاف بھرتیاں کی جائیں ، سپریم کورٹ

سندھ پولیس کو غیر سیاسی کیا جائے ، انفراسٹر کچر مستحکم شفاف بھرتیاں کی جائیں ...

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے کراچی بے امنی کیس کا تحریری حکم جاری کر دیا ہے جس میں عدالت نے امن وامان سے متعلق حکومت کی رپورٹ کو ٹال مٹول قرار دے دیاہے ۔تفصیلات کے مطا بق عدالت کی جانب سے تحریری حکم نامے میں کہا گیاہے کہ پولیس کو فوری غیر سیاسی کیا جائے،15 مددگار فوری رسپانس کیلئے قائم کیا گیا تھا مگر محکمہ نتائج دینے میں ناکام ہوگیا۔سپریم کورٹ نے 15مدد گار فوری کراچی پولیس کے ماتحت کرنے ،پولیس کا انفرا اسٹرکچر مستحکم کرنے اور شفاف بھرتیاں کرنے کا حکم دیاہیسپریم کورٹ نے شہر قائد میں امن و امان سے متعلق رپورٹ ایک مرتبہ پھر مسترد کردی، عدالت نے اٹارنی جنرل، چیئرمین پی ٹی اے ،آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری کو دو ہفتوں میں جیو فینسنگ اور جی ایس ایم لوکیٹر کا معاملہ حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 11اگست تک کیلئے ملتوی کردی۔جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت ہوئی،دوران سماعت اٹارنی جنرل،سیکریٹری داخلہ سندھ،چیف سیکریٹری اور آئی جی سندھ سمیت تمام متعلقہ افراد عدالت میں پیش ہوئے۔اس موقع پر چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے عدالت کو کراچی میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011میں شہر میں 46مقامات پر 2میگا پکسل کے 198کیمرے نصب کیے گئے جبکہ 2012میں 2میگا پکسل کے مختلف علاقوں میں 820کیمرے نصب کیے گئے جن میں سے صرف 17کام کر رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید تحریر کہا گیا ہے کہ 2014میں 2میگا پکسل کے 910جبکہ 2015میں 5میگا پکسل کے 225کیمرے نصب کیے گئے ہیں،2010-11میں 164مقامات پر لگائے گئے کیمروں کیلئے 50کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی۔رپورٹ میں کیمروں کے کنٹرول کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہے کہ 2008میں نصب کیے گئے تمام کیمروں کا مکمل وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا جبکہ جن میں سے 2321کیمروں کا کنٹرول کے ایم سی کے پاس ہے،نصب کیمروں کا سروے اور مرمتی کام کیلئے کوئی ماہر موجود نہیں ہے۔چیف سیکریٹری سندھ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ’’ یکم اکتوبر سے شہر میں لگے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کا مکمل کنٹرول پولیس کو دے دیا جائے گا،اس منصوبے کی تکمیل کیلئے آئی جی سندھ نے 3کمیٹیاں تشکیل دی ہیں اور ایک ٹینڈر جاری کیا ہے جس کی آخری تاریخ 26جولائی ہے ‘‘،چیف سیکریٹری نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس اقدام کا مقصد شہر میں جاری جرائم کو قابو کرتے ہوئے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے،حکومت سندھ نے اس مقصد کیلئے رواں سال 27کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ جی ایم لوکیٹرز کی فراہمی کا معاملہ کہاں تک پہنچایا جس پر آئی جی سندھ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ موبائل کمپنیاں ڈیٹا فراہم کرنے میں فراہم کرنے میں تعاون نہیں کرتیں،ہمیں ایک کیس میں دیٹا رسائی کیلئے 14روز کی مہلت دی جاتی ہے اور جیو فکسنگ کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی،پولیس تفتیش کا اہم ادارہ ہے مگر اس کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے تفتیش بہت متاثر ہوتی ہے،عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا جس پر انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لوکیٹرز سندھ پولیس کو دیئے جارہے ہیں، اگر کسی کیس میں جیو فنیسنگ کی ضرورت ہوتو 2گھنٹے کی سہولت فراہم کر دی جاتی ہے۔چیف جسٹس نے چیئرمین پی ٹی اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی سندھ کہہ رہے ہیں کہ معلومات فراہم نہیں کی جاتی جس پر انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متعلقہ ادارے کو معلومات تک رسائی حاصل ہے تاہم تمام اداروں کو صارف کے ڈیٹا حصول کی سہولت میسر نہیں ہے تاہم سیکریٹری داخلہ نے پولیس افسران کی فہرست فراہم کی ہے جو موبائل کمپنیوں کو فراہم کردی جائے گی جس پر عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے سے کہا کہ آپ سیکریٹری داخلہ کے نوٹفکیشن سے لاعلم ہیں۔جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی سندھ،سرکاری ادارے ایک دوسرے پر انگلی نہ اٹھائیں یہ غیر سنجیدہ عمل ہے،ادارے آپس میں بیٹھ کر معاملات کو حل کریں ،آئی جی سندھ نے عدالت کو کہا کہ کسی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے ۔عدالت اس حوالے سے خود فیصلہ کرکے متعلقہ اداروں کو پابند کرے،اٹارنی جنرل نے آئی جی سندھ کے بیان پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قیام امن کی ذمہ داری آئی جی سندھ کی ۔سیکریٹری داخلہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ موبائل کمپنیوں کو تمام صوبوں کو دی آئی جیز کو معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل،چیئرمین پی ٹی اے،آئی جی سندھ،چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ 2ہفتوں میں جیو فیسنگ اور جی ایس ایم لوکیٹر کے معاملے کو حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11اگست تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -