امریکی تاریخ میں ہیلری سے زیادہ وائٹ ہاؤس کا حقدار کوئی نہیں ، صدر اوبامہ

امریکی تاریخ میں ہیلری سے زیادہ وائٹ ہاؤس کا حقدار کوئی نہیں ، صدر اوبامہ

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) صدر بارک اوبامہ نے امریکی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ پوری امریکی تاریخ میں ہیلری کلنٹن سے زیادہ وائٹ ہاؤس کا حقدار کوئی نہیں ہے اور آپ اگر امید اور تبدیلی کے میرے خواب کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہیلری کلنٹن کو صدر منتخب کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ اپیل بدھ کی رات فلاڈلفیا میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے قومی کنونشن میں تالیوں کی گونج میں ہزاروں کارکنوں کے اجتماع سے اپنے پرجوش اور ولولہ انگیز خطاب میں کی۔ اسی کنونشن ہال میں ایک روز قبل مشعل اوبامہ نے اپنی مسحور کن جذباتی تقریر کے ذریعے میلہ لوٹ لیا تھا جن کا زیادہ زور اس بات پر تھا کہ امریکی بچوں کو ایک روشن اور پرامید مستقبل دینے کیلئے خاندانی اقدار پر یقین رکھنے والی ہیلری کلنٹن کو منتخب کیا جائے۔ اس طرح اب امریکہ کا ’’خاندان اول‘‘ پوری طرح کھل کر ہیلری کلنٹن کی حمایت میں میدان میں اتر آیا ہے۔ صدر اوبامہ اپنی تقریر ختم کرکے ایک بہت بڑے سٹیج پر گھوم پھر کر ہاتھ ہلا ہلا کر شرکاء کی تالیوں اور نعروں کا کافی دیر تک جواب دیتے رہے۔ اسی دوران بغیر اطلاع دیئے ہیلری کلنٹن اچانک سٹیج پر آگئیں اور صدر اوبامہ سے گلے ملنے کے بعد وہ دونوں مل کر کارکنوں کے پرجوش نعروں پر مسرت کا اظہار کرتے رہے۔ صدر اوبامہ نے ہیلری کلنٹن کے بارے میں بتایا کہ یہ خاتون ایک وقت صدارتی ٹکٹ کے حصول کیلئے میری مخالف تھی، پھر میری وزیر خارجہ بنی اور اب میری میراث کو آگے بڑھانے کیلئے میری بہترین امید کا مظہر ہے۔ انہوں نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آپ نے مجھے کامیاب کیا تھا اب اسی طرح ہیلری کلنٹن کو کامیاب کریں۔ صدر اوبامہ نے اس موقع پر ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید ترین تنقید کریت ہوئے اس کے امیگریشن قوانین نافذ کرنے اور سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے منصوبوں کا مذاق اڑایا اور کہا کہ وہ ایک بادشاہ کی طرح حکومت کرنے کا خواہشمند ہے۔ صدر اوبامہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ پہلے ہی عظیم ہے جو عظمت کیلئے ٹرمپ کا محتاج نہیں ہے جو قوم میں خوف اور انتشار بانٹنے میں مصروف ہے۔ صدر اوبامہ نے پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہیلری کلنٹن نے یقیناًکچھ غلطیاں کی ہیں جن کی بنا پر ان کے اس سے اختلافات رہے ہیں لیکن وہ اب ان کو نظرانداز کردیں کیونکہ اپنے روشن خیال نظریات کی ترویج کیلئے اس وقت میدان میں موجود تو ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ ضروری نہیں ہر مسئلے پر ان کا ہیلری سے مکمل اتفاق ہو لیکن اگر پوری سنجیدگی سے جمہوریت کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو ہیلری کا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے ہیلری کا اپنے انداز میں تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ بڑے سے بڑے بحران میں لوگوں کی شکایات کو تحمل اور سکون سے سننے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور سب کی عزت کرتی ہیں۔ وہ مشکل حالات کا پورے اعتماد سے سامنا کرتی ہیں اور ان کا شمار میدان سے بھاگ جانے والوں میں نہیں ہوتا۔ وہ اپنے تجربے اور قابلیت کی بدولت بڑے سے بڑے چیلنج کا بآسانی مقابلہ کرسکتی ہیں۔ سفارتی سطح پر ہیلری کی نہ صرف ملک کے آندر بلکہ باہر ہی بہت پہچان ہے۔ پوری دنیا کے لیڈر ہی نہیں ان کے عوام بھی ہیلری کلنٹن کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ری پبلکن پارٹی کی قومی کنونشن میں امریکہ کی صورتحال کا جو نقشہ پیش کیا تھا اس کے مطابق پورے ملک میں جرائم کی ریل پیل ہے، بین الاقوامی سطح پر ہار رہا ہے، دہشت گردوں کے خطرے سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے اور صدر اوبامہ کے پورے دور میں اقتصادی مشکلات سے دوچار رہا ہے۔صدراوبامہ نے ان خدشات کے جواب میں عوام کو مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بلوں کی ادائیگی، بچوں کی حفاظت اور بیمار والدین کا خیال رکھنے جیسے معاملات پر یقیناًتشویش ہوگی۔ سیاسی بحران اور نسلی انتشار سے بددلی ہوتی ہوگی اور اولینڈو اور نائیس جیسے شہروں میں دہشت گرد حملوں سے صدمہ پہنچا ہوگا۔ ملک کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں کارخانے بند ہونے کے بعد واپسی کی امید نہیں ہے۔ امریکی عوام جو اپنے خاندانوں کو پالنے کیلئے محنت پر یقین رکھتے ہیں اب محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں نظرانداز کردیا گیا ہے۔ صدر اوبامہ نے عوام کو بتایا کہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں اسی سال کے بدترین اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا جس سے ہم باہر نکل آئے ہیں، مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بیروزگاری آٹھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور کاروباری اداروں نے ڈیڑھ کروڑ نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ ایک سو سال کی جدوجہد کے بعد اب امریکہ اس سطح پر پہنچ گیا ہے جہاں ہیلتھ کیئر چند لوگوں تک مخصوص رہنے کی بجائے اب ہر شہری کا حق بن چکی ہے۔ ہم ایک عشرے کی جدوجہد کے بعد بالآخر غیر ملکی تیل کے محتاج نہیں رہے اور ہم نے اپنی صاف توانائی کی پیداوار کو دگنا کردیا ہے۔ ہم نے اپنی زیادہ تر افواج کو واپس گھر بلاکر اپنے خاندانوں سے ملوا دیا ہے۔ ہم نے اسامہ بن لادن کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔ ایران کے جوہری ہتھیاروں کی پیداوار کے پروگرام کو ختم کیا ہے۔ کیوبا کے عوام کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا باب کھولا ہے اور پورے کرۂ ارض کے بچوں کو بچانے کیلئے دو سو ممالک کو ایک ماحولیاتی سمجھوتہ طے کرنے میں مدد دی ہے۔ ہماری پالیسیوں کے نتیجے میں طلباء کیلئے قرضوں کی وافر فراہمی اور بے گھر لوگوں کی تعداد آدھی ہوئی ہے۔ صدر اوبامہ نے کنونشن کے شرکاء کو بتایا کہ اس طرح ہمارے متعدد اقدامات کے باعث ہم نے ملک کو پہلے سے زیادہ خوشحال اور مضبوط بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقیناًمزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاہم ٹرمپ اپنے طور پر جو ملک کی مایوس کن تصویر پیش کر رہا ہے وہ اس کا اپنا ہی نظریہ ہے جس کا ری پبلکن پارٹی یا قدامت پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ اول -